‘Love jihad’ law’s victim: I fear my baby is dead…I want my husband back

22 برس کی پنکی انڈین ایکسپریس سے بات چیت کے دوران بتایا یا کہ وہ اپنے شوہر راشد کو واپس ساتھ چاہتی ہے، اور اسے خدشہ ہے کی اُسکی کوخ میں پل رہے تین مہینے کے بچے کو بغیر بتائے ختم کر دیا گیا ہے، مسلسل دوائی دینے کے باوجود بھی اُسکی تکلیف میں افاقہ نہیں ہوا، حالانکہ وہ بالغ ہے اور اپنے نکاح سے خوش ہے، اُسنے بتایا کہ جب دونوں اپنی شادی کی اندراج کرنے جا رہے تھے تبھی 10-15 مردوں نے اُنہیں گھیر لیا اور لو جہاد کے شک کے سبب رشید کی پیٹائی کیا اور پولیس کے حوالے کر دیا، اور لڑکی کو اسپتال بھیج دیا جہاں اُسکے ساتھ بدسلوکی کیا گیا،
حالانکہ پولیس نے پنکی کے دعویٰ کو خارج کیا اور کہا کہ کارروائی پنکی کی والدہ کی شکایت کی بنیاد پر کیا گیا تھا، جیسے اپنی بیٹی کا جبران مذہب تبدیل کرنے کا محفوظ شدہ بیان دیا تھا اور معاملہ ابھی عدالت میں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: