گلگت میں گاڑی پر فائرنگ سے چھ ہلاکتیں، لواحقین کا لاشوں سمیت وزیر اعلی ہاوس کے سامنے دھرنا

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کی ایک وادی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چھ افراد کی ہلاکت کے بعد ہلاک شدگان کے لواحقین نے لاشیں وزیراعلی ہاوس کے سامنے رکھ کر احتجاج شروع کر دیا ہے ۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق فائرنگ کے واقعہ میں ملوث تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مگر متاثرین کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کی تعداد زیادہ تھی، لہذا تمام ملزمان کی گرفتاری تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔

گلگت بلتستان کے پولیس حکام کے مطابق، اہم سیاحتی علاقے وادی نلتر میں جمعرات کے روز نامعلوم حملہ آوروں نے ایک گاڑی پر جدید اور خود ساختہ ہتھیاروں سے فائرنگ کرکے چھ افراد کو ہلاک اور آٹھ کو زخمی کردیا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے صحافی فہیم اختر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پولیس نے اس واقعے میں ملوث تین ملزمان کو حراست میں لینے کا دعوی کیا ہے، مگر مظاہرین گرفتاریوں کی کارروائی سے مطمئین نہیں۔ انہوں نے وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیے دیا ہے۔ احتجاجی دھرنے میں متاثرین کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن بھی شرکت کر رہے ہیں۔ یہ علاقہ حساس سمجھا جاتا ہے، اس لئے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے یہاں پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

گلگت بلتستان کے قائم مقام انسپکٹر جنرل پولیس افضل محمود بٹ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے گرفتار ملزمان کے کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کر کے تحقیقات شروع کر دی ھیں اور اب تک تین ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں، جبکہ چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دیکر متعلقہ علاقوں کو روانہ کردی گئی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کا تعلق نلتر وادی سے ہے، جہاں پر زیادہ تر گوجر برادری کی آبادی ہے۔

مقامی صحافی فہیم اختر نے بتایا کہ نلتر وادی گلگت بلتستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں شامل ہے، لہذا اس قسم کے واقعات سے سیاحت کو فروغ دینے کے کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں اور وادیوں میں پچھلے چند برسوں سے انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک اور تجزیہ کار فیض اللہ فراق نے بھی تشدد کے ان واقعات کو سیاحتی سرگرمیوں کے لئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کئے جائیں۔

چند سال قبل، اسی علاقے میں نامعلوم عسکریت پسندوں نے ایک ہی روز مختلف علاقوں میں سکولوں کو جلایا تھا، جبکہ سکیورٹی فورسز پر حملوں میں متعدد اہلکاروں کو بھی ہلاک کیا گیا تھا۔

Photo Credit : https://www.rvcj.com/wp-content/uploads/2017/05/gun-shooting.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: