کرونا سے امریکی ایئر لائن کو تین ماہ میں چالیس کروڑ ڈالر کا نقصان

خبریں

زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح اومیکرون وائرس کے امریکہ میں پھیلاؤ نے فضائی سفر کی صنعت کو بھی بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے اور ڈیلٹا ایئر لائن کو دسمبر کے ہفتے میں کئی پروازوں کے منسوخ ہونے کے باعث 408 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

کمپنی کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر ایڈ باسٹیئن کے مطابق گزشتہ چار ہفتوں کے دوران ایئر لائن کے 8 ہزار ملازمین کووڈ نائنٹین سے متاثر ہوئے ہیں۔

لیکن ایئرلائن نے کہا ہے کہ وہ اس سال موسم بہار اور موسم گرما کے مصروف فضائی سفر کے دوران مالی بحالی کے لیے پر امید ہے۔ البتہ، اس بحالی سے قبل اسے ایک اور سہ ماہی کے لیے مالی نقصان برداشت کرنا ہوگا۔

خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق کروناوائرس انتہائی متعدی قسم کے اومیکروں کے پھیلاو اور ملازمین کے کووڈ نائنٹین مرض میں مبتلا ہونے سے 24 دسمبر کے بعد ڈیلٹا ایئر لائن کی 2,200 پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔

لیکن گزشتہ کچھ دنوں میں پروازوں کی منسوخی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ پھر بھی پروازوں کی منسوخی سے ایئر لائن کو 75 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔ اب خدشہ ہےکہ عالمی وبا نے فضائی سفر کی صنعت کی بحالی کے کام کو دو ماہ پیچھے دھکیل دیا ہے۔

ڈیلٹا کے سی ای او باسٹیئن کہتے ہیں کہ جنوری یا فروری کے پہلے حصے میں سفر کے لیے کرائی جانے والی بکنگز میں اضافہ متوقع نہیں ہے، کیونکہ یہ سال کا وہ وقت ہے جب ہوائی سفر کم ترین سطح پر ہوتا ہے۔ اور اب تو اومیکرون کے باعث سفر میں اور بھی کمی ہوگئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ فضائی سفر میں بہتری کے لیے وائرس کے پھیلاو میں کمی کے بعد اعتماد بحال کرنےکی ضرورت ہوگی۔

ڈیلٹا کے خیال میں اگلے چند دنوں میں اومیکرون انفیکشن عروج پر ہو گا اور پھر تیزی سے کم ہو گا جیسا کہ یہ جنوبی افریقہ اور برطانیہ کے معاملے میں ہوا ہے۔

اومیکرون وائرس نے سفر کے رجحان میں سست رفتاری سے ہونے والے اضافے کو روک دیا ہے۔ جنوری میں اب تک، امریکہ میں ہوائی سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد 2019 کے اسی مہینے کے مقابلے میں 20% کم رہی اور گراوٹ کا یہ رجحان نومبر اور دسمبر میں 16 فیصد کی کمی سے بھی بدتر ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں یونائیٹڈ ایئر لائنز کے سی ای او سکاٹ کربی نے ملازمین کو ایک خط میں لکھا تھا کہ کمپنی کے 3,000 ملازمین کووڈ نائنٹین سے متاثر ہوئے ہیں۔

یہاں تک کہ نیویارک میں ایک ہی دن میں یونائیٹڈ کے تقریباً ایک تہائی عملہ کرونا سے متاثر ہوا اور ایئر لائنز نے ملک بھر میں طے شدہ پروازوں میں کمی کر دی۔

ڈیلٹا اور یونائٹڈ کمپنیوں میں کل ملا کر تقریباً 74,000 کارکنان ہیں۔

ڈیلٹا کو توقع ہے کہ جنوری اور فروری میں اور مجموعی طور پر پہلی سہ ماہی میں مالی نقصان ہوگا۔ اور اس سہ ماہی میں کمپنی کا ریونیو ممکنہ طور پر وبائی امراض سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کم ہو کر 72% سے 74% تک ہو گا۔

اس کے بعد چوتھی سہ ماہی میں بھی حالات کچھ ایسے ہی رہیں گے۔ ایندھن کے علاوہ دیگر لاگتیں سن 2019 کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد بڑھ جائیں گی۔ علاوہ ازیں جیٹ فیول بھی مہنگا ہو رہا ہے۔

تاہم، ہوائی کمپنی اٹلانٹا متوقع طور پر مارچ میں منافع بخش ہوگی جبکہ موسم بہار میں کرونا کے کیسز میں کمی ہونے کے ساتھ طیارے مسافروں سے بھر جانے کی توقع ہے۔

اے پی کی رپورٹ کے مطابق باسٹین نے کہا ہے کہ اس سال کئی ہزار ملازموں کی بھرتی کا امکان ہے، کیونکہ ان کی کمپنی ڈیلٹا وبائی مرض کے خراب حالات سےنکل رہی ہو گی۔ کمپنی نے ہر موجودہ ملازمیں کے لیے $1,250 کے خصوصی بونس کی ادائیگی کے لیے 108 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔

Photo Credit : https://s.abcnews.com/images/Politics/airlines-delta-united-covid-01-gty-llr-200921_1600709530352_hpMain_16x9_1600.jpg