کرونا ویکسین کی پہلی خوراک کتنے عرصے تک موثر رہتی ہے؟

طبی ماہرین اور سائنس دانوں کے سامنے آج ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا زیادہ لوگوں کو کووڈ نائنٹین سے جزوی تحفظ دینا بہتر ہے یا لوگوں کی کم تعداد کو زیادہ بہتر تحفظ فراہم کرنا اچھا ہو گا۔

بہت سے ماہرین کے نزدیک اس بے قابو عالمی وبا کیلئے کم تحفظ دینا کسی بھی قسم کا بچاؤ نہ ہونے سے بہتر ہے۔

دنیا کے چند حصوں میں محدود تعداد میں ویکسین کی سپلائی شروع کر دی گئی ہے۔ چند ماہرین کا کہنا ہے کہ حکام کو ویکسین کی مقررہ خوراک کے خلاف جانا چاہئیے، اور ویکسین دیے جانے کے تین سے چار ہفتوں کے بعد دوسری خوراک دینے کی بجائے تھوڑا انتظار کرنا بہتر ہو گا، اور اس طرح زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین کی پہلی خوراک دے دی جائے۔

نئے ڈیٹا کے مطابق، ویکسین کی پہلی خوراک ہی خاصی موثر ہے۔

تاہم، بہت سے ماہرین اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتے۔ یہ بڑا سوال اب بھی سر اٹھائے کھڑا ہے کہ وائرس سے بچاؤ کیلئے پہلی خوراک کتنے عرصے کیلئے موثر رہے گی، اور کیا وائرس کی تبدیل ہوتی فطرت کے سامنے پہلی خوراک ہی کافی ہو گی؟

ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہر شخص کو دوسری خوراک کی ضرورت ہے تا کہ وائرس سے اعلیٰ سطحی اور طویل مدتی تحفظ مل سکے۔ سوال یہ ہے کہ پہلی خوراک کے بعد کتنے عرصے تک ویکسین موثر رہے گی؟

برطانوی حکومت کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائزر بائیو این ٹیک ویکسین کی پہلی خوراک وبا کے خلاف 72 فیصد موثر ثابت ہوئی ہے۔ اس سے اسپتال میں داخل ہونے اور موت کے امکانات 75 فیصد کم ہو جاتے ہیں، اور 80 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں، پہلی خوراک کے بعد موت کا امکان 50 فیصد کم ہو جاتا ہے۔

اس رپورٹ سے پہلے گزشتہ ہفتے جمعرات کے روز، اسرائیل میں ہونے والی ایک تحقیق بھی شائع ہوئی ہے، جس میں فائزر بائیو این ٹیک کے ایسے ہی نتائج ظاہر ہوئے ہیں۔

اثر انگیز ہونے کا دورانیہ

تاہم یہ تشویش اب بھی موجود ہے کہ پہلی خوراک کتنے عرصے تک موثر رہے گی؟

امریکہ میں وبائی امراض کے چوٹی کے ماہر اینتھونی فاؤچی کا جمعہ کے روز کہنا تھا کہ پہلی خوراک کے بعد سامنے آنے والے اعداد گو کہ دلچسپ نظر آتے ہیں، لیکن ہمیں اس ایک بات کا علم نہیں کہ یہ کتنی دیرپا ہے، اور کتنا عرصہ موثر رہے گی۔

چونکہ یہ وائرس بھی نیا ہے اور ویکسین تو اس سے بھی زیادہ نئی ہے، اس لئے سائنس دانوں کے پاس حتمی نتائج کیلئے کچھ زیادہ ثبوت موجود نہیں ہیں۔

تاہم چند محققین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس خاصا ڈیٹا موجود ہے، جو کہ دوسری ویکسینوں سے اخذ کیا گیا ہے۔

برٹش کولمبیا سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول میں انفلونئزا اور سانس کی بیماریوں جیسے وبائی امراض کی ماہر ڈیینوٹا سکاؤ رونسکی کہتی ہیں کہ جب ایک دفعہ آپکو بہتر تحفظ مل جاتا ہے، تو پھر وہ آہستہ آہستہ ہی کم ہو تا ہے، اور اس عرصے کے دوران دوسری خوراک سے متعلق فیصلے کیلئے وقت مل جاتا ہے۔

دوسری خوراک سے نہ صرف طویل مدتی قوتِ مدافعت ملتی ہے بلکہ اس سے مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے، جب کہ خصوصی طور پر یہ وائرس کی بدلتی فطرت کے لئے خصوصی طور پر اہم ہے۔

اس وقت وائرس کی تبدیل شدہ شکلوں کیلئے موجودہ ویکسین کم موثر ثابت ہوئی ہے۔ تاہم یہ ویکسینیں، کووڈ نائنٹین میں مبتلا ہونے کے باعث اسپتال میں داخل ہونے اور موت جیسے سنگین خطرات سے بچاؤ میں معاون ثابت ہیں۔

Photo Credit : https://cdn-a.william-reed.com/var/wrbm_gb_food_pharma/storage/images/publications/pharmaceutical-science/biopharma-reporter.com/article/2020/12/02/pfizer-and-biontech-covid-19-vaccine-authorized-for-use-in-the-uk/11993410-1-eng-GB/Pfizer-and-BioNTech-COVID-19-vaccine-authorized-for-use-in-the-UK.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: