Right to protest can’t be anytime, everywhere: SC junks Shaheen Bagh review plea

عدالتِ اعظمٰی کا پچھلے سال شاہین باغ میں CAA قانُون کے خلاف احتجاج کے متعلق فیصلہ پر نظرِ ثانی کے عرضی پر سنوائی کرتے ہوئے اسے یہ کہہ کر خارج کر دیا کہ احتجاج کرنے کا حق کا یہ مطلب نہیں ہے کی اسے کہیں بھی اور کبھی بھی کیا جائے، عدالتِ اعظمٰی نے کہا کہ طبعی احتجاج تو کہیں بھی ہو سکتے ہیں لیکن طویل وقت کِ لیے احتجاج یا مظاہرات کِ لیے عوامی جگہوں کا انتخاب کرکے دوسروں لوگوں کی حق تلفی نہیں کر سکتے ہیں یہ جائز نہیں ہے،
پچھلے سال 7 اکتوبر کو اپیکس کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کی عوامی جگہوں پر غیر معین وقت کِ لیے احتجاج کرکے دوسروں کہ حق تلفی نہیں کر سکتے، جمہوریت اور اعتراض ساتھ ساتھ چلتے ہیں لیکن مظاہرات ایک مقرر جگہ پر ہونا چاہیے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: