یوکرینی صدر روسی حملے کی امریکی وارننگ کو مسلسل نظر انداز کرتے رہے: صدر بائیڈن

خبریں

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے یوکرین کو بارہا خبردار کیا تھا کہ روس حملہ کرنے والا ہے، لیکن یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی یہ بات سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔

جمعے کو لاس اینجلس میں فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے ایسے وقت میں روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی حمایت کا اعادہ کیا جب یوکرین جنگ چوتھے ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔

صدر بائیڈن نے یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایسا کبھی نہیں ہوا جو اب یوکرین میں ہو رہا ہے، میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ کہیں گے کہ میں یہ بات بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہوں۔ لیکن ہمارے پاس ڈیٹا ہے جس کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ پوٹن یوکرین پر چڑھائی کریں گے۔ “

جنگ کے بعد یوکرین کے صدر کی دلیری اور عزم کو امریکہ سمیت دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے، لیکن جنگ شروع ہونے سے قبل اُن کی تیاری اور تخمینوں کے حوالے سے اُن کی قیادت پر سوال بھی اُٹھائے جاتے ہیں۔

چوبیس فروری کو روسی حملے سے چند ہفتوں قبل تک یوکرینی صدر عوامی سطح پر اس تشویش کا اظہار کرتے رہے کہ بائیڈن انتظامیہ بار بار یہ وارننگ دے رہی ہے کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے والا ہے۔

صدر زیلنسکی کو یہ بھی تشویش تھی کہ جنگ کے منڈلاتے بادل یوکرینی معیشت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اب یوکرینی حکام اس پر فکر مند ہیں کہ طویل ہوتی جنگ کی وجہ سے اس کے مغربی اتحادیوں کی حمایت میں کمی آ سکتی ہے۔

یوکرینی حکام کو خدشہ ہے کہ طویل ہوتی جنگ اور مغربی ملکوں کی حمایت میں کمی سے فائدہ اُٹھا کر روس یوکرین کو کسی سمجھوتے پر مجبور کر سکتا ہے۔ یوکرینی صدر جنگ کے آغاز کے بعد سے لے کر اب تک روس کے ساتھ کسی بھی سطح کے سمجھوتے سے انکار کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یوکرین کے یورپی اتحادیوں کے علاوہ امریکہ نے روسی جارحیت کے بعد سے لے کر اب تک یوکرین کو اربوں ڈالر کا فوجی سازو سامان فراہم کیا ہے۔

اکتیس مئی کو امریکی اخبار ‘نیو یارک ٹائمز’ میں لکھے گئے مضمون میں صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکہ یوکرین کو جدید راکٹ سسٹم فراہم کرے گا جس کے ذریعے وہ روسی اہداف کو مہارت سے نشانہ بنا سکے گا۔

صدر بائیڈن نے لکھا تھا کہ وہ یوکرینی حکومت پر عوامی یا نجی سطح پر ایسا کوئی دباؤ نہیں ڈالیں گے کہ وہ اپنی علاقائی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ کر لیں۔”

سیورو ڈونیسک کی لڑائی اہم کیوں؟

یوکرین کے صدر زیلنسکی سیورو ڈونیسک شہر میں جاری لڑائی کو اس جنگ میں نہایت اہم قرار دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ ایک مشکل جنگ ہے اور یہ مشرقی یوکرین کے ڈونباس خطے پر کنٹرول کے لیے فیصلہ کن ہو سکتی ہے۔

روس نے بھی حالیہ دنوں میں اپنی تمام تر توجہ اس خطے پر رکھی ہوئی ہے اور روسی حکام یہ توقع کر رہے ہیں ساڑھے تین ماہ سے جاری جنگ میں کامیابی اور کیف پر کنٹرول کے لیے سیورو ڈونیسک کا کنٹرول حاصل کرنااہم ہے۔

بدھ کی شب اپنے خطاب میں زیلنسکی نے کہا تھا کہ ڈونباس خطے کا مستقبل سیورو ڈونیسک میں جاری لڑائی سے جڑا ہے۔

خیال رہے کہ دریائے ڈونباس کے کنارے آباد شہر سیورو ڈینسک اور اس کے جڑواں شہر لیسی چانسک پر اب بھی یوکرین کا کنٹرول ہے اور یہ علاقے لوہانسک صوبے پر کنٹرول کے لیے یوکرین کی دفاعی لائن سمجھے جاتے ہیں۔ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لوہانسک کے 97 فی صد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

یوکرینی حکام کا کہنا ہے روس اپنی پوری قوت کے ساتھ سیورو ڈونیسک پر حملہ آور ہے۔ حکام کے بقول 10 ہزار سے زائد شہری سیورو ڈونیسک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

یورپی کمیشن کی سربراہ کی کیف آمد

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لیئن ہفتے کو یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے لیے کیف پہنچی ہیں تاکہ ملک کی تعمیر نو اور یورپی یونین کی رکنیت کی جانب پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ تعمیرِ نو کے لیے درکار مشترکہ اقدامات اور یوکرین کے یورپی یونین میں شمولیت کے معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

کیف میں ایک نامعلوم مقام سے بات کرتے ہوئےزیلنسکی نے ہفتے کو کہا کہ ان کا ملک “یقینی طور پر اس جنگ میں غالب آئے گا جو روس نے شروع کی ہے۔”

تصویر کریڈٹ : https://media.newyorker.com/photos/629a2022a0a025533773db38/master/w_2560%2Cc_limit/glasser-biden-midterms.jpg