In Pakistan, the media is intimidated by both state and non-state actors

9 نومبر کو پاکستان عدالت اعظمی نے پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جیو کے مالک شکیل الرحمن کو 34 سال پرانے ایک معاملہ میں دس مہینے کی قید کے بعد ضمانت دی، انہیں ملک کی بیئیب تنظیم قومی محاسبہ بیورو نے گرفتار کیا تھا، یہ تو رہی بات حکومت کی جانب سے جابرانہ کارروائی کی، اس کے علاوہ پاکستان میں کئی ایسے گروہ و تنظیمیں اور علاقائی طاقتیں ہیں جو صحافیوں کی ناپسندیہ رپورٹ اور خبروں کی بنا پر اُنکے پیچھے پڑ جاتی ہیں اور انپر جان لیوا حملے تک کر دیتے ہیں یہاں تک کہ کی صحافیوں کو دردناک موت بھی دے چکے ہیں، اس فہرست میں پاکستان کی معروف صحافی مطیع اللہ جان جنہیں پچھلے سال جولائی میں اسلام آباد سے اغوا کر لیا گیا تھا اور انہیں مجید تکلیف دینے کے بعد اس بنا پر رہا کیا گیا وہ سبق سیکھ چکے ہیں، اس کے علاوہ صحافی اور قلم کار غل بخاری کو بھی کچھ گھنٹے کے لئے اگوا کیا جا چکا ہے، صحافی گل بخاری کے خلاف پاکستان نے برطانوی حکومت سے بھی شکایت کی ہے کہ وہ انکی سرزمین سے پاکستان کے خلاف بدعنوان حرکات کو انجام دیتے ہے، وہی پاکستان کے اعلی صحافی حامد میر جن کا شو کیپٹل ٹاک بہت معروف ہیں ان پر بھی کراچی کی سڑک پر کھلے عام حملہ کیا جا چکا ہے جس میں انھیں چھ گولیاں لگی، مجید حادثات میں سے بیان چند واقعات سے اندازہ لگ گیا ہوگا کہ پاکستان میں صحافت کرنا کتنا مشکل ہے جس میں حکومت اور غیر حکومتی طاقتیں صحافیوں کو ڈراتے دھمکاتے ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا کے پریس کی آزادی کے فہرست میں 180 ملکوں میں 145 ویں نمبر پر ہے،

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: