کیپٹل ہل پر دوبارہ حملے کا خدشہ ہے: پولیس چیف کا انتباہ

امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل کی سیکیورٹی کی ذمے دار قائم مقام پولیس سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے کانگریس سے خطاب کے دوران کیپٹل ہل پر دوبارہ حملے کا خدشہ ہے، لہذٰا سیکیورٹی سخت رکھنا ناگزیر ہے۔

کیپٹل ہل کے اطراف اضافی سیکیورٹی برقرار رکھنے کی حامی قائم مقام پولیس سربراہ یوگانانڈا پٹ مین نے جمعرات کو کانگریس کمیٹی کو بتایا کہ انتہا پسند عناصر صدر بائیڈن کے کانگریس سے خطاب کے دوران کیپٹل ہل کو دوبارہ نشانہ بنا سکتے ہیں۔

پٹ مین نے بتایا کہ “چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والی ملیشیا کے کارکنوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ امریکی صدر کے خطاب کے دوران پھر عمارت پر حملہ کریں گے۔”

پٹ مین نے کانگریس کمیٹی کو بتایا کہ جب تک ہم ان خطرات سے نمٹ نہیں لیتے، اس وقت تک کانگریس کی عمارت کے ارد گرد سیکیورٹی کی موجودہ صورتِ حال برقرار رکھی جائے۔

صدر بائیڈن کے کانگریس سے خطاب کی تاریخ کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم عام طور پر سال کے آغاز پر یہ خطاب ہوتا ہے۔

چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر ہلاکت خیز حملے کے بعد عمارت کے اطراف خاردار تاریں اور چیک پوائنٹس قائم کر دی گئی تھیں جہاں نیشنل گارڈز اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لگ بھگ پانچ ہزار نیشنل گارڈز مارچ کے وسط تک یہاں تعینات رہیں گے۔

خیال رہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں نے چھ جنوری کو اُس وقت کیپٹل ہل پر دھاوا بول دیا تھا جب اراکینِ کانگریس بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کے لیے جمع تھے۔

سابق صدر ٹرمپ پر مجمعے کو اُکسانے کے الزامات لگائے گئے تھے اور انہی الزامات کی بنا پر عہدے سے سبکدوشی کے بعد اُن کے خلاف کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مواخذے کی کارروائی بھی چلائی گئی۔ تاہم سابق صدر ڈیموکریٹس کی جانب سے عائد کردہ الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

سابق صدر کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اُنہوں نے صرف اپنے حق کے لیے لڑائی جاری رکھنے کا بیان دیا تھا جب کہ کیپٹل ہل پر حملے کے دوران اُنہوں نے مظاہرین کو صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل بھی کی تھی۔

سابق صدر کے مواخذے کی کارروائی کے دوران اُن کے وکلا کا یہ مؤقف تھا کہ موقع پر موجود مظاہرین نے اپنے طور پر یہ کارروائی کی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کوئی کردار نہیں تھا۔

اس حملے کے دوران اراکینِ کانگریس کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تھے جب کہ اس دوران تشدد کے واقعات میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان حملوں کے الزامات کے تحت لگ بھگ 200 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی گئی تھی جن میں سفید فام انتہا پسند تنظیم ‘پراؤڈ بوائز’ اور ‘اوتھ کیپرز’ کے کارکن بھی شامل ہیں۔

Photo Credit : https://dynaimage.cdn.cnn.com/cnn/digital-images/org/47e1fb43-3195-436d-a9bd-b6987e27e958.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: