کرونا وائرس کا ہر دس میں سے ایک مریض تین ماہ کے بعد بھی بیمار ہے، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا ہر 10 میں سے ایک مریض تین ماہ گزرنے کے بعد ابھی تک بیمار ہے اور اس میں 12 ہفتے گزرنے کے بعد بھی بیماری کی علامات پائی جاتی ہیں، اس لئےحکام کو سنجیدگی سے ان کی حالت پر توجہ دینی چاہئیے۔

جمعرات کے روز ایک ورچوئل نیوز کانفرنس میں ڈبلیو ایچ او کے یورپ ڈویژن نے اپنی پالیسی بریف کے حوالے سے ایک مسودہ جاری کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح خطے کے ممالک ان مریضوں کو دیکھ رہے ہیں جن میں ابھی تک کووڈ نائینٹین کی طویل مدتی علامات پائی جاتی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے یورپ کیلئے ڈائریکٹر ہینز کلاگ کا کہنا تھا کہ’ لانگ کووڈ’ میں ایسی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں سخت تھکن کا احساس، سینے میں درد، سردرد، بھول جانا، ڈپریشن، سونگھنے کی حس ختم ہونا، بار بار بخار آنا، دست لگنا، اور کانوں میں آوازیں سنائی دینا وغیرہ شامل ہیں۔

پالیسی بریف میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک حاصل ہونے والا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ کووڈ نائینٹین وبا کی لپیٹ میں آنے والے ہر چار میں سے ایک مریض میں، پہلے پہل علامات ظاہر ہونے کے ایک ماہ بعد بھی وہی علامات ظاہر ہو رہی ہیں، جب کہ ہر 10 میں ایک مریض میں 12 ہفتے کے بعد بھی علامات موجود ہیں۔

کلاگ کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں کووڈ نائینٹین کے طویل مدتی اثرات اور بحالی کو سمجھنا ہے تو پھر ہمیں اس کے متاثرین کی ٹھیک ہونے کے بعد کی حالت پر نظر رکھنی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی سازوں کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ ایسے طویل مدتی مریضوں پر نظر رکھیں تا کہ اس عالمی وبا کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

ہینس کلاگ کا مزید یہ کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کیلئے طویل مدتی متاثرین ایک ترجیح ہیں، اور یہ ترجیح، صحت سے متعلق تمام حکام کو ہونی چاہئیے۔

کلاگ کا کہنا تھا کہ یورپ میں کرونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد مسلسل دوسرے ہفتے، ایک ملین سے کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ملکوں میں جہاں اس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں، وہاں نئے مریض نصف سے بھی کم تعداد میں سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سال کے آغاز سے نئے مریضوں کی تعداد تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ اس کی وجہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ان ممالک میں کیے گئے نئے اقدامات ہیں۔

تاہم کلاگ نے متنبہ کیا کہ کووڈ نائینٹین یورپ میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے، اور اس میں وائرس کی تبدیل شدہ دو شکلیں تشویش کا باعث ہیں، جو کہ دوسری تبدیل شدہ شکلوں کی جگہ لے رہی ہیں۔

Photo Credit : https://dynaimage.cdn.cnn.com/cnn/digital-images/org/a9f71c45-57d1-40b4-b07e-454dc6caa789.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: