Peace in Afghanistan not possible until Pakistan halts ‘proxy war’: Ex- Canadian Envoy

افغانستان میں کینیڈا کے سابق سفیر کرس الیگزینڈر نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک کہ پاکستان اس ملک میں “خفیہ پراکسی وار” روک نہیں دیتا ہے۔
کینیڈا کے سفارت کار نے طولو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج خصوصا ملک کی طاقتور فوجی انٹیلیجنس ، انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) ، “طالبان کو لیس” کرتی ہے اور انہیں افغان حکومت کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے بھیجتی ہے۔
کینیڈا کے سفارت کار کے مطابق ، طالبان پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے بات کرتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا ، “اگر عالمی برادری اکٹھا ہو کر پاکستان کے برے اور غیر قانونی سلوک کے خلاف آواز اٹھائے تو حالات بہت جلد بدل جائیں گے۔”
حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں ، سابق مندوب نے لکھا: “پاکستان کی فوج افغانستان اور کشمیر کے لئے قومی حکمت عملی کے حصے کے طور پر طالبان کی حمایت کرتی ہے جسکی پاکستان نے 1947 سے مستقل طور پر پیروی کی ہے، جب کابل نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ کیا تھا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: