کیپٹل ہل پر حملہ ‘کھلی بغاوت’ کے مترادف تھا: تحقیقاتی پینل

خبریں

امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر حملے کی تحقیقات کرنے والے پینل نے پہلی عوامی سماعت پر اُس روز پیش آنے والے واقعات سے متعلق ڈرامائی فوٹیجز اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے انٹرویوز کے متن جاری کر دیے ہیں۔

جمعرات کی شام کانگریس کی ہاؤس کمیٹی نے دو گھنٹے تک براہِ راست نشر ہونے والی سماعت کے دوران چھ جنوری کو سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کے کیپٹل ہل پر حملے اور ٹرمپ کی شکست کے بعد نتائج پلٹنے کی کوشش کے واقعات سے پردہ اُٹھایا۔ کمیٹی رواں ماہ اس نوعیت کی سات سماعتیں منعقد کرے گی۔

حالیہ دنوں میں تحقیقاتی پینل کے نتائج کی تفصیلات منظرِ عام پر آتی رہی ہیں، تاہم پینل کے چیئرمین بینی تھامسن کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات چھ جنوری کو پیش آنے والے واقعات اور ان کے محرکات کی حقیقت سامنے لائی ہیں۔

بینی تھامسن نے سماعت کے آغاز میں کہا کہ “چھ جنوری کا حملہ کھلی بغاوت کے مترادف تھا۔”

اُن کا کہنا تھا کہ کیپٹل ہل پر حملہ انتخابی نتائج کو پلٹنے کے لیے ایک بڑی سازش تھی اور ٹرمپ اس سازش کا مرکز تھے۔

بینی کا کہنا تھا کہ ” اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی آئین کے مقامی دُشمنوں کو اُکسایا کہ وہ کیپٹل ہل کی طرف مارچ کریں اور امریکی جمہوریت کو تباہ کر دیں۔”

یاد رہے کہ چھ جنوری 2021 کو کیپٹل ہل پر ہنگامہ آرائی ہونے سے قبل ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ کیپٹل ہل پر اپنے پورے زور سے لڑیں تاکہ قانون ساز موجودہ صدر جو بائیڈن کی نومبر 2020 کے الیکشن میں ان کے خلاف کامیابی کی توثیق نہ کر پائیں۔

اس کے بعد سابق صدر ٹرمپ کے لگ بھگ دو ہزار حامیوں نے کیپٹل ہل پر چڑھائی کر دی تھی۔ وہاں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران امریکی کانگریس کے اراکین کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

صدر بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کے لیے ہونے والے سیشن کی صدارت اس وقت کے نائب صدر مائیک پینس کر رہے تھے، اُن سمیت کانگریس کے دیگر اراکین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔ بعدازاں شام کو صورتِ حال کنٹرول پر آنے کے بعد کانگریس نے صدر بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کر دی تھی۔

کیپٹل ہل پر حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہل کار سمیت سات افراد ہلاک جب کہ 150 کے لگ بھگ پولیس اہل کار زخمی بھی ہوئے تھے۔

تحقیقاتی پینل کے چیئرمین بینی تھامسن نے مزید بتایا کہ “ٹرمپ کی حوصلہ افزائی پر بلوائیوں نے پرامن انتقالِ اقتدار کی 220 سالہ روایت کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔”

پینل کی وائس چیئر پرسن لز چینی نے سماعت کے دوران بتایا کہ ٹرمپ نے فراڈ اور دھاندلی کے الزامات عائد کر کے انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ حالاں کہ اُن کے مشیروں نے اُنہیں بتایا دیا تھا کہ وہ الیکشن ہار چکے ہیں۔

عوامی سماعت کے دوران کچھ ویڈیوز بھی دکھائی گئیں جن میں سابق صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ٹرمپ کے ان دعووں پر یقین نہیں کر رہے تھے کہ صدارتی الیکشن میں فراڈ ہوا۔

سابق اٹارنی جنرل ولیم بر کا انٹرویو بھی سماعت کے دوران دکھا گیا گیا جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اُنہوں نے سابق صدر ٹرمپ سے کہہ دیا تھا کہ انتخابی فراڈ سے متعلق اُن کے دعوے ‘بالکل فضول’ ہیں۔ پینل کے سامنے اپنے بیان میں ایوانکا ٹرمپ نے بھی ولیم بر کے اس مؤقف کو تسلیم کیا تھا۔

لیکن اس کے باوجود ٹرمپ نے محکمۂ انصاف پر دباؤ ڈالا تھا کہ انتخابات کو فراڈ قرار دیں اور ریاستوں سے بھی کہیں کہ محکمۂ انصاف کو دھاندلی کے شواہد موصول ہوئے ہیں۔

سماعت کے دوران لز چینی نے کہا کہ کیپٹل ہل پر چڑھائی اور وہاں ہونے والے تشدد کے باوجود ٹرمپ اپنے حامیوں کا دفاع کرتے رہے۔

چینی نے بتایا کہ “ٹرمپ نے بلوائیوں کو بلایا، اُنہیں حملے کی ترغیب دی اور حملے کے لیے آگ کا شعلہ بھڑکایا۔”

ٹرمپ کے ایک سابق مشیر کی گواہی کا حوالہ دیتے ہوئے لز چینی نے بتایا کہ “جب ٹرمپ کو یہ بتایا گیا کہ اُن کے حامی کیپٹل ہل کے باہر جمع ہیں اور مائیک پینس کو پھانسی پر لٹکانے کے نعرے لگا رہے ہیں، تو اس کے جواب میں اس وقت کے صدر نے کہا کہ شاید وہ ٹھیک مطالبہ کر رہے ہیں۔ پینس اسی سلوک کے مستحق ہیں۔”

کانگریس کی ہاؤس کمیٹی کیپٹل ہل پر حملے کی آئندہ سماعت پیر کو کرے گی۔ اس سیشن کے حوالے سے لز چینی نے بتایا کہ اس میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی فراڈ کے دعووں پر بات ہو گی۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے گزشتہ برس جولائی میں کیپٹل ہل پر حملے کی تحقیقات کے لیے نو رُکنی ہاؤس کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں سات ڈیمو کریٹ جب کہ دو ری پبلکن اراکینِ کانگریس شامل ہیں۔

کمیٹی اراکین اور عملے نے ایک ہزار کے لگ بھگ عینی شاہدین اور ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد دستاویزات کا جائزہ لیا جب کہ 100 کے قریب افراد کو گواہی کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

ٹرمپ کے قریبی حلقوں بشمول اُن کے صاحبزادے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر، صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ، داماد جیرڈ کشنر نے بھی اپنی گواہیاں دیں۔

تحقیقات کے دوران ٹرمپ کے کچھ قریبی ساتھیوں بشمول ٹرمپ کے تجارتی مشیر پیٹر نوارو اور وائٹ ہاؤس کے سابق اسٹرٹیجسٹ اسٹیفن بینن نے گواہی سے انکار کیا جس کی وجہ سےاُن پر کانگریس کی توہین کا الزام لگایا گیا ہے۔

ری پبلکن پارٹی کا ردِعمل

کیپٹل ہل حملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی پر ری پبلکنز یہ الزامات عائد کرتے رہے ہیں کہ تحقیقات کا مقصد سابق صدر ٹرمپ کے 2024 کے صدارتی الیکشن لڑنے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا ہے۔

ایوانِ نمائندگان میں ری پبلکن رہنما کیون میکارتھی نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ یہ امریکی تاریخ میں بننے والی سب سے زیادہ سیاسی کمیٹی ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس کے ذریعے ری پبلکنز کو نشانہ بنانے کے لیے کانگریس کے اختیارات استعمال کیے گئے۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان تحقیقات کا کوئی جواز نہیں تھا اور اس کے ذریعے شہریوں کی نجی سیاسی تقاریر کو بنیاد بنا کر اُنہیں نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ کیپٹل ہل پر ہنگاموں میں ملوث 840 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے 305 نے اعترافِ جرم کیا ہے۔ ان افراد پر کانگریس کی عمارت میں بلا اجازت داخل ہونے کی قانون شکنی سے لے کر پولیس پر حملے جیسے سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تصویر کریڈٹ : https://akm-img-a-in.tosshub.com/indiatoday/images/story/202101/2021-01-07T015053Z_1749739195__1200x768.png?FTIVPKACxhzvPOnX3SKIsdHMyjb1oUXH&size=770:433