گیلانی کو نااہل قرار دینے کی تحریک انصاف کی درخواست مسترد

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ کی اسلام آباد سے جنرل نشست جیتنے والے اپوزیشن جماعتوں کے اُمیدوار یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دلوانے اور ان کا نوٹی فکیشن فوری روکنے کے لیے حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں یوسف رضا گیلانی کا نام کہیں نہیں آیا، کارروائی کرنا چاہتے ہیں لیکن شواہد ٹھوس ہونے چاہئیں۔

دورانِ سماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے تسلیم کیا کہ علی حیدر گیلانی ویڈیو معاملہ ایک اسٹنگ آپریشن تھا۔ پی ٹی آئی نے کمیشن سے فوری ایکشن لینے کا کہا ہے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کچھ نہیں ہے۔

علی حیدر گیلانی ویڈیو معاملے اور یوسف رضا گیلانی کی نااہلی اور نوٹی فکیشن روکنے کے معاملہ پر الیکشن کمیشن پنجاب کے رُکن الطاف ابراہیم قریشی کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے سماعت کی۔ یہ درخواست پی ٹی آئی کے فرخ حبیب نے دائر کی تھی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی اور اتحادیوں کے 180 ارکان تھے جب کہ اپوزیشن کے مجموعی اراکین اسمبلی 160 تھے۔ اگر الیکشن شفاف ہوتے تو حفیظ شیخ بڑے مارجن سے جیت جاتے۔ حکومتی اکثریت وزیرِاعظم کے اعتماد کے ووٹ میں سامنے آئی۔

علی ظفر نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی پی ٹی آئی کے ایم این ایز کو رشوت دیتے رہے۔ وزیراعظم نے معلومات آنے پر الیکشن کمیشن کو مداخلت کا کہا۔ ممبر سندھ نثار درانی نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن کو کب مداخلت کا کہا؟ جس پر علی ظفر نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے وزیرِاعظم نے الیکشن کمیشن کو کہا تھا۔

علی ظفر نے کہا کہ لوگوں کو پیسہ دیا گیا اور آئندہ الیکشن میں ٹکٹ کا لالچ بھی۔ دو مارچ کو میڈیا پر علی حیدر گیلانی کی ویڈیو سامنے آئی۔ علی حیدر گیلانی ووٹ نہ دینے پر ضائع کرنے کا طریقہ بتا رہے تھے۔

ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ جن سے ڈیل ہوئی ہے کیا پی ٹی آئی انہیں جانتی ہے؟ جن کے درمیان گفتگوہو رہی ہے۔ انہیں فریق کیوں نہیں بنایا؟ آپ خود کہہ رہے ہیں انہوں نے پیسہ لیا تو فریق کیوں نہیں بنایا؟

ویڈیو میں موجود پی ٹی آئی ارکان کے بیانِ حلفی آ جاتے تو بھی کچھ ہو جاتا۔ بار بار کہا جاتا ہے ارکان بک گئے ایسا لفظ کہنا بھی اچھا نہیں۔ جنہیں پیسے کی آفر ہوئی وہ بیانِ حلفی تو دیں۔ اس پر پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ میری نظر میں اراکینِ اسمبلی کو فریق بنانا لازمی نہیں۔

ممبر پنجاب نے ریمارکس دیے کہ رشوت لینےاوردینےوالا دونوں ہی گنہگار ہوتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ علی حیدر گیلانی کس سے گفتگو کر رہے ہیں؟ نہ ویڈیو میں پیسوں کا ذکر ہے نہ ہی ٹکٹ دینے کا۔

علی ظفر نے پی ٹی آئی کے دو ایم این ایز کیپٹن (ر) جمیل اور فہیم خان کا نام لیا اور کہا کہ علی حیدر گیلانی کی ان دو افراد سے گفتگو ہو رہی ہے۔ علی ظفر نے عدالت میں تسلیم کیا کہ علی حیدر گیلانی کے خلاف اسٹنگ آپریشن کیا گیا۔

الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں کارروائی ہو، لیکن اس کے لیے مواد آپ نے دینا ہے۔ الیکشن کمیشن ایسے کسی کا نوٹی فکیشن نہیں روک سکتا۔ انہوں نے کہا کہ نوٹی فکیشن ہونے کے بعد بھی کمیشن ممبران کو نا اہل کر سکتا ہے۔ ویڈیو میں یوسف رضا گیلانی کا نام کہیں نہیں آیا۔ چاہتے ہیں جذبات نہیں قانون کےتحت چلیں۔

علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ڈسکہ میں اپنے اختیارات کا بہترین استعمال کیا۔

ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ کیا فرانزک کے بغیر ویڈیو کو تسلیم کر سکتے ہیں؟ ممبر پنجاب الطاف ابراہیم نے کہا کہ جن 16 لوگوں کی بات ہو رہی ہے ان کے نام کمیشن کو دیں۔

علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے دو مارچ کو ہی ویڈیو پر درخواست دائر کی، یوسف رضا گیلانی کو 12 اضافی ووٹ ملے۔ علی حیدر گیلانی نے پریس کانفرنس میں ویڈیو کو تسلیم کیا۔

اس پر ممبر پنجاب نے کہا کہ ویڈیو میں لگتا ہے معاملہ نشان زدہ بیلٹ پیپر ملنے کا تھا۔ نشان زدہ بیلٹ پیپر ملے تو کوئی اپنا حق رائے دہی کیسے استعمال کرے گا؟

ممبر پنجاب الطاف ابراہیم نے کہا کہ یکطرفہ نہ چلیں رشوت لے کر مزے اڑانے والوں کو بھی یہاں لائیں۔ مستفید ہونے والوں کو بھی فریق بنائیں، آپ کیوں گھبرا رہے ہیں۔

اس موقع پر پی ٹی آئی نے ٹکٹ چلانے والی مریم نواز کی ویڈیو بھی کمیشن کو دی۔ اس پر الطاف ابراہیم نے کہا کہ مریم نواز نے یہ نہیں کہا کہ ٹکٹ دیا جائے گا۔ مریم نواز نے ٹکٹ چلنے کی بات کی ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ ہم نے یوسف رضا گیلانی کا نوٹی فکیشن روکنے کے لیے بھی درخواست دی ہے اس پر کل دلائل دوں گا۔ اس پر ممبر پنجاب نے کہا کہ الگ الگ درخواستیں چھوڑیں ایک ہی دائر کریں۔

Photo Credit : https://i.dawn.com/primary/2020/06/5ee4a7d4a7500.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: