Pakistan’s move to fence Gwadar may intensify the feeling of alienation in Balochistan

سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر گوادر کے بندرگاہ قصبے کو باڑ لگانے کے پاکستان حکومت کے منصوبے کے بارے میں میڈیا رپورٹس نے تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ بلوچ سیاسی جماعتوں نے اسے ایک سازش قرار دیا ہے اور اس کا ہر فورم پر مزاحمت کرنے کا عزم کیا ہے۔ یہ عدم اطمینان بلوچستان میں اسلام آباد کی زیرقیادت میگا معاشی ترقیاتی منصوبوں خصوصا طور پر اربوں ڈالر کی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے بارے میں وسیع پیمانے پر معاشرتی شکوک و شبہات کا ایک حصہ ہے۔
بلوچوں کا خوف ہے کہ عسکریت پسندی میں اضافہ سے ظلم و جبر اور شدت پیدا ہوگی اور لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہوگی۔ دوسری طرف ، اُنکا کہنا ہے کہ فوج سے چلنے والی معاشی مداخلت قانونی حیثیت اور مقامی ملکیت کے مسائل پیدا کرتی ہے۔
بلوچستان میں تمام جماعتوں کے سیاسی عناصر نے سی پی ای سی اور اس سے وابستہ عسکریت پسندی کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ گوادر میں مقامی آبادی خاص طور پر ماہی گیروں کا خیال ہے کہ انہیں اپنی ہی سرزمین میں بےگھر کیا جارہا ہے۔ گوادر کے قصبے میں باڑ لگانے سے ان کے بدترین خوف سچ ہو جائینگے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: