ہارٹ آف ایشیا کانفرنس: افغانستان میں سیاسی تصفیے کے لیے مستقل جنگ بندی پر زور

کے اختتامی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں جامع اور مستقل جنگ بندی پر عمل کر نے سے ملک میں جاری تنازعہ کا سیاسی تصفیہ تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ جنگ بندی سے فریقین کویہ موقعہ ملے گا کہ وہ ملک میں کئی سالوں سے جاری لڑائی کے سیاسی حل پر متفق ہو سکیں۔

کانفرنس مین شریک ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ افغان تنازعہ کے سیاسی حل میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خواتین نوجوان اور اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ دیا جائے گا۔

خطے کے لیے افغانستان میں امن کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اعلامیہ میں افغانستان میں جاری تشدد کی لہر اور سول سوسائٹی کے نمائندوں، صحافیوں، اور انسانی حقوق کے علمبردار کارکنوں کی تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔

کانفرنس کے اعلامیہ میں افغان طالبان اور القاعدہ سمیت دوسرے دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعلقات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغانستان کی سر زمین کو پھر سے دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہ نہ بننے دیا جائے۔

اس سے قبل افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی تمام کوششیں ملکی آئین کے تحت ہونی چاہئیں۔ اُنہوں نے عبوری حکومت کی تجویز کی ایک بار پھر مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی مبصرین کی نگرانی میں شفاف انتخابات ہی مسئلے کا حل ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا دوشنبہ میں ہونے والی کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ 40 سال بعد افغان تنازع حل کے بہت قریب ہے۔ لہذٰا اس موقعے کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

وسطی ایشیا کے ملک تاجسکتان کے شہر دو شنبہ میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغانستان اور پاکستان سمیت 15 علاقائی ممالک کے مندوبین افغان امن عمل اور علاقائی تعاون پر تبادلۂ خیال کے لیے جمع تھے۔ اس کے علاوہ افغان امن عمل کے حمایتی دیگر 17 ممالک اور 12 علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی اس میں شریک ہوئے۔

کانفرنس کا مقصد افغانستان سمیت خطے کی سکیورٹی اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا تھا۔

کانفرنس میں ترکی کی میزبانی میں مجوزہ استنبول کانفرنس پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

افغانستان میں تبدیلی آئین کے تحت ہی آنی چاہیے

افغان صدر اشرف غنی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترکی میں ہونے والی ممکنہ افغان امن کانفرنس سے پہلے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ملکی آئین کے تحت کوششوں پر زور دیا۔

صدر اشرف غنی نے کہا کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے سمجھوتے یا معاہدے کے لیے افغانستان کے تمام طبقات پر مشتمل افغان لویہ جرگہ سے منظوری لینا لازمی ہو گی۔

افغان صدر نے کہا کہ اُن کی حکومت افغانستان میں سیاسی تصفیے کے لیے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر صدر غنی نے ایک مجوزہ امن منصوبے کے خدوخال کے علاوہ بین الاقوامی مبصرین کے زیرِ نگرانی انتخابات کے ذریعے ہی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر غنی نے کہا کہ افغانستان میں ایسی جنگ بندی ہونی چاہیے جس کی تصدیق بین الاقوامی سطح پر کی جا سکے۔

طالبان نے تاحال صدر غنی کے مجوزہ منصوبے اور جنگ بندی کی تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن طالبان ماضی میں افغان حکومت کی طرف سے جنگ بندی کی پیش کش کئی بار مسترد کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ایک عبوری حکومت کے قیام سمیت کئی دیگر تجاویز دے رکھی ہیں جن میں ترکی میں اقوامِ متحدہ کی میزبانی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ایک امن کانفرنس کی تجویز بھی شامل ہے۔ افغان صدر اشرف غنی عبوری حکومت کی مخالفت کر چکے ہیں۔

القاعدہ اور داعش اب بھی خطرہ

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان امن کوششوں کے لیے اسلام آباد کی حمایت کا اعادہ کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان تنازع کا واحد حل افغان دھڑوں کے مابین جامع مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ 40 سال سے تنازعات اور عدم استحکام سے دوچار افغانستان کی صورت حال میں بہتری کے اس سے قبل امکانات نہیں دیکھے گئے لہذٰا اس نادر موقع کو ضائع کیے بغیر آگے بڑھنا ہو گا۔

شاہ محمود قریشی نے بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر سے چوکنا رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ داعش اور القاعدہ کی وجہ سے دہشت گردی کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

کانفرنس کے دوران پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان صدر اشرف غنی، افغانستان، ترکی، ایران سمیت دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی اور ا فغان امن پر تبادلۂ خیال کیا۔

افغانستان میں قیامِ امن کی کوششوں میں تیزی ایسے وقت میں آئی ہے جب گزشتہ سال ستمبر میں شروع ہونے والے بین الافغان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جب کہ افغانستان میں تشدد کے واقعات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

تجزیہ کار نجم رفیق کا کہنا ہے کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس افغانستان میں قیامِ امن کے لیے بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے۔

ان کے بقول یہ کانفرنس افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اہم ہے جس سے علاقائی ممالک کی اجتماعی کوششیں مزید آگے بڑھیں گی۔

یاد رہے کہ حال ہی میں روس کی میزبانی میں افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ہونے والی علاقائی کانفرنس کے بعد امریکہ، روس، چین اور پاکستان نے ایک مشترکہ بیان میں طالبان سے موسمِ بہار کے حملے روکنے پر زور دیا تھا۔

دوسری جانب طالبان بھی تشدد میں کمی کا عندیہ دے چکے ہیں۔

رواں ماہ طالبان ترجمان محمد نعیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ انہوں نے تشدد میں کمی کا ایک منصوبہ پیش کیا تھا تاہم اُن کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی نہیں ہے۔ افغانستان کے امن و استحکام اور افغان تنازع کے پائیدار حل کے لیے ترکی نے 2011 میں ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس کی ابتدا کی تھی۔ اس عمل میں 15 ممالک شامل ہیں جب کہ 17 دیگر ممالک اور 12 علاقائی تنظیمیں اس عمل کی حمایت کرتی ہیں۔

Photo Credit : https://media3.s-nbcnews.com/i/newscms/2020_17/3322926/200424-us-soldiers-afghanistan-se1212p_8e1ba60fd90bc03750d2e56be6bd2b0a.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: