کولوراڈو فائرنگ: صدر بائیڈن کا مہلک ہتھیاروں پر پابندی لگانے پر زور

امریکہ کی ریاست کولوراڈو کی ایک سپر مارکیٹ میں فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد کی ہلاکت کے بعد صدر بائیڈن نے قومی سطح پر مہلک ہتھیاروں پر پابندی لگانے پر زور دیا ہے۔

فائرنگ کے اس واقعے میں پولیس افسر سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں خطاب میں صدر جو بائیڈن نے کہا کہ میں زندگیاں بچانے کے لیے اس عقل مندی کا مظاہرہ کرنے میں ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کرنا چاہتا۔

بائیڈن نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے اراکین پر اس بابت ایکشن لینے پر بھی زور دیا تھا۔

بائیڈن نے کہا کہ ہم مہلک ہتھیاروں اور ان میں استعمال ہونے والے مواد پر پابندی لگا سکتے ہیں۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ اُنہوں نے 1994 میں بھی اس نوعیت کی پابندی لگانے کی قانون سازی پر کام کیا تھا جب وہ سینیٹ جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ تاہم اُن کے بقول 10 سال بعد اسے ختم کر دیا گیا تھا۔

 جو بائیڈن نے کہا کہ ہتھیار خریدنے والے کا ٹریک ریکارڈ اور اس کی جانچ پڑتال کے نظام میں موجود خامیوں سے متعلق ایوانِ نمائندگان کے منظور کردہ اقدامات کا سینیٹ بھی جائزہ لے۔

سینیٹ جوڈیشری کمیٹی نے منگل کو پہلے سے ہی شیڈول سماعت میں تشدد کے واقعات روکنے کے لیے گن کنٹرول کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا۔

بائیڈن نے اٹلانٹا فائرنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی تمام تر ہمدردیاں ان واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔

حکام نے 10 افراد کے قتل کے الزام میں 21 سالہ احمد ال علیوی پر فردِ جرم عائد کی ہے جنہیں جمعرات کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

تفتیش کاروں نے تاحال ملزم کی جانب سے فائرنگ کرنے کے مقاصد سے متعلق آگاہ نہیں کیا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ علیوی نے فائرنگ سے چھ روز قبل ہتھیار خریدے تھے۔

یاد رہے کہ امریکہ میں ایک ہفتے کے دوران فائرنگ کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔ اس سے قبل 16 مارچ کو ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا کے تین مساج پالروں پر فائرنگ کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں بیشتر ایشیائی خواتین تھیں۔

Photo Credit : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/2/20/Joe_Biden_official_portrait_2013_cropped.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: