کینیڈا میں نفرت پر مبنی حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی نژاد کون تھے؟

“وہ سونے جیسے لوگ تھے۔۔ہمیشہ ہنستے مسکراتے۔۔۔کبھی کسی سے کچھ نہیں کہتے تھے۔” صبور خان کو یقین نہیں آرہا کہ ان کے اتنے پیارے دوست۔۔۔اتنی محبت کرنے والا خاندان آناً فاناً ختم ہو گیا۔

لندن، اونٹاریو کینیڈا میں اتوار کے روز کے اس واقعے پر ہر طبقہ فکر کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے جس میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی جان چلی گئی تھی جب کہ ایک دس سالہ بچہ زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے فوری طور پر اپنے ٹوئٹر پیغام میں متاثرہ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ وہ مسلم کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامو فوبیا کی ہماری کمیونٹیز میں کوئی جگہ نہیں۔ یہ نفرت گھناؤنی اور شرمناک ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی اس واقعے کی سخت مذمت کی ہے جس میں ایک پک اپ ٹرک ان لوگوں پر چڑھ دوڑا اور پانچ میں سے چار لوگ اپنی جان سے گئے۔

انہوں نے منگل کو ٹوئٹر پر کہا کہ یہ مسلمانوں کو ہدف بنا کر کی گئی دہشت گردی کا ایسا واقعہ ہے جس کی جڑیں اسلامو فوبیا میں ہیں جو یورپ میں بڑھتا جا رہا ہے۔

نفرت انگیز حملے کا نشانہ بننے والے خاندان کے دوست اور ہمسائے کیا کہتے ہیں؟

پاکستان سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان چودہ برس سے کینیڈا کے اسی علاقے میں رہائش پذیر تھا۔

متاثرہ خاندان کے قریبی ہمسائے، دوست صبور خان ایک وکیل ہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ خاندان شام کو چہل قدمی کے لئے گھر سے نکلے تھے۔ اور سڑک کراس کرنے کے لئے کھڑے تھے کہ ایک ٹرک نے آکر انہیں روند ڈالا۔

کینیڈین پولیس نے اسے فوری طور پر دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے اور مئیر ایڈ ہولڈر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کی جڑیں ناقابلِ بیان نفرت میں ہیں۔

خاندان کے ایک بیان کے مطابق موت کا شکار ہونے والوں میں 46 سالہ سلمان افضل، ان کی 44 برس کی بیوی مدیحہ، بیٹی 15 سالہ یمنیٰ اور 74 برس کی دادی شامل ہیں۔

واقعے میں ہلاک ہونے والے خاندان کی مالی مدد کے لئے قائم کئے گئے’گو فنڈ می’ پیج پر خاندان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ سلمان افضل ایک فزیو تھیراپسٹ تھے، ان کی اہلیہ ویسٹرن یونیورسٹی لندن سے سول انجنئیرنگ میں پی ایچ ڈی کر رہی تھیں۔ ان کی بیٹی 9th گریڈ کی پڑھائی مکمل کر رہی تھی اور دادی ان سے ملنے کے لئے آئی ہوئی تھیں۔

حملہ آور کون تھا؟

پولیس نے واقعے کے مقام کے قریب ہی ایک مال کے پارکنگ لاٹ سے ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ مشتبہ ملزم نتھیلئن ویلٹمین انہیں جانتا بھی نہیں تھا مگر “نفرت اتنی کہ ان کی جان لے لی”۔

متاثرہ خاندان کے ایک بیان میں ہی بتایا گیا ہے کہ مشتبہ نوجوان کسی گروپ سے وابستہ تھا اور ممکنہ طور پر اسی کے اثر کی وجہ سے اس نے ایسا کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ضروری ہے کہ کمیونٹی سے لے کر حکومتی سطح پر ہر شخص اس کے خلاف مضبوط آواز اٹھائے۔

کینیڈا میں دوسری ثقافتوں سے آنے والوں کے لئے قبولیت کی صورتحال کیسی ہے؟

کینیڈا ایسا ملک ہے جہاں امریکہ کی طرح دنیا بھر سے مختلف مذاہب اور رنگ و نسل کے لوگ آباد ہیں اور سوائے چند برس پہلے کے اکا دکا واقعات کے کبھی نسلی یا مذہبی منافرت کے مسائل سامنے نہیں آئے۔ اور کرونا کی وبا کے دوران تو خیال کیا جا رہا تھا کہ کمیونیٹیز میں خاصی یک جہتی پیدا ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد اقبال مسعود الندوی، کینیڈا میں کونسل آف امام کے چئیرمین ہیں ۔ وہ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ یا اکنا کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں خیال کیا جا رہا تھا کہ مسلمانوں نے اپنے معمولات کو اس طرح منظم کر لیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا میں مذہبی امور بھی طبی ہدایات کے مطابق انجام دئیے جا رہے ہیں اور ماحول بڑا دوستانہ ہو گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں اس کی مثال حال ہی میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے بڑے بڑے اجتماعات ہیں جن کے خلاف کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ اس لئے کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں پارلیمنٹ نے کچھ قوانین بھی منظور کئے تھےجن کے تحت اسلامو فوبیا پر مبنی کارروائی کو دہشت گردی کے زمرے میں ڈالنے کے لئے کہا گیا تھا اور مسلمان اسے اپنی ایک کامیابی تصور کر رہے تھے۔

سب ٹھیک تھا مگر پھر بھی ایسا ہوگیا!!

لندن، اونٹاریو کے بارے میں ڈاکٹر ندوی کا کہنا ہے کہ یہ مختصر مگر مختلف النوع آبادی کا علاقہ ہے اور زیادہ تر وہاں عرب آباد ہیں اور زندگی نہایت پر سکون ہے۔

ان خیالات کا اظہار صبور خان نے بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والا یہ خاندان 14 برس سے ان کے پڑوس میں آباد تھا۔ بہت خوش اخلاق اور ہر دم مدد پر تیار۔۔۔ کوئی کچھ کہہ دیتا تو بھی یہ ناراض نہیں ہوتے تھے۔ ہر دم ہنستے مسکراتے۔۔۔پر امن یہ لوگ سب کے پسندیدہ بھی تھے۔ پھر بھی نفرت کا شکار ہوگئے جس کا انہیں یقین نہیں آتا۔

حملے کی وجہ نفرت، حسد یا کرونا کے باعث نفسیاتی مسائل تھے؟

ہمارا ہند سے بات کرتے ہوئے ، ڈاکٹر ندوی نے کہا کہ حالیہ سانحے کی کوئی واضح وجہ نہیں ہے۔ تاہم ، ان کی رائے میں ، لوگ کورونا وبا کی وجہ سے پریشانی اور نفسیاتی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں نے جن لوگوں نے اس خاندان کو ہلاک کیا وہ مختلف گروہوں میں شامل ہو گئے ہیں اور وہ اس طرح کے منافرت کا شکار ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر ندوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرونا کی وبا کے دوران اچانک اونٹاریو کے اس علاقے کی آبادی میں اقتصادی تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی۔۔۔مکانون کی قیمتیں چڑھنے لگیں اور خوشحالی میں بھی اضافہ نظر آیا۔ چنانچہ، ہو سکتا ہے اس سے بھی کوئی منفی خیال پیدا ہوا ہو۔

ڈاکٹر اقبال ندوی کہتے ہیں کہ تسلی کی بات یہ ہے کہ پولیس اور کینیڈا کے دیگر حکام نے اس واقعے کو فوری طور پر دہشت گردی قرار دے دیا ہے۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ کینیڈا میں رہنے والی دوسری ثقافتوں کے لوگ جو سمجھ رہے تھے کہ سب اچھا ہے اور کبھی ایسا نہیں ہو سکتا، انہیں پھر بھی کینیڈین سوسائٹی کے تانے بانے کو دیکھنا ہوگا۔۔۔

ان کے بقول، “ہمارے ملک کی کچھ پرتیں اب بھی کمزور ہیں، مزید کام کرنا ہوگا تاکہ باہم فاصلے پیدا نہ ہوں اور نہ صرف حکومتی اور سیاسی سطح پر بلکہ معاشرتی سطح پر اجتماعی طور پر کام کرنا ہوگا، تاکہ دلوں میں نفرت جنم نہ لے اور کمیونیٹیز کے مسائل مل کر حل کئے جا سکیں”۔

Photo Credit : https://s.yimg.com/os/creatr-uploaded-images/2021-06/ccd03da0-c86a-11eb-b75e-e8e118cbb051

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: