گلاسگو کانفرنس سے عالمی درجہ حرارت کم کرنے کے اہداف کیسے حاصل ہونگے؟

سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت گلاسگو میں موسمیاتی تبدیلی کی بین الاقوامی کانفرنس کے اختتام پر جاری کی جانے والی قرارداد کے مجوزہ مسودے میں زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کے لئے انتباہ اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کانفرنس میں شریک ملکوں نے طے کیا ہے کہ کوئلے کا استعمال کم کرنے میں ایک دوسرے کی مدد اور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بدھ کو اجلاس کے اختتام سے قبل ایک قرارداد کا مسودہ گردش کر رہا ہے جسے حتمی دستاویز کے طور پر آخری شکل دی جا رہی ہے۔

دستاویز کے مسودے میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ 2030ء تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو تقریباً نصف تک لانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، حالانکہ دنیا کی حکومتیں اب تک اس ہدف کی یاددہانی میں زیادہ تر غفلت سے کام لیتی رہی ہیں۔ ایک اہم اقدام کے طور پر اب شریک ممالک کوئلے کے روایتی ایندھن کے استعمال کو ترک کرنے اور متبادل توانائی کے استعمال کو اپنانے کی حوصلہ افزائی پر زور دیں گے۔ تاہم، مسودے میں تیل اور گیس کا استعمال ترک کرنے سے متعلق کوئی خاص تذکرہ موجود نہیں ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کی دو ہفتے سے جاری بین الاقوامی کانفرنس میں روس اور چین کے سوا اقوام متحدہ کے زیادہ تر رکن ملکوں نے شرکت کی ہے، اور اجلاس کی کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

چین اور بھارت جیسے ملکوں میں بجلی گھروں کو کوئلے سے چلایا جاتا ہے، جو ارزاں نرخ پر دستیاب ہے اور ان ملکوں میں بجلی پیدا کرنے کا ترجیحی ذریعہ ہے۔

ماحولیاتی تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم ‘گرین پیس’ کی ڈائریکٹر، جنیفر مورگن کا کہنا ہے کہ قرارداد کے مسودے میں کوئلے کا استعمال روکنے کو اولین اہمیت حاصل ہے، لیکن زیادہ تر ممالک اسے ختم کرنے کی کوئی تاریخ طے نہیں کر پائے، جس کے سبب اس وعدے کو مؤثر بنانا ممکن نہیں لگتا۔

مورگن ایک عرصے سے موسمیاتی تبدیلیاں روکنے کے لئے سرگرم ہیں۔ قرارداد کے مسودے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ”اس کا موسمیاتی تبدیلی کی ہنگامی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ اس کی منظوری سے سڑک پر کھڑے کسی بچے کو بھی اعتماد میں نہیں لیا جا سکتا’۔

اقوام متحدہ کی جانب سے منعقدہ اس اجلاس میں جن امور پر زیادہ گفتگو ہوئی ان میں تین اہم معاملات کو اب تک مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔ یعنی امیر ملک غریب ملکوں کو سالانہ 100 ارب ڈالر کی موسمیاتی امداد فراہم کریں گے، ان رقوم کا نصف بدتر ہوتی ہوئی عالمی تپش کا مقابلہ کرنے کے لیے استعمال میں لانے کی یقین دہانی اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی لانے کا وعدہ ۔ چونکہ امیر ملکوں نے مالیاتی نوعیت کا کوئی ٹھوس وعدہ نہیں کیا، اس لئے مبصرین کا کہنا ہے کہ غریب ملک مایوس ہوسکتے ہیں۔

تاہم، جن معاملات کو کانفرنس کے بقیہ چند دنوں کے اندر طے کرنے کی ضرورت ہے، ان سے متعلق مبصرین کا کہنا ہے کہ قرارداد کے مسودے میں ایک خوش کُن نقشہ ضرور کھینچا گیا ہے۔ کانفرنس جمعے کے دن ختم ہوجائے گی۔ لیکن ابھی کافی بحث و مباحثہ اور فیصلہ سازی کا کام باقی ہے۔ پھر جو بھی فیصلہ ہوگا اسے بقیہ اجلاسوں کے دوران متفقہ طور پر منظور کیا جائے گا، جب کہ اجلاس کے شرکا کی تعداد لگ بھگ 200 ہے اور “درپیش معاملات پیچیدہ ہیں”۔

ڈرافٹ میں کہا گیا ہے کہ ”موجودہ صدی کے لگ بھگ وسط تک گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو صفر ڈگری تک لایا جائے گا”۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام ملکوں سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ قدرتی یا مصنوعی ذرائع سے فضا میں اتنی گرین ہاؤس گیس خارج کریں جتنی آسانی کے ساتھ جذب ہوجائے۔ لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

جنیفر مورگن کے الفاظ میں ”بہت معذرت کے ساتھ، میں یہ تسلیم کرتی ہوں کہ امیر ملک موسمیاتی امداد کا وعدہ کرنے میں ناکام رہے ہیں”۔

ادھر، ماحول دوست توانائی پیدا کرنے کے نظام کے لیے اور موسمیاتی تبدیلی کی بدتر ہوتی ہوئی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے غریب ملک امیر ملکوں کی مالی امداد کے منتظر ہیں۔ غریب ملک اس بات پر برہم ہیں کہ اس ضمن میں کوئی ٹھوس بات طے نہیں ہو رہی ہے۔

ایک بیان میں، مالدیپ کے پارلیمان کے اسپیکر، محمد نشید نے کہا ہے کہ ”سب سے زیادہ متاثر ملکوں کو مالی امداد کے وعدے کا انتظار ہے، تاکہ آب و ہوا کے مضر اثرات سے بچنے میں مدد مل سکے”۔ وہ درجنوں ملکوں کے گروپ کے سفیر بھی ہیں جنھیں موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

بقول محمد نشید، مسودے میں کلیدی معاملات طے کرنے میں ابھی تک ناکامی کا سامنا ہے۔

آلڈن مائر ایک طویل عرصے سے یورپی تھنک ٹینک ‘اِی 3جی’ سے مبصر کے طور پر منسلک رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ”موسمیاتی تبدیلی کے اہداف کے حصول کے ضمن میں ترقی پذیر ملکوں کی امداد کے لیے رقوم کا بندوبست کرنا اہم معاملہ ہے، جو ابھی نہیں ہو پایا۔ پہلے اسے طے کیا جائے”۔

اس دستاویز میں سال 2015ء کے پیرس معاہدے کے اہداف کا اعادہ کیا گیا ہے؛ جس میں عالمی درجہ حرارت کو دو ڈگری سیلسئس (3.6 ڈگری فارن ہائیٹ) سے کم کرکے 1.5 ڈگری سیلسئس یعنی 2.7 ڈگری سیلسئس تک لانا شامل ہے، جو صنعتی دور سے قبل کا درجہ حرارت تھا۔ یہ ہدف اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ موسیماتی تبدیلی کے نتیجے میں کرہ ارض کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہو سکے۔

Photo Credit : https://images.hindustantimes.com/img/2021/11/01/1600×900/COP26_UN_climate_conference_Glasgow_global_warming_1635743997061_1635743997228.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.