کیا گوانتانامو کا قیدی گواہی دے سکتا ہے؟ امریکی اعلیٰ عدالت کے جج کا استفسار

امریکہ کی سپریم کورٹ میں بدھ کے روز اس بارے میں دلائل دیے گئے کہ القاعدہ کا سابق رکن اور امریکی بحری اڈے پر قائم گونتانامو حراستی مرکز میں قید ابو زبیدہ اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ تشدد کے واقعات سے متعلق گواہی دے سکتا ہے یا نہیں

یہ سوال زبانی دلائل کے اختتام پر سامنے آیا کہ حکومت نے سی آئی اے کے دو سابق کنٹریکٹرز کو پولینڈ میں ایک مبینہ ‘بلیک سائٹ’ پر زیر حراست ابو زبیدہ کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں، الزام کے مطابق، گواہی دینے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

ججوں نے بدھ کے روز یہ سوال اٹھایا کہ امریکی حکومت کی جانب سے القاعدہ کے ایک ہائی رینکنگ فرد کو سی آئی اے کے ہاتھوں مبینہ تشدد کا نشانہ بننے کے بارے میں گواہی کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔

ابو زبیدہ ایک فلسطینی ہیں جنہیں2002 میں پاکستان سے حراست میں لیا گیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک بغیر الزامات کے گوانتانامو کےقید خانے میں بند ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، دوران قید انہیں مبینہ طور پر کئی بار واٹر بورڈنگ جیسے تفتیش کے طریقہ کار سے گزرنا پڑا جس دوران زیرحراست شخص خود کو ڈوبتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ کچھ نے ابو زبیدہ کو بطور متبادل گواہ پیش کرنے کے بارے میں بات کی۔

ابو زبیدہ کا حوالہ دیتے ہوئے،جج نیل گورسیچ نے پوچھا کہ “گواہ کو پیش کیوں نہیں کیا جا سکتا؟”

بقول جج، “اگر گواہ کو اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کی گواہی دینے اور حکومت کی طرف سے کسی طرح کے اعتراف کی ضرورت نہیں تو پھر حکومت کو کیا اعتراض ہے”۔

جسٹس سٹیفن بریئر نے سوال کیا کہ ”ابو زبیدہ ابھی تک گوانتانامو میں کیوں ہیں؟”

جج سونیا سوٹومیور نے مزید کہا کہ ”ہم ایک واضح جواب چاہتے ہیں”۔

عدالت نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا آیا ابو زبیدہ گواہی دے سکتے ہیں یا نہیں۔ لیکن یہ کہا کہ وہ واپس ججوں کو رپورٹ کر سکتے ہیں۔ ابو زبیدہ کے وکلاء نے کہا ہے کہ انہیں گوانتانامو قید کی شرائط کے تحت گواہی دینے کی اجازت نہیں ہے۔

حکومت زیریں عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کر رہی ہے کہ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے کنٹریکٹر جیمز ایلمر مچل اور جان بروس جیسن کو امریکی قانون کے تحت پیش کیا جا سکتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ پولینڈ خود ساختہ ‘بلیک سائٹ’ کا وہ مقام ہے جہاں سی آئی اے نے ابو زبیدہ کے خلاف سخت تفتیش کی تکنیک استعمال کی۔
50 سالہ زبیدہ نے گوانتانامو میں 15 سال گزارے ہیں اور وہ 39 قیدیوں میں سے ایک ہیں جو اب بھی وہاں قید ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ “اسامہ بن لادن کے ساتھی اور دیرینہ دہشت گرد اتحادی تھے”۔

اسامہ بن لادن القاعدہ کے رہمنا تھا اور 2011 میں پاکستان میں امریکی افواج کے ہاتھوں مارا گیا۔

Photo Credit : http://d279m997dpfwgl.cloudfront.net/wp/2020/09/GettyImages-1276486605-1000×667.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.