کرونا ڈیجیٹل سرٹیفیکٹ کی منظوری، یورپ میں شہری پابندیوں کے بغیر سفر کر سکیں گے

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگوانے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب اس کے لگوانے کا ثبوت کارآمد سفری دستاویز کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

یورپ کی پارلیمان نے بدھ کو ‘کووڈ-19 ڈیجیٹل سرٹیفیکٹ’ کی منظوری دی ہے، جسے یورپی یونین کے شہری رکن ملکوں کے مابین آزادانہ سفر کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل سرٹیفیکٹ کے حامل یورپ کے شہریوں کو اب قرنطینہ یا اضافی ٹیسٹ کرانے جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

یورپ کی پارلیمان کا اجلاس فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں ہوا۔ اجلاس میں ڈیجیٹل سرٹیفیکٹ کے استعمال سے متعلق قوائد و ضوابط کی منظوری لینے کے لیے ایوان میں باضابطہ طور پر دو بار رائے شماری ہوئی۔

قانون سازوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ سرٹیفیکٹ کے حامل شہریوں کے لیے کوئی اضافی قوائد نہیں ہوں گے۔

ہمارا ہند کو دستیاب معلومات کے مطابق ، یورپی پارلیمنٹ کے ممبر ممالک اس سرٹیفکیٹ کے حوالے سے ایپ کو منظور کریں گے ، لیکن اس کو محض رسمی حیثیت سے ہی سمجھا جارہا ہے۔

متوقع طور پر سفری سرٹیفیکٹ ساتھ رکھنے کے اس پروگرام کا آغاز یکم جولائی سے ہو جائے گا اور یورپی یونین کے تمام ملکوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ کسی بھی یورپی ملک کی جانب سے جاری کردہ اس سفری سرٹیفیکٹ کو قابل قبول سمجھیں۔

دوسری جانب سفری سرٹیفیکٹ کا اجرا کسی مرکزی یورپی انتظام کے تحت نہیں کیا جائے گا بلکہ رکن ملک خود سرٹیفیکٹ جاری کریں گے۔

ڈیجیٹل سرٹیفیکٹ پر ‘کیو آر کوڈ’ نمایاں ہوگا جو سیکیورٹی کی جدید خصوصیات کا حامل ہوگا۔ تاہم، اس میں موجود ڈیٹا دیگر ملکوں کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ متعدد یورپی ملکوں نے پہلے ہی سے یہ نظام رائج کر لیا ہے جن میں بلغاریہ، کروشیا، جمہوریہ چیک، ڈنمارک، جرمنی، یونان اور پولینڈ شامل ہیں۔

یورپی یونین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام رکن ملکوں کو دوسرے یورپی ممالک کے جاری کردہ ویکسی نیشن سرٹیفیکٹس کو تسلیم کرنا ہو گا۔

بیان کے مطابق​ یورپین میڈیسینز ایجنسی (اِی ایم اے) نے جن ویکسینز کی منظوری دی ہے سرٹیفیکٹ بھی ان ویکسین کے لگوانے کا قابلِ قبول ہوگا۔

یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ رکن ممالک چاہیں تو وہ عالمی ادارہٴ صحت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر استعمال کی جانے والی ویکسین کی اجازت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سرٹیفیکٹ پر دیگر ویکسینز کے اندراج کو بھی تسلیم کر سکتے ہیں۔

Photo Credit : https://travelweekly.co.uk/images/cmstw/original/1/4/4/2/d/easid-403557-media-id-28385.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: