ہیلتھ ورکرز پر 2016ء سے 2020ء کے دوران 33 ملکوں میں اوسط سالانہ 3780 حملے ہوئے: ریڈ کراس کی رپورٹ


ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ پانچ برس قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کی جانے والی ایک قرارداد کے بعد بھی صحت عامہ کے نظام اور صحت کی دیکھ بھال پر مامور کارکنان اور مریضوں پر ہزاروں کی تعداد میں حملے جاری رہے ہیں۔

پانچ برس قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کی جانے والی اس قرار داد میں متنازعہ علاقوں میں صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ کارکنان کے خلاف قتل، ریپ اور جسمانی حملوں کےواقعات کے خلاف تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تھا اور ایسے حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

کمیٹی نے 2016ء سے 2020ء تک کے عرصے کے دوران 33 ملکوں میں اوسط سالانہ 3780 حملے ہونے کی رپورٹ دی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان میں سے دو تہائی حملے افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں کیے گئے، جس میں افغٖانستان ، جمہوریہ کانگو، اسرائیل اور زیر تسلط علاقہ جات اور شام شامل ہیں۔

اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایسے حملوں کی اصل تعداد کمیٹی کے پیش کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے تنظیم نے کہا ہے کہ دراصل متنازعہ علاقوں میں اعداد و شمار کو اکٹھا کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ کووڈ کی وبا کی صورت حال کے دوران بھی ان حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بیان میں آئی سی آر سی نے کہا ہے کہ سال 2020ء کے فروری سے جولائی تک کے مہینوں کے دوران، صحت کی دیکھ بھال کے کارکنان، مریضوں اور کووڈ سےنمٹنے کے کام سے وابستہ طبی انفرا اسٹرکچر کے خلاف 611 سنگین نوعیت کے حملوں کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے پُر خطر علاقوں سے متعلق ہیلتھ کیئر کے سربراہ، مرسی پولسکی نے بتایا ہے کہ جب معاملہ صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنے والے کارکنوں اور مریضوں کا ہو تو سیاسی عزم کا فقدان اور نبردآزما ہونے کی حکمت عملی کے سرے سے موجود نہ ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

پُرخطر علاقوں میں خدمات انجام دینے والے کارکنان اس بات کو یقینی بنانے پر مامور ہیں کہ متنازعہ علاقوں اور دیگر ہنگامی صورت حال کے دوران صحت کی سہولتوں کی فراہمی کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ جو ملک اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں، وہ آگے بڑھیں اور بہتر کارکردگی کی اچھی مثال قائم کریں۔

فلپو گیٹو ‘ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی’ میں ہیڈ نرس ہیں، جنھیں ایک بار ایک جنگجو نے اے کے 47 رائفل دکھا کر دھمکایا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ”ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ صحت عامہ سے وابستہ کارکنان کی خدمات کو سمجھیں۔ وہ کسی بھی ضرورتمند کی خدمت کے لیے میدان عمل میں نکلے ہوئے ہیں، چاہے وہ سفید، سرخ یا نیلی رنگت کے مالک ہوں یا ان کا تعلق حکومت یا کسی غیر سرکاری ادارے سے ہو۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی خود آپ کو طبی امداد کی ضرورت پیش آئے”۔

Photo Credit : https://dbsreligion.files.wordpress.com/2013/09/frk-flagga.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: