ہارٹ آف ایشیا کانفرنس: افغانستان میں سیاسی تصفیے کے لیے مستقل جنگ بندی پر زور

پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس کے بعد حکام پابندیوں میں سختی کے علاوہ عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

اتوار کو اپنے ایک مختصر ویڈیو بیان میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کرونا کی تیسری لہر، پہلی اور دوسری لہر سے زیادہ خطرناک ہے۔

پاکستان میں کرونا وبا کے حوالے سے قائم ادارے ‘نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر’ (این سی او سی) کے مطابق اس وقت پاکستان میں کرونا کے 46 ہزار متحرک کیس ہیں۔

این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ اموات صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں جب کہ اس کے بعد صوبہ پنجاب میں اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

این سی او سی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 41 افراد کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کے مختلف صوبوں میں کرونا کی صورتِِ حال

این سی او سی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کیسز صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں 22 فی صد، سوات میں 23 فی صد، نوشہرہ میں 19 فی صد، مالا کنڈ اور صوابی میں 12 فی صد ریکارڈ ہوئے ہیں۔

اِسی طرح صوبۂ پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور میں 17 فی صد، فیصل آباد اور راولپنڈی میں 15 فی صد، ملتان، سرگودھا اور سیالکوٹ میں 12 فی صد جب کہ گوجرانوالہ میں کیسز مثبت آنے کی شرح 10 فی صد تک جا پہنچی ہے

صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیرِ تعلیم شہرام خان نے کیسز بڑھنے پر صوبے کے مزید چھ اضلاع میں اسکولوں کو 11 اپریل تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 16 اضلاع میں اس وقت تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔

صوبے میں کورونا کی تیسری لہر کی وجہ سے حکومت نے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے آؤٹ ڈور وارڈ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے محکمہ صحت کے تمام ملازمین کے لئے ہفتے اور اتوار کی تعطیلات بھی منسوخ کردی ہیں

پنجاب کے کئی علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن

کیسز میں اضافے کے باعث حکومتِ پنجاب کی کرونا کابینہ کمیٹی نے صوبے میں سخت مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسمارٹ لاک ڈاون 12 فی صد سے زائد کرونا مثبت آنے والے شہروں میں لگایا جائے گا۔ کمیٹی کا اجلاس وزیرِ اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی زیرِ صدارت لاہور میں ہوا۔

اجلاس کے بعد وزیراعلٰی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاک ڈاؤن یکم اپریل سے 11 اپریل تک جاری رہے گا، تاہم کابینہ کمیٹی سات روز بعد اس کا ازسرِ نو جائزہ لے کر اقدامات کا فیصلہ کرے گی۔

عثمان بزدار نے کہا کہ اجلاس میں حکومتِ پنجاب نے لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ، میٹرو بسیں اور اورنج لائن ٹرین بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے بھر میں تمام کاروباری مراکز شام چھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔ تمام تفریح گاہیں، پارکس، ہوٹل اور ریستوران بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے مطابق ریستورانوں سے صرف ٹیک اوے اور پارسل کی سہولت ہو گی۔ تمام پابندیوں کا ااطلاق یکم اپریل سے ہو گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں ماسک پہننے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔

طبی ماہرین کے خدشات

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر قیصر سجاد کہتے ہیں کہ حکومت کو احکامات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہو گا۔

اُن کے بقول اگر صورتِ حال مزید بگڑ گئی تو پاکستان میں کرونا وائرس کی مزید لہریں آنے کا بھی اندیشہ رہے گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا پاکستان بھر میں کیسز کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اسپتالوں میں گنجائش کم پڑتی جا رہی ہے۔

پی ایم اے کے صدر نے کہا کہ پاکستان بھر میں ایک پالیسی کے تحت کرونا پر قابو پانا ہو گا جب کہ حکومت کو ویکسی نیشن مہم بھی تیز کرنی ہو گی۔

Photo Credit : https://hospitals.aku.edu/pakistan/COVID-19-Updates/PublishingImages/Covid-website-banner-02042020_v2.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: