لبنان میں سیاسی بد امنی اور غربت کے خلاف مظاہرے

لبنان میں مظاہرین نے سیاسی تعطل اور شدید معاشی بحران کے خلاف شدید احتجاج کیا ، بڑی سڑکوں پر ٹائر جلائے اور انہیں بند کردیا۔ حمارا ہند کے مطابق ، ملک کی کرنسی میں زبردست گراوٹ کے بعد پیر کو شروع ہونے والی بدامنی منگل کے روز بھی جاری رہی۔

لبنان کو اس وقت گزشتہ کئی عشروں کے بعد بدترین معاشی بحران کا سامان ہے، جس میں کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کے باعث مزید شدت پیدا ہو گئی ہے۔

حمارا ہند کا کہنا ہے کہ قیمتوں نے آسمان کو چھوٹا کردیا ہے اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے ، لیکن منقسم سیاسی طبقہ چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے کابینہ تشکیل دینے میں ناکام رہا ہے۔ ۔

بیروت داخل ہونے والے اکثر راستوں پر، کچرے کے الٹے پڑے ڈرموں اور جلتے ہوئے ٹائروں سے گہرے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھ رہے تھے۔

بیروت کو جانے والی شمالی سڑک کو بند کرنے والے مظاہرین میں شامل پاسکیل نورا کا کہنا تھا کہ عوام نے تمام راستے بند کر کے سب کو بتا دیا ہے کہ اب ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں اور اب سب ختم ہو چکا ہے، یہاں تک کہ لوگ اپنا وقار بھی کھو بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سن 2019 کے وسیع پیمانے پر ہونے والے بین المذاہب و عقیدہ مظاہروں کو بحال کیا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سن 1975 سے 1990 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد، ملک پر قابض مورچہ بند سیاسی طبقے کے خلافہم سب کو یکجہتی کا اظہار کرنا ہو گا۔

اسی طرح کے مظاہرے ملک کے شمالی شہر ٹرپولی میں بھی ہوئے۔

لبنان کی کرنسی کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 2019 کے موسمِ خزاں کے بعد 80 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس وقت ایک ڈالر کے مقابلے میں لبنانی پاؤنڈ کی قدر گیارہ ہزار ہے۔

ایک ایسا ملک جہاں کی زیادہ تر خوراک، درآمد کی جاتی ہے، وہاں ریاست کی جانب سے اس میں سبسڈی یعنی امدادی رقم دیکر افراطِ زر کو کسی حد تک قابو میں رکھا گیا ہے۔

تاہم غیر ملکی زر محفوظ کی تنزلی کے سبب، حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہ زیادہ دیر تک سبسڈی نہیں دے پائیں گے۔

امیریکن یونیورسٹی آف بیروت میں قائم دی کرائسس آبزرویٹری نے متنبہ کیا ہے کہ صورتحال بد تر ہوتی جائے گی۔

لبنان کے صدر مشِل اون کا کہنا ہے کہ سڑکوں کو بند کرنا نا قابلِ قبول ہے، اور سیکیورٹی اور فوجی فورس اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سڑکیں ٹریفک کیلئے کھلی رہیں۔

انہوں نے حکام پر زور دیاکہ وہ خوراک کی قیمتوں میں ہیر پھیر کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

یونیورسٹی کالج ڈبلن کے ریسرچ فیلو، محمد فاؤر کہتے ہیں کہ لبنانی پاؤنڈ کی قدر کا تیزی سے گرنا، بحران کے آغاز سے زر مبادلہ میں تنزلی کے رجحان اور موجودہ پالیسی کی بے عملی کا پتا دیتا ہے۔

گزشتہ برس اگست میں بیروت میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے بعد، لبنان کی حکومت پوری طرح سے فعال نہیں رہی۔ اس دھماکے میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور دارالحکومت بیروت کے بہت سے علاقوں کونقصان پہنچا تھا۔

دھماکے کے بعد حکومت مستعفی ہو گئی تھی لیکن سیاسی طبقہ نئی کابینہ کی تشکیل میں ناکام رہا ہےجو اربوں ڈالر کی بین الاقوامی امداد کے حصول کیلئے درکار ہنگامی اصلاحات کر سکے۔

بین الاقوامی برادری نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ پبلک اور بینکنگ کے شعبوں میں اصلاحات کی جائیں، لیکن تجزیہ کار مائیک آذر کہتے ہیں کہ جلد ہی ایسا کچھ ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔

مائیک آذر کہتے ہیں کہ سیاسی قیادت کیلئے کچھ نہ کرنے اور آہستہ آہستہ تمام نقصانات کا رُخ عوام کی طرف موڑ کر اصلاحات کرنے کی بجائے ایک مزید غریب ملک پر حکومت کرنا آسان ہے۔

Photo Credit : https://media.npr.org/assets/img/2020/08/13/gettyimages-1228010912-5470afb47b54b93a370b584a79b04cfc4dc96a2b.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: