Nipping Bigoted Social Media in Bud Was Greatest Gain of Modi’s AMU Visit: Lt Gen Zameer Uddin Shah

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی انسانیت کا تجزیہ خانہ ہے،
یہ بیان سابق صدر ہندوستان ڈاکٹر ذاکر حسین نے اے ایم یو کے متعلق دیا جو کی حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ جس نے بھی کبھی اے ایم یو کا دورہ کیا یا وہاں سے تعلیم حاصل کیا اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس جامعہ میں مذہب سے اوپر اٹھ کر سبھی سے پرخلوص محبت اور کھلے دل سے استقبال کیا جاتا ہے،
جناب سر سید احمد خان کی نیو رکھی اس قدیم و عظیم جامعہ کے صدی سالگرہ پر وزیراعظم نریندر مودی کا مہمان خصوصی کے طور پر دعوت قبول کرنا، اپنے خطاب میں اسکی اجمت, مختلف شعبے، فن تعمیر، خوبصورتی اور ہم آہنگی کی مثال چھوٹے ہندوستان سے دینا اپنے آپ میں تعریف کے قابل ہے، اُنکا یہ پیغام ملک کے تمام شہریوں خاص کر اکثریت اور سبز بڑے اقلیت کے لیے ہے جو ایک دوسرے سے گاہے بگاہے تنازع میں مبتلا رہتے ہیں، اس جامعہ نے دنیا بھر کی معروف فہرستوں میں اپنے کام کے بنا پر مقام حاصل کیا اور ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کیا، لیکن اپنے ہی ملک میں کئی بار غلط وجوہات کے سبب بدنامی، رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا رہا، امید ہے کہ وزیرِ اعظم کی موجودگی جاہری اور باطنی طور پر نفابکش ہوگی، اے ایم یو اور اُسکے طلبہ کو تعصب کے چسمے نہیں دیکھا جائیگا بلکہ عوام اور پولیس سفقت سے پیش آئیگی،
طلبہ کی کچھ جماعتوں کی ناراضگی کے باوجود نائب امیر جامعہ وزیرِ اعظم کو دعوت دینا حکمتِ عملی کی بہترین مثال ہے، اور وزیر اعظم کا اقلیت طرح ہاتھ بڑھانا اور خطاب کرنا قابل تعریف ہے جو سوشل میڈیا پر اے ایم یو کے خلاف غیر مناسب مواد کو کم کرنے میں کارگر ثابت ہوگا، یققن یہ لوگو کے غلط نظریے کو تبدیل کرنے میں میل کا پتھر بھی ثابت ہوگا!

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: