کیا بابر اعظم جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی 20 کا میدان بھی مار سکیں گے؟

کپتان بابر اعظم کی زیر قیادت پاکستان کی ون ڈے ٹیم جنوبی افریقہ کو اسی کی سرزمین پر ایک سے زائد مرتبہ شکست دینے والی دوسری ٹیم بن گئی ہے۔ اب بابر الیون 10 اپریل سے چار میچز پر مشتمل ٹی 20 سیریز میں جنوبی افریقہ کے مدمقابل ہو گی۔

میزبان ٹیم کے کپتان ٹیبما باووما کی انجری کی وجہ سے سیریز میں شرکت مشکوک ہے، جب کہ سینیئر کھلاڑیوں کی انڈین پریمئر لیگ کو ترجیح دینے کی وجہ سے پاکستان کے پاس ٹی 20 سیریز اپنے نام کرنے کا بہترین موقع ہے۔

ون ڈے انٹرنیشنل سیریز میں پاکستان ٹیم کی شاندار کارکردگی کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی تسلیم کیا۔ آئی سی سی نے سوشل میڈیا پر نہ صرف اپنی کوور فوٹو بدل دی، بلکہ پاکستانی اوپنرز فخر زمان کی شاندار کارکردگی کو بھی سراہا۔

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ، ٹی 20 میں معاملہ کبھی خوشی کبھی غم جیسا

ٹی 20 کرکٹ میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کا ساتھ کبھی خوشی کبھی غم جیسا ہے، دونوں ٹیمیں 17 مرتبہ آمنے سامنے آئیں ، جنوبی افریقہ کو نو اور پاکستان کو آٹھ میچز میں کامیابی ہوئی۔

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2007 میں پاکستان نے اپنا اولین ٹی 20 انٹرنیشنل بھی جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا تھا۔ اس کے بعد دونوں ٹیمیں تین مرتبہ جنوبی افریقی سرزمین پر ٹی 20 سیریز میں مدمقابل ہوئیں۔ 2013 میں ہونے والی پہلی سیریز پاکستان نے ایک صفر سے جیتی، جب کہ دوسری سیریز ایک ایک میچ سے برابری پر ختم ہوئی۔

دونوں ممالک کے درمیان تیسری اور اب تک آخری مرتبہ جنوبی افریقہ میں ٹی 20 سیریز 2019 میں کھیلی گئی جس میں میزبان ٹیم نے دو ایک سے فتح سمیٹی۔ جنوبی افریقہ میں دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر سات میچز کھیلے ہیں جن میں چار میں میزبان ٹیم، اور تین میں پاکستان ٹیم کامیاب ہوئی۔

شرجیل خان اور محمد حفیظ کی اینٹری، پاکستان کا پلڑا بھاری

تین ون ڈے میچز میں 302 رنز اسکور کرنے والے فخر زمان کی ٹی 20 اسکواڈ میں شمولیت سے جہاں میزبان ٹیم کے بالرز کی نیندیں حرام ہوئی ہیں، وہیں مہمان ٹیم کے مداح خوش ہوئے۔ امکان ہے کہ اگر شرجیل خان میچ فٹ ہوئے، تو فخر زمان کے ساتھ وہ اننگز کا آغاز کریں گے، ورنہ محمد رضوان کا آپشن تو ویسے ہی موجود ہے۔

کپتان بابر اعظم نمبر تین پر بیٹنگ کے مضبوط ترین امیدوار ہیں جب کہ محمد حفیظ کے تجربے سے نمبر چار پر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ نوجوان حیدر علی اور دانش عزیز کے ساتھ ساتھ آل راؤنڈرز حسن علی اور فہیم اشرف کی موجودگی میں نچلے نمبروں پر بھی رنز اسکور کرنا مشکل نہیں ہوگا۔

بالنگ کے شعبے میں شاہین شاہ آفریدی، محمد حسنین اور حارث روؤف کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی اہلیت رکھتے ہیں جب کہ پاکستان سپر لیگ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے ارشد اقبال اور محمد وسیم جونئیر کی انٹری سے قومی ٹیم کا پیس اٹیک مضبوط ہوگا۔

محمد نواز اور عثمان قادر نے تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں شاندار بالنگ کر کے جنوبی افریقی بلے بازوں کو پریشان کیا، جب کہ رواں سال ٹی 20 انٹرنیشنل میں ڈیبیو کرنے والے زاہد محمود کی شاداب خان کی جگہ ٹیم میں شمولیت بھی خوش آئندہے۔

سینئیر کھلاڑیوں کی عدم دستیابی، جنوبی افریقہ کا بیٹنگ آرڈر کمزور ہوگا

پاکستان کے خلاف تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل کے دوران زخمی ہوجانے والے جنوبی افریقی کپتان ٹیمبا باووما کی ٹی 20 سیریز میں شرکت مشکوک ہوگی۔ تاہم، ان کی شمولیت کا حتمی فیصلہ ٹیم مینجمنٹ میچ سے قبل کرے گی۔ اگر وہ مقررہ وقت پر فٹ نہ ہوسکے تو امکان ہے کہ ان کی جگہ کپتانی کے فرائض ہینرک کلاسن انجام دیں گے۔

اس سے قبل میزبان ٹیم کے ان فارم بیٹسمین ریسی وین ڈر ڈوسن بھی زخمی ہوکر ٹی 20 معرکے سے باہر ہوچکے ہیں۔ ون ڈے سیریز کے پہلے دو میچز کے بعد سینئیر کھلاڑی کوئنٹن ڈی کوک اور ڈیوڈ ملر سمیت متعدد کھلاڑی انڈین پریمئیر لیگ میں شرکت کے لئے بھارت روانہ ہوگئے تھے۔ ان کی غیر موجودگی میں میزبان ٹیم کا بیٹنگ آرڈر نسبتا کمزور ہوگا۔

تاہم، حال ہی میں پاکستان کا ٹی 20 انٹرنیشنل میں سامنا کرنے، اور اچھی کارکردگی دکھانے والے ڈوین پریٹوریئس، بیورون ہینڈکس اور تبریز شمسی ٹی 20 سیریز کا حصہ ہوں گے۔

رواں سال دورہ پاکستان پر لاہور میں کھیلے گئے میچز میں ڈوین پریٹوریئس نے پانچ اور تبریز شمسی نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔ جب کہ 2019 میں جنوبی افریقہ میں کھیلی جانے والی سیریز میں بیورون ہینڈریکس نے سنچورین کے مقام پر چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔

محمد حفیظ کے پاس بیٹنگ، بالنگ ریکارڈ اپنے نام کرنے کا سنہری موقع

ویسے تو پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے میچز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ ڈیوڈ ملر کے پاس ہے، لیکن پاکستان کے سینئیر بلے باز محمد حفیظ کے پاس بہترین موقع ہے اس ریکارڈ کو اپنے نام کرنے کا۔

آئی پی ایل میں مصروف ہونے کی وجہ سے ڈیوڈ ملر اس سیریز میں میزبان ٹیم کا حصہ نہیں ہوں گے۔ جب کہ دوسری جانب محمد حفیظ اس وقت بہترین فارم میں ہیں، اور ڈیوڈ ملر کے 277 رنز سے صرف 47 رنز پیچھے ہیں۔

دوسرے نمبر پر ہیں پاکستانی وکٹ کیپر محمد رضوان جنہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف حال ہی میں ٹی 20 انٹرنیشنل میں سنچری اسکور کی تھی۔ وہ اب تک پروٹیز کے خلاف 226، جب کہ ان کے کپتان بابر اعظم 200 رنز اسکور کر چکے ہیں۔ بالنگ میں بھی محمد حفیظ 9 وکٹوں کے ساتھ موجودہ اسکواڈ میں شامل سب سے کامیاب کھلاڑی ہیں۔

ادھر جنوبی افریقی اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں میں پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ رنز ریزا ہینڈرکس نے اسکور کیے ہیں۔ اپنے 205 رنز کے ساتھ وہ سب سے نمایاں بلے باز ہیں۔ جب کہ بالرز میں بیورن ہینڈرکس ، تبریز شمسی اور اینڈل فیہلوکوائیو 8 وکٹوں کے ساتھ سر فہرست ہیں۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا اور دوسرا ٹی 20 میچ جوہانسبرگ میں 10 اور 12 اپریل کو کھیلا جائے گا، سیریز کا تیسرا اور چوتھا میچ سنچورین میں ہوگا، تمام میچز پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے شروع ہوں گے۔

ٹی 20 سیریز کے لئے جنوبی افریقی اسکواڈ: ٹیمبا باووما کپتان، بورون فورٹوائن، بیورن ہینڈرکس، ریزا ہینڈرکس، ہینرک کلاسن، جارج لنڈے، جنیمن ملان، سیسندا مگالا، ڈوین پریٹوریئس، تبریز شمسی، لوتھو سمپالا، کِل ورینائن، میگیکل پریٹوریس، لیزاد ولیمز، پیٹے وین بیلیون اور وہان لوبے ہیں۔

ٹی 20 سیریز کے لئے پاکستانی اسکواڈ : بابر اعظم کپتان ، محمد رضوان، شرجیل خان، فخر زمان، محمد حفیظ ، حیدر علی، آصف علی، حسن علی، دانش عزیز، عثمان قادر، فہیم اشرف، محمد نواز، سرفراز احمد، محمد حسنین، محمد وسیم، شاہین شاہ آفریدی، حارث روؤف، ارشد اقبال اور زاہد محمود ہیں۔

Photo Credit : https://circleofcricket.com/post_image/post_image_dcea6d5.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: