ہانگ کانگ: نئے سیکیورٹی قانون کے تحت 47 افراد پر فردِ جرم عائد

ہانگ کانگ کی پولیس نے قومی سلامتی کے نئے قانون کے تحت 47 جمہوریت پسند افراد پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ ان افراد پر تخریب کاری اور قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یہ فردِ جرم ایسے وقت میں عائد کی گئی ہے جب حالیہ دنوں میں ہانگ کانگ میں جمہوریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے۔

جن افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے اُن میں گزشتہ موسمِ گرما میں غیر سرکاری پرائمری انتخابات کا اہتمام کرنے والے جمہوریت پسند رہنما بینی ٹائی بھی شامل ہیں۔

جمہوریت پسندوں نے گزشتہ سال جولائی میں اپنی قانون ساز کونسل کے قیام کے لیے ایک غیر سرکاری پرائمری انتخابات کا انعقاد کیا تھا۔

بینی ٹائی کو 50 دیگر جمہوریت پسندوں کے ہمراہ چھ جنوری کو گزشتہ سال جون میں منظور کیے جانے والے سیکیورٹی قانون کے بعد کیے گئے کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتار ہونے والے کارکنان سے پوچھ گچھ کی گئی اور ان میں بعض نے کہا تھا کہ ان کے موبائل فون اور کمپیوٹرز چھین لیے گئے تھے۔

فردِ جرم عائد ہونے کے بعد بینی ٹائی نے ایک پیغام میں کہا کہ اُن کی ضمانت کے امکانات بہت کم ہیں۔

ہانگ کانگ پولیس نے جن لوگوں کو کارروائی کے لیے طلب کیا ان میں امریکی شہری اور انسانی حقوق کے وکیل جان کلینسی اور کئی نوجوان جمہوریت پسند بھی شامل ہیں۔

جمہوریت کے علمبرداروں نے کارکنان کو حراست میں لیے جانے کی مذمت کی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال ہونے والے اس غیر رسمی الیکشن میں 75 لاکھ کی آبادی کے شہر میں چھ لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔

ہانگ کانگ پولیس کے مطابق اب تک قومی سلامتی کے قانون کی خلاف ورزی کی بنا پر99 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان میں میڈیا کی نمایاں شخصیت جمی لائی بھی شامل ہیں۔ قانونی چارہ جوئی کے باوجود ان کی اور کچھ دوسرے افراد کی ضمانتیں منظور نہیں کی جا رہیں.

ہانگ کانگ سے متعلق چین کا نیا قانون کیا ہے؟

چین کے قانون ساز ادارے ‘قومی عوامی کانگریس’ کی کمیٹی نے گزشتہ سال جون میں قومی سلامتی کے ایک قانون کی منظوری دی تھی جو چینی ریاست سے اختلاف رائے کو ایک جرم قرار دیتا ہے۔

مذکورہ قانون کے مطابق جرائم کا مطلب دہشت گردی، تخریب کاری، علیحدگی پسندی اور بیرونی طاقتوں سے ملی بھگت کرنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا اصل مقصد مخالف آوازوں کو روکنا ہے۔

اس قانون کے تحت بیجنگ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں ایک سیکیورٹی فورس بنائے اور اسے قومی سلامتی کے معاملات کے مقدموں کی پیروی کی غرض سے ججوں کی تعیناتی کرنے کا بھی اختیار ہو گا۔

اس قانون کا متن اسی دن جاری کیا گیا جس دن سے یہ نافذ العمل ہوا۔ اس قانون کے جاری کرنے یا بنانے میں چین اور ہانگ کانگ کے قانون ساز ادارے میں کوئی تعاون یا تبادلہ خیال نہیں ہوا۔

تقریباً ڈیڑھ سو سال کے برطانوی نو آبادیاتی کنٹرول کے اختتام پر برطانیہ اور چین کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا کہ 1997 سے 2047 تک کی پچاس سالہ مدت میں ہانگ کانگ میں سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام چلتا رہے گا۔

معاہدے میں شامل تھا کہ ہانگ کانگ کے شہری ایسے انداز سے ہی زندگی گزارتے رہیں گے جیسے وہ برطانوی دور سے گزارتے چلے آ رہے ہیں۔

لیکن ناقدین کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں چین جیسے جیسے ایک بڑی اقتصادی قوت کی حیثیت سے اُبھرنے لگا اس نے ہانگ کانگ کو اپنے رنگ میں ڈھالنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

Photo Credit : https://newscdn2.weigelbroadcasting.com/JhDLA-1614564430-188585-blog-hypatia-h_a0396ff957b177a432df5217b2e283e1-h_a259e67fc914d40a8edbfec606aaa603.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: