گوجرانوالہ: جماعتِ احمدیہ کی قبروں کی بے حرمتی، پولیس نے کارروائی شروع کر دی

گوجرانوالہ: جماعتِ احمدیہ کی قبروں کی بے حرمتی، پولیس نے کارروائی شروع کر دی

پنجاب میں جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کی قبروں کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ واقعے میں قبروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور اُن کے کتبوں کو توڑا گیا ہے۔

قبروں کی بے حرمتی کا واقعہ رواں ماہ 10 فروری کو گوجرانولہ کے علاقے گھجوروالی میں پیش آیا جس میں نامعلوم افراد نے جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کی قبروں کونقصان پہنچایا ہے۔

جماعت احمدیہ کے مرکزی رہنما عامر محمود کہتے ہیں کہ وہ واقعہ کے خلاف پولیس کو درخواست دے رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اِس ضمن میں پولیس کو کارروائی کرنی چاہیے جو لوگ ذمہ دار ہیں اُن کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لینا چاہیے۔

 اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی قبروں کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2022 میں پنجاب ہی میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنےو الوں کی قبرروں کو گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور حافظ آباد میں نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ ملک بھر میں یہ تعداد 11 بنتی ہے۔

عامر محمود کا کہنا تھا کہ تلونڈی کے علاقے کھجور والی میں ایک مشترکہ قبرستان ہے، جہاں پر دوسرے مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ احمدیوں کی بھی قبریں ہیں۔ ایسے واقعات کا تسلسل سے ہونا تشویشناک ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں احمدی برادری کو تعصب اور نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ریاست کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گااور اِس بات کی یقینی بنانا ہوگا کہ تمام مسالک کو اپنے اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہو۔

 اِس سلسلے میں سٹی پولیس افسر گوجرانوالہ رانا ایاز سلیم سے رابطہ کیا لیکن وہ دستیاب نہ ہو سکے۔

سی پی او گوجرانولہ کے ترجمان سب انسپکٹر سلطان علی بتاتے ہیں کہ واقعہ پولیس کےعلم میں آ چکا ہے اور کارروائی شروع کر دی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کو کارروائی کرنے کے لیے کہہ دیا گیا ہے جس کسی نے بھی قبروں کو نقصان پہنچایا ہے، اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اِس سے قبل رواں سال پنجاب کے شہر وزیرآباد میں جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچایا گیا تھا جس میں اُن کی عبادت گاہ کے میناروں کو توڑا گیا تھا۔

اِسی طرح کا ایک اور واقعہ رواں سال فیصل آباد کے علاقے رتن میں پیش آیا تھا جہاں پر احمدیوں کی قبروں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

تصویر کریڈٹ : https://i.ucanews.com/ucanews/uploads/2022/02/check-pakistani-police-accused-of-desecrating-ahmadi-graves-62012848ca211_600.jpeg