یوکرین تنازع ہمیشہ جاری نہیں رہے گا، لیکن فی الحال جنگ بندی کے کوئی آثار نہیں، گوتریس

خبریں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بدھ کے روز کہا ہےکہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یوکرین میں امن سمجھوتے کے فوری امکانات موجود نہیں ہیں، لیکن انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی ادارہ امن کی کوششیں ترک نہیں کرے گا، اور یہ کہ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ یہ بے مقصد لڑائی رک جائے۔

ویانا میں آسٹریا کے صدر الیگزینڈر وینڈر بیلن کے ہمراہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، گوتریس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ عالمی ادارہ وہ سب کچھ کر رہا ہے جو اس کے بس میں ہے، تاکہ زندگیاں بچائی جاسکیں، انخلا میں مدد دی جاسکے اور انسانی ہمدردی کے امدادی کام میں ہاتھ بٹایا جاسکے۔

گو تریس کے بقول، ”یہ لڑائی ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتی۔ کچھ ایسے لمحات میسر آئیں گے جب بات چیت کی جاسکے گی اور امن مذاکرات کیے جائیں۔ ایسا لمحہ بھی آئے گا جب ، میرے خیال میں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکے گا”۔

یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ خارکیف کے شمال مشرقی شہر سے روسی افواج کو پسپا کرنے میں ملکی افواج کو خاصی کامیابی ہوئی ہے، جن پر فروری کے اواخر میں حملے کے بعد روسی فوج نے قبضہ کر لیا تھا۔

یوکرینی صدر، ولودیمیر زیلنسکی نے منگل کے روز اپنے خطاب میں محتاط طریقہ اپناتے ہوئے کہا تھا کہ’اچھی خبر موصول ہوسکتی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ‘قابض فورسز رفتہ رفتہ پیچھے دھکیلی جارہی ہیں”۔

زیلنسکی کے بقول، ‘لیکن میں اپنے تمام شہریوں پر زور دوں گا کہ وہ حد سے زیادہ جذبات نہ بھڑکائیں۔ ہمیں انتہائی درجے کے اخلاقی دباؤ کا ماحول پیدا نہیں کرنا چاہیے جس کے نتیجے میں روزانہ نہ سہی تو ہر ہفتے فتح کی توقعات پیدا ہوں”۔

یوکرین کے سربراہ نے بدھ کی علی الصبح جاری ہونے والی ایک ٹوئٹ میں امریکی ایوان ِنمائندگان کی جانب سے یوکرین کی فوجی اور انسانی ہمدردی کی امداد کے لیے تقریباً 40 ارب ڈالر مالیت کی منظوری دی ہے۔

اب یہ قانون سازی امریکی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش ہو گی، جس میں صدر جوبائیڈن کی جانب سے گزشتہ ہفتے تجویز کردہ امدادی رقم سے 7 ارب ڈالر اضافی رقم مختص کی گئی ہے۔

بائیڈن نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی جانب سے پینٹاگان کی ذخیرے سے اسلحہ اور عسکری سازو سامان بھجوانے کے صدارتی اختیارات کی حد تقریباً عبور کر لی گئی ہے۔

ایک بیان میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری، جین ساکی نے کہا ہے کہ اس بل میں شامل اضافی وسائل کی منظوری کے بعد ہمیں اس بات کی اجازت مل جائے گی کہ یوکرین کو توپخانہ، بکتر بند گاڑیاں اور گولہ بارود بھجوایا جاسکے۔ ساتھ ہی ہمارے لیے یہ گنجائش ہوگی کہ ہم اپنے اسلحے کے ذخیرے میں اضافہ کر سکیں اور امریکی فوج کی ضروریات اور نیٹو کے خطے کی حمایت جاری رکھ سکیں”۔

برطانیہ کی وزارت دفاع نے بدھ کو کہا ہے کہ یوکرین کی افواج ڈرون کی مدد سے روسی فضائی دفاع کے حصار اور بحری بیڑے کی کمک کے ذرائع کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئی ہیں، جب کہ روس زیمنی کے جزیرے پر قائم اپنے عسکری گیریژن کو تازہ دم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

تصویر کریڈٹ: https://peacekeeping.un.org/sites/default/files/field/image/732063.jpg