43 امریکی ریاستوں میں دو تہائی سوئنگ ووٹر ریپبلکن ہو گئے، ڈیموکریٹس کے لیے خطرے کی گھنٹی

خبریں

امریکہ بھر میں ایک سیاسی تبدیلی رونما ہونا شروع ہوئی ہے اور وہ یہ کہ مضافات میں رہنے والے دسیوں ہزاروں سوئنگ ووٹر (یعنی ایسے ووٹر جو کسی ایک پارٹی کے ساتھ وابستگی نہیں رکھتے) جنہوں نے حالیہ برسوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے، اب ر یپبلکن پارٹی کی طرف جا رہے ہیں۔

ووٹروں کی رجسٹریشن کے تازہ ترین ڈیٹا کا تجزیہ کیا ہے اور نتیجہ اخذ کیا ہے کہ امریکہ کی 43 ریاستوں میں ایک ملین یعنی دس لاکھ سے زیادہ ووٹروں نے گزشتہ ایک سال کے دوران خود کو بطور ریپبلکن ووٹر رجسٹر کرایا ہے۔ یہ وہ تعداد ہے جو پہلے رپورٹ نہیں ہوئی اورملک کے ہر علاقے میں ایک رجحان کی عکاسی کرتی ہے بھلے وہ ریپبلکن یا ڈیموکریٹس کی اکثریت والی ریاستیں ہوں، شہر ہوں یا چھوٹے قصبے۔ یہ رجحان صدر جو بائیڈن کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جگہ عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد کے عرصے میں سامنے آیا ہے۔

یہ تبدیلی سب سے زیادہ مضافات میں نظر آتی ہے جہاں گزشتہ انتخابات میں زیادہ پڑھے لکھے ووٹروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اب یہ ووٹر واپس ریپبلکنز کی طرف آ رہے ہیں۔ یہ رجحان ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے بہت خطرناک خیال کیا جا رہا ہے۔

پچھلے ایک سال کے دوران کہیں زیادہ ووٹر ڈنیور سے اٹلانٹا اور پٹسبرگ اور کلیولینڈ تک مضافاتی کاونٹیوں میں ریپبلکنز کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔ ریپبلکنز نے درمیانے سائز کے شہروں جیسے ہیرسبرگ ، پنسلوینیا، نارتھ کیرولائنا، آگسٹا، جارجیا اور ڈیس موئنز آئیوا کی کاونٹیوں میں بھی مقبولیت حاصل کی ہے۔

37 سالہ بین سمتھ جو لاریمر کاونٹی کے رہائشی ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے بڑی ہچکچاہٹ کے ساتھ اس سال کے شروع میں خود کو ر یپبلکن ووٹر کے طور پر رجسٹر کرایا۔ اور اس کی وجہ ڈیموکریٹس کے لیے ان کے بڑھتے ہوئے تحفظات تھے کہ بعض علاقوں میں انہوں نے کووڈ نائنٹین کی ویکسین لگوانا لازم قرار دے دیا، پارٹی کے پر تشدد مظاہروں سے نمٹنے کی اہلیت نہیں تھی اور نسلی انصاف پر ان کی توجہ مرکوز تھی۔

 تجزیہ کیا ہے کہ سترہ لاکھ ووٹر وں نے ملک کی 42 ریاستوں میں ممکنہ طور پراپنی وابستگی تبدیل کی۔ اور ایک پولیٹیکل ڈیٹا فرم ایل ٹو کے مطابق یہ تبدیلی گزشتہ ایک سال کے دوران دیکھنے میں آئی ہے۔ ’ ایل ٹو‘ ریاستوں کے ووٹرز کے ریکارڈ اور اعدادوشمار کے ماڈل کے امتزاج سے پارٹی وابستگی کا تعین کرتی ہے۔ اگرچہ پارٹی بدلنا معمول کے برعکس نہیں ہے۔

لیکن پچھلے اس ایک سال کے دوران کل سترہ لاکھ سوئنگ ووٹرز میں سے دو تہائی نے ریپبلکنز اور چھ لاکھ تیس ہزار ووٹروں نے ڈیموکریٹس کا رخ کیا ہے۔

دس لاکھ سے زائد ووٹروں کا ریپبلکنز کی طرف جھکاؤ نومبر کے ان وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز کی وسیع تر کامیابی کی ضمانت نہیں ہے جو کانگریس میں کسی جماعت کی اکثریت یا درجن بھر ریاستوں میں گورنر کے انتخابات کے نتائج کا تعین کریں گے۔ ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ گزشتہ جمعے کو سپریم کورٹ کی طرف سے اسقاط حمل کےمسئلے پر ’ رو بنام ویڈ‘ فیصلے کی تنسیخ ان کے سپورٹروں میں نیا ولولہ پیدا کرے گی۔ تاہم اب بھی پارٹیاں تبدیل کرنے والے ووٹروں کی تعداد ڈیموکریٹس کے لیے خطرے کی بڑی گھنٹی ہے۔

ایسے میں جب وسط مدتی انتخابات میں چار ماہ کا عرصہ باقی ہے، ڈیموکریٹس کے پاس صدر جو بائیڈن کی گرتی ہوئی مقبولیت اور ووٹروں کی اکثریت کے دل میں ان خدشات سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں ہے کہ ملک درست سمت نہیں جارہا ہے۔ جبکہ ر یپبلکن پارٹی نے اپنے تئیں کچھ مسائل کے حل کی پالیسیاں دی ہیں اور وہ ڈیموکریٹس کی خامیوں سے فائدہ اٹھانے پر کام کر رہے ہیں۔

تصویر کریڈٹ : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/thumb/9/93/Republican_Disc.svg/1200px-Republican_Disc.svg.png