کیلی فورنیا کے ساحلی علاقے میں تیل پھیلنے سے مچھلیاں ہلاک، آلودگی پھیل گئی

جنوبی کیلی فورنیا کے ساحل پر بڑے پیمانے پر تیل پھیلنے سے مچھلیاں مر گئیں اور پرندے تیل سے گیلے ساحل کی مٹی سے لت پت ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ماحول پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

امریکی ساحلی محافظ، وفاقی، ریاستی اور شہر کی ایجنسیوں پر مشتمل افراد نے اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے دن رات صفائی کی مہم چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ساحلی علاقوں میں تیل کیسے پھیلا۔

ساحلی علاقے ہنٹنگٹن کے میئر کم کار نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق 126،000 گیلن یا 3،000 بیرل تیل بحر الکاہل کے تقریباً 13 مربع میل کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کی واقعہ کی اطلاع ہفتے کی صبح ملی تھی۔

انہوں نے سمندر کی سطح پر تیل کے اس پھیلاؤ کو ممکنہ ماحولیاتی تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتائج کا سامنا ساحلی شہر لاس اینجلس کو کرنا پڑ رہا ہے۔

میئر کا کہنا تھا کہ پانی کی لہروں کے ساتھ تیل کے ساحل کی جانب آنے سے کئی ساحلی علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

کیلی فورنیا کے ماہی گیری اور جنگلی حیات کے محکمے نے ساحلی علاقوں میں مچھلیاں پکڑنے پر پابندی لگا دی ہے۔

ایمپلی فائی انرجی کے سی ای او مارٹن ولشر نے لانگ بیچ میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پائپ لائن بند کر دی گئی ہے اور اس میں باقی رہ جانے تیل کو باہر نکالا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غوطہ خور ابھی تک یہ کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تیل کہاں سے لیک ہوا اور کیسے لیک ہوا۔

علاقے کی نمائندگی کرنے والی ایک ری پبلیکن رکن مشیل اسٹیل نے صدر جو بائیڈن کو اپنے ایک خط میں متاثرہ اورنج کاؤنٹی کو آفت زدہ قرار دے کر صفائی کی مہم میں مدد کی اپیل کی ہے۔

ڈیموکریٹک اسٹیٹ اسمبلی کی رکن کوٹی پیٹری نورس نے تیل کے پھیلنے سے ماحولیات، کمیونٹیز اور مقامی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔

کیلی فورنیا کے ساحل سے تیل کی پیداوار 1990 کی دہائی میں اپنے عروج پر تھی جس کے بعد اس میں تیزی سے کم ہوئی، جس کی ایک وجہ ریاست کے سخت ماحولیاتی قوانین ہیں۔ ڈیموکریٹک گورنر گیون نیوسم نے کہا کہ وہ 2045 تک ریاست میں تیل کی کھدائی ختم کرنا چاہتے ہیں۔

سانتا باربرا کے علاقے میں 1969 میں بڑے پیمانے پر تیل کے پھیلنے سے تباہی کے بعد ریاست میں غیر ملکی ڈرلنگ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس واقع میں 80،000 بیرل سمندر میں پھیل گیا تھا۔

سمندری تحفظ کے ایک گروپ ‘اوشیانا’ نے بھی غیر ملکی تیل اور گیس کی کھدائی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اوشیانا کی چیف پالیسی آفیسر جیکولین ساوٹز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “یہ تیل کی صنعت کا تازہ ترین المیہ ہے۔ ہمارے ساحلوں کو غیر ملکی ڈرلنگ سے مستقل طور پر محفوظ کر کے مستقبل میں تیل کا اخراج کو روکنے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔”

ساحل کو تیراکی کے لیے بند کر دیا گیا ہے جب کہ وہاں ہونے والا اور ایک مقامی ایئر شو منسوخ کر نے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کوسٹ گارڈ، مقامی اور ریاستی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر طیاروں اور کشتیوں کی مدد سے یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تیل کہاں تک پھیلا ہے اور اسے صاف کرنے کے لیے کس طرح کی سروسز درکار ہوں گی۔ کوسٹ گارڈ نے بتایا ہے کہ اب تک تین ہزار گیلن سے زیادہ تیل کو سمندر سے نکال لیا گیا ہے۔

Photo Credit : https://kvia.b-cdn.net/2021/10/hypatia-h_4047a9f911dac2642bc09186364f9f41-h_925788ccd9dfbaee5f8634e0df9b137d-300.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.