How Pakistan-North Korea axis is getting India, South Korea even closer with strong defense ties

پاکستان اور صومالی کوریا کے بیچ ایک زمانے سے چلے آرہے ہیں ہے فوجی معاہدہ اور ایٹمی ہتھیاروں کے تبادلہ ایک کھلا راج ہے، چیک جمہوریہ کی خفیہ ایجنسی نے حال میں جاری اپنی رپورٹ میں پاکستان – صومالی کوریا کے تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کیا، وہی جرمنی حکومت نے اس سال کے ابتداء میں ایک رپورٹ میں پاکستان اور صومالی کوریا کے ناجائز طریقے سے ایٹمی ہتھیار اور جرمنی کی کماپنیز کے جدید ترین تکنیک کو حاصل کرنے کی کوشش کی نشاندھی کی،
اس پس منظر میں ہندوستانی فوج کے مکھیا ایم ایم ناراونے کا جنوبی کوریا کے دورے نے دونوں ملکوں کے مابین فوجی ایام کِ نئی شروعات ہے جو پہلے معیشت اور کاروباری تعلقات کے طبی تھی،
یہ بات قابلِ غور ہے کہ سال 2016 میں مودی حکومت نے صومالی کوریا کے فوجی افراد کِ ہندوستانی زبان میں 2008 سے چل رہی مشق کو منسوخ کر دیا، یہ فیصلہ جنوبی کوریا کِ ساتھ افواجِ تعلقات میں رغبت کا سبب سے ہوا، یہی وجہ ہے کہ سال 2010 سے لگ بھگ سبھی ہندوستانی وزیر دفاع نے جنوبی کوریا کا دورہ کیا،
عالمی سطح پر بات کرے تو ہندوستان اور جنوبی کوریا کے مائیں کافی یکسانیت ہے، جیسے دونوں ملکوں نے اپنا بٹوارا دیکھا ہے، دونوں جمہوری ملک ہے لیکن اُنکا رقیب پڑھوشی فوجی تانا شاہی حکومت ہے اور دونوں خطے میں ایٹمی ہاتھیوں کی موجودگی ہے حتیٰ مخفی ہے،
اسکے علاوہ دونوں ملک میں بیچ چین کا سہل کار کے طور پر اہم کردار ہے،
ان سب کِ مدِ نظر ہندوستان اور جنوبی کوریا کے بیچ فوجی تعلقات اور تعاون ایک استحکام، محفوظ، کامیاب اور ہند – پیسیفک بہر کِ بہتری کے لیے بہت اہم ہے، اسک علاوہ بحری صنعتکاری، دفاعی سازوسامان اور دفاعی ادارہ قایم کرنے کی کافی امکانات ہے، جانب نراوانے کے دورہ ان سب رخ کو زمینی حقیقت میں تبدیل کرنے میں اہم قدم ثابت ہوگا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: