ہیٹی کا بدنامِ زمانہ گینگ ’400 ہنڈرڈ مازوو‘ امریکی عیسائی مبلغین کے اغوا میں ملوث ہے: پولیس

ہیٹی میں اغوا اور قتل کی سفاکانہ وارداتوں کے حوالے سے بدنام ایک گینگ پر پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکہ میں قائم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ان 17 عیسائی مبلغین کے اغوا میں ملوث ہے جن میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔

’400 ہنڈرڈ مازوو‘ نامی گینگ نے ہفتے کو 17 امریکی عیسائی مبلغین کو دارالحکومت پورٹ او پرنس سے اس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ ایک یتیم خانے کا دورہ مکمل کر کے واپس جا رہے تھے۔

گروپ کا نام حکام کے مطابق، ان چار سو نا تجربہ کار مردوں پر مشتمل ہے جو کرائیکس ڈیس بوکوئٹس کے علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے جس میں گینتھیئر بھی شامل ہے جہاں وہ اغوا اور گاڑیاں چھیننے اور تاجروں سے سے بھتہ لینے میں ملوث ہیں۔

امریکی ریاست اوہائیو میں قائم تنظیم کرسچین ایڈ منسٹریز نے کہا ہے اغوا ہونے والا گروپ 16 امریکی شہریوں اور ایک کینیڈین پر مشتمل ہے۔ ان میں پانچ بچے، سات خواتین اور پانچ مرد شامل ہیں۔

ہیٹی میں حالیہ زلزلے کے بعد تباہی

کرسچین ایڈ منسٹریز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم ان لوگوں کے لیے دعا گو ہیں جنہیں یرغمال رکھا گیا ہے، اغوا کاروں کے لیے اور ان کے خاندان اور دوستوں کے لیے اور متاثرین کے چرچوں کے لیے۔ بطور تنظیم ہم صورتِ حال خدا کے سپرد کرتے ہیں اور اس پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔‘‘

تنظیم نے گزشتہ برس اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ہیٹی میں سیاسی انتشار کے سبب امریکی سٹاف نو ماہ کی غیر موجودگی کے بعد واپس ہیٹی پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ میں غیر یقینی اور مشکل صورتِ حال کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو اس عدم استحکام سے پیدا ہوئی ہے۔

ہیٹی کے صدر جووینل موئس کو سات جولائی کو ان کی نجی رہائش گاہ پر گولی مار کر ہلاک کر دیے جانے اور پھر حالیہ سات اعشاریہ دو شدت کے زلزلے کے بعد ایک بار پھر اس گینک کی اغوا کی وارداتوں میں اضافے کا سامنا ہے جو حالیہ مہینوں میں ختم ہو گئی تھیں۔

ایک سال قبل ہیٹی کی پولیس نے گینگ کے مبینہ سربراہ ولسن جوزف کو مطلوب گردانتے ہوئے ایک اشتہار جاری کیا تھا۔ ان پر قتل، قتل کی کوشش، اغواکاری، گاڑیوں کی چوری اور سامان سے بھرے ٹرک چھیننے کے الزامات تھے۔

جوزف نے، جن سے فوری طور پر ردِعمل کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا ہے، ایک وڈیو پوسٹ کی ہے جس میں ان جرائم کی تفصیل دی گئی ہے جن کا یہ گروپ حالیہ برسوں میں مرتکب ہوا ہے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے اپنا نام صیغۂ راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکہ اس مسئلے کے حل کے لیے ہیٹی کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

کرسچین ایڈ منسٹریز کا نام 2019 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب اس گروپ کے ہیٹی میں مقیم ایک سابق ورکر کو اوہائیو میں کم عمر افراد کے خلاف جنسی استحصال کا قصور وار پایا گیا تھا۔ چالیس سالہ جیریاح ماسٹ اوہائیو کی جیل میں نو سال کی سزا بھگت رہے ہیں۔ اوہائیو کے اخبار ‘ڈیلی ریکارڈ’ کے مطابق، سماعت کے دوران جج نے کہا تھا کہ ماسٹ نے ان کو بتایا کہ اس نے ہیٹی میں بھی پانچ سال کے عرصے میں 30 لڑکوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا۔

ہیٹی حکام کے مطابق، اغوا کی کارروائیوں میں اضافے کے دوران گینگز نے جو تاوان طلب کیا ہے اس کی رقم چند سو ڈالر سے لے کر ایک ملین ڈالر سے زائد تک ہے۔

Photo Credit : https://static.politico.com/8b/59/cefdcc964b22a739163a20bea8bd/210721-haiti-protest-getty-nl-700.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.