2021 اب تک کا پانچواں گرم ترین سال تھا، یورپی سائنس دان

موسمیاتی تبدیلی پر نگاہ رکھنے والے یورپی یونین کے ادارے، کوپرنیکس سی 35′ نے بتایا ہے کہ 2021 تپش کے ریکارڈ کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں گرم ترین سال تھا، جس کی وجہ کرہ ارض پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین گیس کی مقدار اونچی ترین سطح ہے جو ہماری زمین کو گرم کرنے کا سبب بنی۔

یہ گرم ترین سالوں میں سے ایک تھا، جس سے ماہرین کے مطابق اب یہ احساس مزید شدید ہو گیا ہے کہ کرہ ارض کو مزید گرم ہونے سے روکنے کے لیے فوری کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق، سال 2021 کے دوران درجہ حرارت کی شرح 1850 اور 1900 کے عشروں کے عرصے کے درجہ حرارت کے مقابلے میں ایک اعشاریہ ایک اور ایک اعشاریہ دو سینٹی گریڈ بلند رہی۔

پیر کے روز یورپی یونین کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ گزشتہ سات سالوں میں دنیا میں تپش کی سطح میں اضافہ ہوتا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صورت حال کو مزید خرابی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج آب و ہوا کو متاثر کرتا ہے۔ تاہم، گزشتہ سال کے اعداد و شمار پریشان کن ہیں جب تپش اور ریکارڈ قائم کرنے والا شدید موسم جاری رہا۔ اس عرصے کے دوران یورپ، چین اور جنوبی سوڈان میں سیلاب آئے جب کہ سائبیریا اور امریکہ کے قدرتی جنگلات میں آگ بھڑک اٹھنے کے واقعات نمودار ہوئے جس سے لاکھوں ایکٹر جنگلات جل کر خاکستر ہو گئے۔

سی 35 کے ڈائریکٹر، کارلو بونتپو نے بتایا ہے کہ ”اس موسمی صورت حال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ہمیں اپنے طور طریقے بدلنے ہوں گے اور ہمیں اپنی معاشرت میں بہتری لانے کے عمل میں سنجیدگی سے حصہ لینا اور کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے تیز تر اقدامات کرنے ہوں گے”۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین گیس، جو کہ گرین ہاؤس گیسز میں اضافے کا اصل سبب ہیں، تیزی سے بڑھتی رہی ہیں اور 2021 میں وہ اپنی ریکارڈ سطح پر تھیں۔

آب و ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح 10 لاکھ میں 414 اعشاریہ 3 ذرات کی پریشان کُن سطح پر تھی۔ سائنس دانوں نے بتایا کہ عام طور پر یہ سطح ایک ملین میں دو اعشاریہ چار ذرات کے لگ بھگ ہوتی ہے۔

یورپی یونین کے آب و ہوا سے متعلق ادارے نے مزید کہا کہ میتھین کی سطح میں بھی گزشتہ دو برس سے انتہائی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عام طور پر میتھین گیس کا اخراج تیل اور گیس کی پیداوار کے دوران یا پھر کھیتی باڑی یا مرطوب زمین اور جانوروں کا فضلہ ہوا کرتا ہے۔

سال 2021 کا موسم گرما یورپ کا اب تک کا گرم ترین سال تھا، اس سال پہلے مارچ کا مہینہ گرم تھا جب کہ اپریل غیر معمولی طور پر سردی پر مائل تھا، جس کے نتیجے میں فرانس اور ہنگری میں پھلوں کی فصلوں کو سخت نقصان پہنچا۔

جولائی اور اگست میں بحیرہ روم کے علاقے میں گرمی کی لہر چلی جس کے باعث جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی جس سے ترکی اور یونان شدید متاثر ہوئے۔ سسلی میں درجہ حرارت 48 اعشاریہ 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جو یورپ کے درجہ حرارت کے عام تناسب کے لحاظ سے اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت تھا۔ تاہم، اس ریکارڈ کی سرکاری طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔

گزشتہ جولائی کے دوران مغربی یورپ میں شدید بارشیں ہوئیں اور مہلک ترین سیلاب آئے، جن کے نتیجے میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ سائنس داں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے نتیجے میں اب سیلابی صورت حال میں 20 فی صد تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔

اُسی مہینے میں چین کے صوبہہونان میں سیلابوں سے 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ کیلی فورنیا میں شدید لُو چلنے سے اس امریکی ریاست کی تاریخ کی دوسری سب سے بڑی جنگل کی آگ لگی جس سے اراضی کا ایک وسیع رقبہ جل کر راکھ ہو گیا اور آلودگی میں شدید اضافہ ہوا۔

Photo Credit : https://gdb.voanews.com/967E638C-4726-4DB3-86BB-283F964F4D56_w1200_r1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.