Saudi Arabia proposes a new initiative to end Yemen war; offers ceasefire to Al Houthis

سعودی عربیہ نے پیر کے روز يمن میں پچھلے چھ سال سے چل رہے جنگی تنازع کو روکنے کے لیے سیاسی حل کا مسودہ پیش کیا ہے جسکا یمن کی عالمی تسلیم شدہ حکومت نے استقبال کیا اور ہوتی باغیوں سے ہتھیار ترک کرکے بات چیت کے لیے آنے کو کہا، اس مسودے میں سنہ ہوائی اڈے کو واپس سے شروع کرنے، ہودیدہ بندرگاہ سے کھانے پینے کے سامان، تیل اور دیگر برآمداد و درآمداد کی بحالی، یمن مرکزی بینک میں ٹیکس و مالگزاری کو جمعہ کرنا اور اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل ریزولوشن 2216 کِ تحت مکمّل جنگ بندی کہ اعلان شامل ہے،
سعودی عربیہ نے یمنی حکومت اور ہوتی سے اس مسودے کو تسلیم کرنے کی مانگ کیا ہے اور کہا کہ یہ یمنی عوام کے لیے بہتر ہوگا جو لمبے وقت سے اس تنازع کا شکار ہے اور مختلف مشقتوں میں مبتلا ہے، یہ انکے بہتر زندگی کِ حق کے لیے عظیم قدم ہوگا اسکے ساتھ عالمی کاروبار اور قوتی ضروریات کِ لیے بھی مفید ہوگا، اس مسودے میں یمن اور عرب خطے میں ایران کی ہر قسم کی مداخلت کو روکنے کو بھی کہا گیا ہے جو ہوتی کو دیگر ہتھیار، میزائل وغیرہ مہیّا کر رہا ہے،
اس مسودے کو وجود میں لانے میں اقوامِ متحدہ کے سفیروں اور اومان حکومت نے اہم کردار ادا کیا ہے اور متحدہ عرب امارات نے اس کا پُرزور استقبال کیا اور یمن کی ترقی کے لیے اقدامات اٹھانے کا وعدہ بھی کیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: