کیا اسٹیٹ بینک کے اقدامات سے روپے کی مسلسل گرتی قدر سنبھل پائے گی؟

پاکستان کے اسٹیٹ بینک نے روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کو بچانے کے لیے رواں ہفتے بعض نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ان پابندیوں کے تحت 500 یا اس سے زائد امریکی ڈالر کے مساوی تمام غیر ملکی کرنسی کی ٹرانزیکشنز یا بیرونِ ملک ترسیلات زر کے لیے ایکسچینج کمپنیوں کو بائیومیٹرک تصدیق کرنی ہوگی۔ یہ شرط رواں سال 22 اکتوبر سے لاگو ہوگی۔

اسی طرح ایکسچینج کمپنیاں 10 ہزار امریکی ڈالرز اور زائد کے مساوی نقد بیرونی کرنسی کی فروخت اور بیرونِ ملک ترسیلات زر بھیجنے کا عمل صرف چیک کے ذریعے وصول ہونے والی رقوم کے عوض یا بینکاری چینلز کے ذریعے ہی کرنے کی مجاز ہوں گی۔

اسٹیٹ بینک نے افغانستان کا سفر کرنے والے افراد کو بھی صرف ایک ہزار امریکی ڈالرز فی کس فی وزٹ لے جانے کی اجازت دی ہے اور زیادہ سے زیادہ سالانہ حد 6000 امریکی ڈالرز ہوگی۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس عمل سے بغیر ملکی کرنسی کی لین دین میں شفافیت بڑھانے اور نقد کرنسی کے ناجائز بیرون ملک بہاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔ ان اقدامات سے ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے غیر ملکی کرنسی کی فروخت کی دستاویزات بھی بہتر ہوگی ۔

گزشتہ چار ماہ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں لگ بھگ 12 فی صد تک کمی ہو چکی ہے اور اسے تھائی لینڈ کی کرنسی بھات کے ساتھ ایشیا کی بدترین کارکردگی دکھانے والی کرنسیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

روپے کی مسلسل گرتی قدر کی وجہ کیا ہے؟

معاشی ماہرین اس کی وجہ جہاں درآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک کا تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بتاتے ہیں۔ وہیں بعض مبصرین کے خیال میں اس کی وجہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد وہاں امریکی ڈالرز کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ اور پھر ملک کے اندر ڈالر کی غیر ضروری طلب بڑھا کر ذخیرہ اندوزی بھی ہے۔

پاکستان وزیرِ خزانہ شوکت ترین بھی کہہ چکے ہیں کہ ہر روز ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کیش کی صورت میں افغانستان جا رہے ہیں۔ جو سال کا تقریباً ساڑھے چار ارب ڈالرز سے زائد بنتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے افغانستان آنے جانے والے افراد کی تعداد 10 ہزار یومیہ ہے۔ جب کہ سالانہ حد 60 ہزار ڈالرز کی ہے۔ اس کیش فلو کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان سے بیرون ملک جانے والے شہری ہر سفر پر 10 ہزار ڈالرز لے کر جا سکتے ہیں تاہم بھارت جانے والے افراد صرف ایک ہزار ڈالر لے جا سکتے ہیں۔

حکومتی اقدامات سے روپے کی قدر میں استحکام کا امکان

نامور معاشی اور مالی امور کے ماہر زبید فضیل کے خیال میں یہ حکومت کا اچھا اقدام ہے اور اس سے روپے کی قدر میں کسی حد تک استحکام ضرور آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ روزانہ اوپن مارکیٹ سے ایک کروڑ 50 لاکھ سے دو کروڑ ڈالر باہر جا رہے ہیں۔ البتہ یہ صرف افغان شہری ہی نہیں بلکہ بڑی تعداد میں چین کے شہری بھی پاکستان سے لے کر بیرون ملک جا رہے ہیں اور ان سے کوئی اس بارے میں کچھ پوچھ گچھ نہیں ہوتی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈالر خریدنے کو مشکل بنانا ضروری تھا۔ اگرچہ اس پر مکمل پابندی تو نہیں لگائی گئی بہرحال اس کی خریداری کو دستاویزی بناکر اسے کسی حد تک روکا ضرور جاسکے گا۔

زبید فضیل نے مزید کہا کہ یہ عمل کئی سال پہلے کرنا چاہیے تھا البتہ صورت حال بہت زیادہ خراب ہونے پر حکومت اب جاگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے بچے باہر زیرِ تعلیم ہیں اور ان کی فیس جمع کرانی ہے تو اس کے لیے بھی اسٹیٹ بینک کو ایک طریقۂ کار بنانے کی ضرورت ہے۔

ان کے بقول عام شہریوں کو فارن کرنسی رکھنے، بیچنے اور نکالنے کی آزادی نے معاشی نقصان پہنچایا۔

انہوں نے بتایا کہ سال 1992 میں نواز شریف دورِ حکومت میں منظور کیے گئے ‘پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ’ کے تحت تمام پاکستانی شہریوں کو فارن ایکسچینج لانے، رکھنے، بیچنے، نکالنے اور ٹرانسفر کرنے کی مکمل آزادی ے دی گئی۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسے تمام پاکستانیوں کو، جن کے فارن کرنسی اکاونٹ تھے، انہیں انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی کسی بھی قسم کی انکوائری سے استثنیٰ دے دیا گیا۔ اگر کسی کے اکاؤنٹ میں کوئی بیرونی کرنسی موجود بھی تھی تو اسے انکم ٹیکس، دولت ٹیکس اور زکواة کے منہیٰ ہونے سے بھی استثنیٰ دیا گیا۔

زبید فضیل کا کہنا تھا کہ نواز حکومت نے یہ عمل سرمایہ کاروں کے لیے آسانی لانے کے لیے متعارف کرایا تھا۔ لیکن دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں ایسا نہیں ہوتا۔

معاشی ماہرین کے مطابق یہ عمل ملک کے لیے معاشی لحاظ سے تو بُرا ثابت ہوا جب کہ انفرادی طور پر سرمایہ کاروں کے لیے نعمت بن گیا اور اس عمل سے بہت سے لوگوں کو اپنا کال دھن سفید کرنے کا قانونی موقع مل گیا۔

اس قانون میں پھر 2018 میں ترمیم کی گئی اور اب صرف فارن کرنسی میں اکاؤنٹ رکھنے والے ان پاکستانیوں ہی کو بیرونی کرنسی میں کیش ادائیگی کی جاسکتی ہے جو ٹیکس ریٹرن کے باقاعدہ فائلر ہوں۔

غیر قانونی ایکسچینج کمپنیاں ڈالر کی قیمتیں بڑھانے کا باعث

زبید فضیل نے بتایا کہ پاکستان میں غیر قانونی ایکسچینج کمپنیوں کی بھی بھرمار ہے۔ حکومتی اداروں کی ناک کے نیچے ایسی کمپنیاں غیر قانونی کاروبار میں لگی ہوئی ہیں۔ عام شہری صرف ان ایکسچینج کمپنیوں ہی سے اپنے پیسے اس لیے تبدیل کراتے ہیں کیوں کہ وہ بہتر ریٹ دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کمپنیاں امریکی ڈالر سمیت دیگر بیرونی کرنسیز مہنگے داموں خرید کر مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں اور کھلی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت کو بڑھانے کا باعث بنتی ہیں۔

‘اسٹیٹ بینک کا اقدام بہتر اور شفافیت پیدا کرے گا’

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ بھی اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے کو سراہتے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے اتفاق کیا کہ یہ عمل ڈالر کی بلیک مارکیٹ کو وقتی طور پر بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے خیال میں اب نہ صرف عالمی طور پر بلکہ ملکی سطح پر بھی نظام کافی فعال ہے اور ڈالر کی بلیک مارکیٹ کا کردار کم ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ اس نظام سے آنے والی شفافیت ہے۔

ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ جسے درست کام کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے اس کی ضرورت اب بلیک مارکیٹ پوری نہیں کر سکتی۔ اس کو بہرحال سسٹم میں آنا ہوتا ہے۔

ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک زیرِ تعلیم طلبہ کے والدین کو ہر سال زیادہ سے زیادہ 20 سے 30 ہزار ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے پاس آفیشل بینکنگ چینل موجود ہے۔ ایکسچینج کمپنیوں کے طور پر بھی بھیج سکتے ہیں۔ انفرادی ٹرانزیکشن کے علاوہ کمرشل ٹرانزیکشن کے لیے بھی بینکنگ چینل استعمال ہوتے ہیں۔

‘ابھی اور بہت کچھ کرنا باقی ہے’

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے حالیہ اقدامات سے روپے کی قدر گرنے اور اسے استحکام میں لانے میں یقیناً بہتری تو آئے گی لیکن ابھی اس حوالے سے بہت سے اقدامات کرنا ہوں گے جن میں برآمدات کو بڑھانے، پرتعیش اشیا کی درآمدات کو روکنے کے لیے ان پر ڈیوٹی بڑھانے، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے کوشش اور پھر ترسیلات زر میں اضافے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ جب کہ اس کے ساتھ بیرونی کرنسی کی ملک میں آمد کے لیے نجکاری کے عمل کو بھی تیز کرنا ہوگا۔

Photo Credit : https://www.arabianbusiness.com/public/styles/600px_600px_square/public/images/2021/03/11/pakistanremittancegettyimages_1.jpg?itok=Q_IlWb9m

Leave a Reply

Your email address will not be published.