کہیں آزادیِ اظہار سلب، کہیں انتہا پسندی کو فروغ: مختلف زبانوں میں فیس بک کی ناکامی


گزشتہ سال اسرائیل اور فلسطین کے درمیان غزہ میں لڑائی کے دوران فیس بک کمپنی کی ملکیت انسٹاگرام ایپ نے یروشلم شہر کی تاریخی مسجد اقصیٰ پر بنے ہیش ٹیگ alaqsa# سے جڑی تمام پوسٹس کو بلاک کرنا شروع کر دیا تھا، جس سے عربی بولنے والے صارفین میں غم و غصہ پایا گیا تھا۔

بعد میں فیس بک نے معذرت کرتے ہوئے یہ وضاحت دی تھی کہ مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام کو اس کے الگورتھم نے غلطی سے فتح پارٹی کے عسکری گروپ القصیٰ شہدا بریگیڈ کی طرف اشارہ سمجھا تھا۔

یہ انکشاف فیس بک کی سابقہ ملازم فرانسس ہوگن کی جانب سے حالیہ افشا کی جانے والی دستاویزات میں سامنے آیا ہے۔ ایک طرف جہاں یہ فیس بک کی دوسری زبانوں میں مانیٹرنگ اور آٹومیشن کی خامیاں ظاہر کرتی ہے تو دوسری طرف عربی زبان بولنے والے صارفین اسے اس دیو قامت سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی طرف سے سیاسی اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن تصور کرتے ہیں۔

فیس بک کے صارفین کی بہت بڑی تعداد عربی بولنے والوں کی ہے اور کمپنی کی جانب سے ایسی غلطیاں بار بار دہرانے پر معذرت نامے جاری کرنا بھی عام بات ہے۔

مگر فرانسس ہوگن کی جانب سے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور کانگریس کو پیش کی گئیں دستاویزات میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کمپنی کی جانب سے سرزد ہونے والی یہ غلطیاں نادانی کی وجہ سے نہیں۔ فیس بک کو اپنے سسٹم کی ان سنگین خامیوں کا ایک عرصے سے بخوبی علم تھا مگر اسے روکنے کے لئے خاطر خواہ عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔

یہ خامیاں صرف عربی زبان تک محدود نہیں، فائلوں کا بخوبی جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ کس طرح مقامی زبانیں اور ثقافتی پس منظر سمجھنے والے ماڈریٹرز کی کمی کی وجہ سے دنیا کہ چند غیر مستحکم ترین حصوں میں نفرت پر مبنی انتہا پسند مواد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پروان چڑھتا رہا۔

اس دوران فیس بک کپمنی کے پلیٹ فارمز مصنوعی ذہانت پر مبنی پروگرامز بھی ایسے حل پیش کرنے میں ناکام رہے جو مختلف زبانوں میں شرانگیز اور نقصان ده مواد کو بر وقت پکڑ سکتے۔

افغانستان اور میانمار جیسے ملکوں میں فیس بک کے اس سقم کی وجہ سے شر انگیز پوسٹس اور خبریں پھیلانے کا سلسلہ جاری رہا۔ دوسری طرف فلسطین اور شام جیسی ریاستوں میں چند الفاظ پر پابندی کی وجہ سے آزادی اظہار کو دبایا گیا اور لوگ عام پوسٹس شائع کرنے سے بھی محروم رہے۔

فائلوں میں واضح ہے کہ فیس بک کمپنی یہ تسلیم کرتی ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی اقلیت کے خلاف نفرت انگیز مواد اور تششد پر اکسانے والی پوسٹس اور جھوٹ پر مبنی خبریں پھیلانے کا سلسلہ بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رہا۔ دنیا بھر میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی ہر آوازیں بلند ہونے پر فیس بک نے اعلان کیا کہ وہ میانمار میں پلیٹ فارم کو محفوظ بنانے کے لئے مقامی ثقافت، سیاست اور مذہبی نزاکت سے واقف سو ماڈریٹرز بھرتی کرے گا، مگر کمپنی نے یہ کبھی نہیں بتایا کہ اس نے حقیقتاً کتنے ایسے افراد بھرتی کئے۔

ماہرین کے مطابق مسئلے کہ جڑ یہ بات ہے کہ یہ پلیٹ فارم کبھی بھی اس نیت سے نہیں بنایا گیا تھا کہ یہ ایک دن دنیا بھر کے لوگوں کے لئے سیاسی اظہار کا ذریعہ بن جائے گا۔ مگر موجودہ صورتحال میں کہ جب فیس بک اتنی سیاسی اہمیت حاصل کر گیا اور اس کے پاس اتنے وسائل بھی ہی تو نگرانی میں کوتاہی سوالیہ نشان ہے۔

خبر رساں ادارے، اے پی کے استفسار پر فیس بک ترجمان کی جانب سے اس صورتحال پر جاری کئے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں فیس بک نے مقامی زبانوں، لہجوں اور مقامی پس منظر سمجھنے والے افراد کو ٹیم میں شامل کرنے پر سرمایہ کاری کی ہے تاکہ پلیٹ فارم پر جاری سرگرمیوں کی بہتر نگرانی کی جا سکے۔

تاہم، کمپنی نے تسلیم کیا کہ عربی زبان کے مواد پر ابھی مزید بہت کام ہونا باقی ہے۔

PC: https://1401700980.rsc.cdn77.org/data/images/full/101912/facebook-whistleblower-revealed-ex-employee-says-fb-prioritizes-making-more-money.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.