یو کرینی اسپتال میں بچوں کی پیدائش، امید کی کرن ہو سکتی ہے

خبریں

یوکرین کے مغربی شہرلویو میں قائم میٹرنٹی اسپتال کی عمارت دور سے ہی نمایاں نظر آتی ہے، کیونکہ اس کے میٹرنٹی روم کو گولہ باری سے محفوظ بنانے کے لیے بڑی تعداد میں ریت کی بوریاں اس کی دیوار کے ساتھ لگا دی گئی ہیں۔

اس کے تہہ خانے میں جہاں روشنی نہ ہونے کے برابر ہے اور پانی کے پائپوں سے بچنے کے لیے ماں بننے والی خواتین کو کافی نیچے جھکنا پڑتا ہے، ایک ڈیلیوری ٹیبل بھی رکھ دی گئی ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے بچے کی پیدائش عین اس وقت ہو جب باہر ہوائی حملے کے سائرن بج رہے ہوں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں شدید جنگ جاری ہو، لوگ جان سے جا رہے ہوں، نئی زندگیوں کی آمد کا کچھ ایسا ہی انتظام کیا جا سکتا ہے۔

بچے کی پیدائش کے وقت بلکہ اس سے بھی پہلے کئی ماہ تک نہ صرف ماں بلکہ اس کے ساتھ گھر بھر ایک طرح کے تناؤ سے گزر رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں لویو کے اس اسپتال میں ماں بننے والی خواتین اور باقی لوگوں کی ذہنی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

24 فروری کو روسی حملے کے بعد سے طبی عمارتوں پر جن میں ماریوپول کا ایک میٹرنٹی اسپتال بھی شامل ہے، کم از کم 49 حملے ہو چکے ہیں۔

 مارچ میں ہونے والے اس حملے کے بعد ملبے سے ایک حاملہ خاتون کو نکال کر سٹریچر پر لیجانے کی تصور شائع کی گئی اور دنیا بھر نے عام شہریوں پر حملے کی ہولناکی کو دیکھا۔

ماں اور بچہ بعد ازاں جانبر نہ ہو سکے۔

روسی حملے سے بے گھر ہونے کے بعد ماں بننے والی 200خواتین اب تک لویو کے اس اسپتال میں لائی جا چکی ہیں۔

علاقائی پیرینیٹل سنٹر کی ڈائرکٹر ماریا مالاچنسکی کہتی ہیں ان میں سے 100 سے زیادہ کے ہاں بچے کی پیدائش ہو چکی ہے۔ وہ کہتی ہیں ان میں سے بعض ان علاقوں سے آئیں جن کے نام اب دنیا جان چکی ہے مثلاً ماریوپول، خارکیف، ڈونیٹسک اور کیف۔

ماں بننے والی خواتین کو ہر معاشرے میں ذہنی دباؤ اور پریشانیوں سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، چہ جائیکہ جنگ ہو اور گھر بار چھوڑنا پڑے۔ایسے میں یو کرین کی ان خواتین کی کیا حالت ہو گی اس کا اندازہ طبی ماہرین کو بخوبی ہے۔

مالاچنسکی کہتی ہیں،” جنگ کے باعث خواتین جس ذہنی دباؤ سے گزر رہی ہیں اس کا ان پر بہت اثر ہوتا ہے اور ہم نے بہت سی پیچیدگیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔”

لیلیہ مائیرونووچ لویو کے ایک اور میونسپل میٹرنٹی اسپتال میں نیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سر براہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ خواتین، خصوصاً دیگر اضلاع سے آنے والی خواتین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

ان کے سنٹر میں ایک عورت مسلسل روتی رہتی ہے۔ وہ ماریوپول سے آئی ہے اور اس محصور شہر سے نکلنے کا خوف اس پر اب بھی طاری ہے۔

زمانہ امن ہو تو ماں بننے والی خواتین کی خوراک اور آرام کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

مالاچنسکی کہتی ہیں،” یہ خواتین آئی تھیں تو بھوک سے بے حال تھیں۔ حتیٰ کہ ہم نے انہیں کپڑے اور بچوں کے استعمال کی اشیاء دیں۔ ان کے پاس تو اپنے بچے کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔”

کھڑکی سے باہر دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک نئے شیلٹر کی تعمیر جاری تھی جس میں وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کے انکیوبیٹر رکھے جائیں گے۔

اسی اسپتال کی اوپر کی منزل میں کیٹریانا گالمالووا اپنے بچے کی پیدائش کی منتظر تھیں۔ وہ مائیکولیف شہر سے جس پر اب روس کا قبضہ ہے، یہاں آئی ہیں۔

تین راتیں انہوں نے دھماکوں کے دوران برآمدے میں گزاریں، ” میرا بلڈ پریشر بہت بڑھ گیا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کیا کروں، کہاں جاؤں، بچہ کہاں پیدا ہوگا۔۔۔”

کیٹریانا صرف تن کے کپڑوں اور کچھ دستاویزات کے ساتھ گھر سے نکلی تھیں مگر لویو کے اس اسپتال میں اپنے ساتھ حسنِ سلوک سے وہ بہت متاثر ہوئی ہیں۔

پھر بھی ان کا کہنا ہے جنگ میں کوئی بچہ پیدا نہیں ہونا چاہئیے۔

روسی حملے کے بعد لویو یوکرین بھر سے ہزاروں لوگوں کے لیے ایک پناہ گاہ بن گیا ہے۔

یانا تنانا کینا اور ان کے شوہر بھی اسی اسپتال میں ہیں۔ اور عملے کے اچھے سلوک اور دیکھ بھال نے ان کی فکر دور کردی ہے۔ وہ کہتے ہیں ہر جنگ آخرِ کار ختم ہو جاتی ہے اور یہ بھی ختم ہو جائے گی۔ زندگی کبھی رکتی نہیں۔

اس کا اندازہ نتالیا سو ہوتشا کو دیکھ کر کیا جا سکتا تھا جو دارالحکومت کیف کے نواح میں ہوسٹومل کے علاقے سے اس اسپتال میں آئی تھیں۔ ان کے شوہر نے گھر سے نکلنے کے لیے انہیں صرف پانچ منٹ دیے اور وہ گھر سے نکلتے وقت صرف بچے کے کپڑے اور چند اور چیزیں اٹھا پائیں۔

لویو ان کا اور انکے والدین کا گھر ہے۔ ان کی والدہ ایک نرس ہیں جو ہوسٹومل ہی میں رہ گئیں۔

نتالیا اب خود ایک ماں ہیں۔ انہوں نے جڑواں بچیوں کو جنم دیا اور اب وہ اپنی زلاتا اور صوفیہ میں اپنے ملک کا مستقبل بھی دیکھتی ہیں۔

ان کی ماں نے کہا تھا وہ ڈلیوری کے وقت ان کے ساتھ ہوں گی۔۔۔ایسا نہیں ہو سکا۔۔۔شاید وہ کبھی اپنی نواسیوں کو دیکھنے کے لیے ان سے آملیں۔۔۔

یہاں پیدا ہونے والے ہر بچے کی ماں اس میں امید کی کرن دیکھ رہی ہے۔۔۔اس دن کی امید جب جنگ ختم ہو جائے گی اور تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوگا۔

تصویر کریڈٹ : https://i.insider.com/625d702fd2039d0019ba2e9f?width=1136&format=jpeg