گلاسکو کانفرنس: ‘دنیا کی اجتماعی تباہی کی اجازت مت دیں’


دنیا کے ایک سو سے زائد ملکوں کے سربراہان اسکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام کے ‘ہنگامی’ اقدامات کے مطالبے کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ ‘سی او پی چھبیس’ کہلانے والی ایک عالمی کانفرنس کے ذریعے دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر ماحول کو بچانے کے لیے فوری نوعیت کے اقدامات نہ کیے گئے تو بقول، برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کے، دنیا ‘تباہی سے دو چار’ ہو جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتریز کے مطابق دنیا کے ‘انسان اپنی قبریں خود کھود رہے ہیں’۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر بائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکہ 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پچاس سے باون فی صد تک کمی کر دے گا۔

ہمارہ ہند کے مطابق بارباڈوس کے وزیر اعظم میا موٹلی نے ان سمندری جزائر کی جانب سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سمندر کی سطح میں اضافے کے باعث معدوم ہو سکتے ہیں، عالمی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ کہ وہ لالچ اور خود غرضی کے راستے کو دنیا کی اجتماعی تباہی کی راہ ہموار نہ ہونے دیں۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ دو ہفتے تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کے وعدوں کے علاوہ ترقی یافتہ اور امیر ممالک کے لیڈر اس بات پر بھی غور کررہے ہیں کہ کس طرح موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں ترقی پزیر ملکوں کی مالی مدد کی جائے۔

میزبان برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے افتتاحی اجلاس میں اس مسئلے کی فوری اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ انسانیت ایک طویل عرصے سے اس مسئلے کے حل کی منتظر ہے۔ اگر آج بھی ہم اس بارے میں سنجیدہ نہ ہوئے تو پھر اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں بہت تاخیر ہو جائے گی۔

صدر بائیڈن نے پہلے روز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا کے سامنے یہ بات ثابت کردیں گے کہ امریکہ نہ صرف گفت و شنید کے لیے میز پر واپس آچکا ہے، بلکہ اس کاوش کی قیادت کی ایک ٹھوس عملی مثال پیش کرے گا۔

بقول ان کے، ” مجھے معلوم ہے کہ ماضی میں ایسا نہیں ہوپایا، اور یہی وجہ ہے کہ میری انتظامیہ مصمم ارادے سے کام کر رہی ہے کہ محض الفاظ نہیں بلکہ موسمیات کی تبدیلی سے متعلق عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے”۔

ان نئے اہداف میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نئے وعدوں پر عمل درآمد شامل ہوگا ، تاکہ گزشتہ عالمی سمجھوتوں کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔

اس ضمن میں تین ارب ڈالر کی لاگت سے موسمیاتی تبدیلی سے آگہی کے حوالے سے کام کرنے کے صدر کے ہنگامی منصوبے کی رونمائی کی جائے گی، جس میں مالیاتی اعانت اورحالات کے مطابق عملی اقدامات کو فروغ دینااور داخلی طور پر قانون سازی پر دھیان مرکوز رکھناشامل ہے، جس کا مقصد امریکہ کے زیریں ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہے، جب کہ 2030ء تک گرین ہاؤس گیس کی آلودگی کو ایک ‘گیگا ٹن’ کے تناسب سے کم کرنے کا ہدف حصول کیا جائے گا۔

کانفرنس سے قبل موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں امریکہ کے خصوصی ایلچی جان کیری نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سربراہی کانفرنس کا مقصد عالمی سطح پر اس کے بارے میں آگہی کو اجاگر کرنا ہے۔

کیری نے کہا کہ دنیا کے ممالک اس سلسلے میں اپنے ایسے اقدامات کا وعدہ کریں جو پورے عشرے پر محیط ہوں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے معشیت پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہمیں اس کے لیے فنڈز مختص کرنے کے ساتھ ساتھ ترقی پزیر ملکوں کی مدد کے بارے میں بھی کچھ کرنا ہوگا۔

جان کیری نے کہا کہ جس طرح سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے بہت سے آباد علاقے سمندر کے نیچے آجائیں گے اور دنیا کے سامنے لاکھوں لوگوں کی ترک مکانی کا مسئلہ ہوگا۔ اس کے ساتھ خوراک کی قلت کا بھی اندیشہ ہے۔ ہم ان مسائل کی سنگینی کا ادراک نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے حل لیے عالمی سطح پر اقدامات اٹھانے کی فوری ضرورت ہے۔

اس سے ایک دن قبل روم میں جی 20 ممالک کی دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر ان ملکوں کے لیڈروں نے اس صدی کے وسط تک کاربن کے اخراج کو ختم کرنے اور اس سال کے آخر تک بیرون ملک کوئلے کے پلانٹس میں سرمایہ کاری کو بند کرنے پر اتفاق کیا۔ تاہم، ملک کے اندر کوئلے کے استعمال کی مرحلہ وار کمی پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوئٹرس نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں لکھا کہ “میں جی 20 کی عالمی حل کے سلسلے میں کی جانے والی سفارشات کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ تاہم، روم میں ہونے والی اس کانفرنس سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں، مگر امید کی کرن اب بھی باقی ہے،،

اتوار کو جاری ہونے والے اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ پیرس معاہدے کی تعمیل کرتے ہوئے گلوبل وارمنگ کو ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سیلیس کی سطح تک محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

اتوار کو صدر بائیڈن نے روم میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور روس نے موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں کوئی وعدہ نہ کر کے اپنی عدم دلچسپی سے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ لیکن جن لیڈروں نے اس کانفرنس میں شرکت کی، انہوں نے مناسب پیش رفت کی ہے۔
صدر بائیڈن نے مزید کہا کہ ابھی اس بارے میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم اس بات پر بھی توجہ مرکوز رکھیں کہ دیکھیں کہ چین، روس اور سعودی عرب کیا نہیں کر رہے ہیں۔

ماحولیات کو بچانے کے لئے عالمی رہنما اس قدر سرگرم کیوں؟

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ڈیلاویئر یونیورسٹی میں توانائی اور ماحولیات کے پرفیسر ڈاکٹر سلیم علی کا کہنا ہے کہ اسوقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ چین کی معیشت امریکہ کے بعد تقریباً دوسرے نمبر پر ہے اور اسکا کوئلے کی توانائی کے استعمال کے سبب کاربن گیس کا اخراج بہت زیادہ ہے، جو عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

ہمارا ہند سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ چین کہتا ہے کہ وہ 2060 تک کاربن کے اخراج کو صفر تک کم کر دے گا لیکن اس وقت تک نقصان کافی ہو جائے گا۔

انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ کا موقف یہ ہے کہ چین خود کو ترقی پذیر ملک کہتا ہے لیکن اسکی اقتصادی ترقی اور دولت اتنی ہے کہ اسے ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں شامل ہونا چاہئے۔

ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ اس لحاظ سے چین کو کوئلے کی توانائی کے سلسلے میں وہ رعایت نہیں ملنی چاہئے جو ان ملکوں کو مل رہی ہے جو واقعی ترقی پذیر ممالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی اور تناؤ بھی ماحولیات کی درستگی کی کوششوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا اسی طرح بھارت کی جو اقتصادی ترقی کی کوششیں ہیں انکا بھی ماحولیات پر بھاری منفی اثر پڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ اسی لئے اب اس ہدف کے ساتھ ساتھ زیادہ توجہ اس بات پر بھی دی جارہی ہے کہ جو بھی ماحولیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں جب تک ان پر پوری طرح قابو نہ پالیا جائے تو اس کے منفی اثرات کے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا۔

ڈاکٹر زبیر اقبال نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا نے جس طرح انفرادی ملکوں اور بطور مجموعی عالمی معیشت کو متاثر کیا خاص طور پر غریب ملکوں کی معیشتوں پر جس طرح اثر ڈالا ہے، اس کے اثرات سے کس طرح نمٹا جائے، یہ بھی کانفرنس کے ایجنڈے کا ایک اہم موضوع ہے۔

بقول ان کے، آئی ایف ایم نے اس مقصد کے لئے جو رقم رکھی تھی یا ‘اسپیشل ڈرائنگ رائٹس’ جاری کئے تھے، توقع ہے کہ امیر ملک اس میں سے 100 بلین ڈالر کے مساوی رقم غریب ملکوں کو استعمال کے لئے دینے پر راضی ہو جائیں گے۔ اور اس طرح، یہ وسائل نہ صرف ان غریب ملکوں میں ویکسین لگانے کے لئے بلکہ اقتصادی پیداوار کو آگے بڑھانے کے لئے بھی استعمال ہو سکیں گے۔

Photo Credit : https://kesq.b-cdn.net/2021/11/hypatia-h_23f7e6403a040bfa26c43dc564a28263-h_45d3027233163d2935450d0928855c3e-300-scaled.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.