کوئٹہ: احتجاجی ڈاکٹرز اور پولیس کی جھڑپ میں متعدد زخمی اور گرفتار


ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش پر کوئٹہ میں 20 سے زائد ینگ ڈاکٹرز گرفتار کر لیے گئے۔ جب کہ اس دوران ہونے والی جھڑپ میں 8 ڈاکٹر اور 6 پولیس اہل کار زخمی ہو گئے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں ریڈ زون میں داخل ہونے پر تقریباً 20 ڈاکٹروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ جھڑپ میں 6 پولیس اہل کار بھی زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میں شامل ڈاکٹروں نے بدھ کی روز سول اسپتال کوئٹہ سے ایک احتجاجی ریلی نکالی اور ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر ڈاکٹروں اور پولیس میں جھڑپ ہوئی۔

پولیس نے پہلے ہی انسکمب روڈ کو مختلف مقامات پر خاردار تاریں لگا کر وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے والے راستے بند بند کر دیا تھا۔

ڈاکٹروں نے الزام لگایا ہے کہ وہ پرامن احتجاج کر رہے تھے مگر پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں 8 سے زائد ڈاکٹر زخمی ہو گئے جو سول اسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر میں زیر علاج ہیں۔

دوسری جانب ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے ڈاکٹروں کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے منع کیا۔ جس پر انہوں نے پولیس اہل کاروں پر دھاوا بول دیا، جس کے باعث 6 پولیس اہل کار زخمی ہو گئے۔

اسسٹنٹ کمشنر کوئٹہ سٹی محمد علی درانی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکڑوں نے احتجاج کا اعلان کیا تھا مگر ہم نے انہیں پہلے ہی کہا تھا کہ ریڈ زون میں داخلے پر پابندی ہے، اس لیے وہ اس جانب ریلی نہ نکالیں۔

محمد علی درانی کے بقول، ہم نے ڈاکڑوں کو کہا کہ وہ پرامن احتجاج کے لیے پریس کلب جا سکتے ہیں، مگر انہوں نے ہماری بات نہیں مانی اور پولیس اہل کاروں پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ڈاکڑوں نے پولیس کے ساتھ ہاتھا پائی کی جس پر پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔

ڈاکٹر کیوں احتجاج کر رہے ہیں؟

بلوچستان میں ینگ ڈاکڑز ایسوسی ایشن گزشتہ 3 ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات، مشینری اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے راہنما ڈاکٹر حفیظ مندوخیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمارے مطالبات مان چکی ہے مگر تاحال اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی حکومت نے ہمارے پر امن احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کو 30 دنوں تک جیل میں رکھا اور آج ایک بار پھر ہمارے پر امن احتجاج پر لاٹھی چارج کیا گیا اور ہمارے 40 سے زائد ساتھیوں کو گرفتار کیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق ان کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں کی نجکاری کا جو منصوبہ بنایا گیا ہے اس کو روکا جائے کیونکہ اس سے سب سے بڑا نقصان صوبے کے غریب اور نادار مریضوں کو پہنچے گا۔

ڈاکڑ حفیظ مندوخیل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سرکاری اسپتالوں کی نجکاری سے ڈاکٹروں کی تنخواہوں اور مراعات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا مگر حکومت سارا بوجھ غریب عوام پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دل کا علاج کرنے والا واحد شعبہ جو کہ سول اسپتال میں موجود ہے، وہاں گزشتہ ایک سال سے مشینری خراب پڑی ہے جس کی وجہ سے صوبے کے غریب مریضوں کو انجوگرافی اور انجو پلاسٹی کے لیے ملک کے دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔

ایسے غریب مریض بھی ہیں جن کے پاس کراچی اور لاہور جا کر علاج کرانے کے پیسے موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے دل کے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

سرکاری اسپتالوں میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، ایکسرے اور دیگر مشینیں خراب ہیں جس کی وجہ سے مریض پریشان ہیں۔ جب کہ ینگ ڈاکڑوں کو بھی مریضوں کے علاج معالجے میں مشکلات سامنا ہے۔

ڈاکٹر حفیظ مندوخیل کے مطابق گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے مسائل کے حل کے حوالے سے بات ہوئی جس پر انہوں نے ایک کمیٹی بنائی جس کو تمام اختیارات دیے گئے۔ مگر اس کے باوجود ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اپنے مطالبات کے حصول تک احتجاج جاری رکھے گی۔

مریضوں کو مشکلات کا سامنا

سول اسپتال کوئٹہ سمیت بی ایم سی میڈیکل کمپلیکس اسپتال اور دیگر سرکاری اسپتالوں میں گزشتہ 3 ماہ سے ڈاکٹرز احتجاج کر رہے ہیں۔ جب کہ او پی ڈیز کا بھی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے جس سے سب سے زیادہ مشکلات غریب مریضوں کو ہو رہی ہیں۔

سول اسپتال آنے والے ایک مریض ناصر علی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ گردوں کے مریض ہیں انہیں ہر ہفتے چیک اپ کے لیے سول اسپتال کے او پی ڈی آنا پڑتا ہے مگر گزشتہ 3 ماہ سے او پی ڈیز بند ہیں جس کی وجہ وہ کافی تکلیف میں ہیں۔

ناصر علی نے بتایا کہ ان کے پاس پرائیوٹ علاج کے لیے پیسے نہیں ہیں اس لیے وہ مجبوراً سول اسپتال آتے ہیں مگر یہاں ڈاکٹروں کے احتجاج سے انہیں پریشانی کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سے ینگ ڈاکٹروں نے اپنے احتجاجی کیمپ میں ہی او پی ڈی لگا کر مریضوں کا چیک اپ کرنا شروع کیا تھا۔

تاہم، شدید سردی میں آسمان تلے مریضوں کے لیے چیک کرانا کسی اذیت سے کم نہیں ہے۔

حکومت کا موقف کیا ہے؟

ادھر صوبائی وزیر صحت بلوچستان سید احسان شاہ نے دالبندین میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ احتجاج پر بیٹھے ڈاکٹرز کے ساتھ سنجیدگی سے مذاکرات جاری ہیں۔ ہم نے کل ان کے ساتھ میٹنگ بھی رکھی تھی۔

انہوں نے کہا ہے کہ آج ڈاکٹروں کی جانب سے ریڈ زون پر احتجاج مناسب نہیں تھا۔ ڈاکٹرز کے تمام مطالبات مان لیے گئے ہیں۔ تاہم تنخواہ بڑھانے پر اتفاق نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈاکٹروں کے احتجاج سے مریض پریشان ہیں۔ ڈاکٹرز ڈیوٹی نہ دینے کے باوجود تنخواہ لے رہے ہیں، جو مریضوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ ہم احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ پہلے بھی مذکرات کر رہے تھے اب بھی جاری رکھیں گے۔

احتجاج کرنے والے ڈاکڑوں نے 4 گھنٹے تک دھرنا دیا اور اس کے بعد پر امن طور پر واپس سول اسپتال میں اپنے احتجاجی کیمپ میں چلے گئے۔

Photo Credit : https://idsb.tmgrup.com.tr/ly/uploads/images/2020/04/06/29157.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.