کروناوائرسکیتیزیبرقرار، نیوزیلینڈاورچینمیںحفاطتیاقداماتمیںسختی

خبریں

جانزہاپکنزیورنیورسٹیکےکروناوائرسریسورسسینٹرکیپیرکیرپورٹمیںبتایاگیاہےکہدنیابھرمیںعالمیوباسےمتاثرہونےوالوںکی تعداد 32 کروڑ 81 لاکھسےبڑھچکیہے جب کہ اموات 55 لاکھسےزیادہہیں۔

دنیابھرمیں اب تککروناوائرسسےبچاؤ کی9 ارب 70 کروڑسےزیادہخوراکیںلگائیجاچکیہیں۔

نیوزیلینڈمیںبچوںکیویکسینیشن

نیوزیلینڈکی وزارت صحت نےکہاہےکہکروناوائرسسےبچاؤکےلیےپانچسےگیارہ سال کی عمر کےبچوںکوپیرکے روز سےفائزرکیویکسینلگانا شروع کردیگئیہے۔ فائزرنےیہویکسینبچوںکےلیےخصوصی طور پرتیارکیہے۔

ویکسینکیایکلاکھ 20 ہزارسےزیادہخوراکیںملکبھرکےپانچ سو سےزیادہمراکزپرپہنچادیگئیہیں۔

نیوزیلینڈکےکروناوائرسویکسینیشنپروگرامکےکلینکلڈائریکٹرڈاکٹرانٹنیجورڈناوکلینڈنےکہاہےکہبچوںکواسکولبھیجنےسےپہلےانہیںویکسینلگاناوباسے محفوظ رکھنےکاایکبہترینطریقہہے۔

ڈاکٹراوکلینڈنےاپنےایکبیانمیںکہاہےکہشواہدسےیہ معلوم ہواہےکہاگربچوںکوکووڈلگجائے تو کچھبچوںمیںہلکی علامات ظاہرہوتیہیں، جب کہکئیبچوںپر اس کاحملہشدیدہوتاہےاورآخرکارانہیںاسپتال داخل کراناپڑتاہے۔

اگلےچندہفتےامریکہکےلیے سخت ہیں، سرجن جنرل

امریکہکی سرجن جنرلڈاکٹرووکمورتھینے اتوار کے روز “سیایناین” چینلکے “اسٹیٹآفیونیئن” پروگراممیںکہاہےکہاگلےچندہفتےامریکہکےلیےمشکلہوسکتےہیں، کیونکہیہاںکروناکاویرینٹاومیکرونابھیاپنیبلندترین سطح تکنہیںپہنچاہے۔

امریکہکے بعد برطانیہنےبھیکووڈمیں مبتلا ہونےوالوںکےلیےقرنطینہکی مدت دس دن سےگھٹاکرپانچ روز کردیہے، جس کااطلاقپیرکے روز سےہوگیاہے۔

یونیسیفکاروانڈاکوویکسینکاعطیہ

یونیسیفکیایگزیگٹوڈائریکٹرہینریٹا فور نےکہاہےکہروانڈاکوکوویکسپروگرامکے تحت ویکسینکیگیارہلاکھخوراکیںبھیجدیگئیہیں۔ ان کامزیدکہناتھاکہ اس ملکمیںابھیمزیدبہتکچھکیےجانےکیضرورتہےکیونکہوہاں اب بھیبہتسےایسےلوگ موجود ہیںجنہیںویکسینکیایکبھیخوراکنہیں مل سکیہے۔

روس میںاومیکرونکیسزمیں دو گنااضافہ

ماسکومیںروسیحکامنےپیرکے روز بتایاکہملککوکروناوائرسکےتیزیسےبڑھتےہوئےکیسزکا سامنا کرناپڑرہاہے جس کیوجہنیاویرینٹاومیکرونہے۔


گزشتہچوبیسگھنٹوںکے دوران تقریباً 31 ہزارنئےکیسزرجسٹرہوئے جو کہایکہفتہ قبل کےمقابلےمیں دو گنازیادہہیں۔ حکامنےبتایاکہ اس عرصےکے دوران 670 اموات بھیہوئیہیں۔

صحت کیدیکھبھالسے متعلق روسیادارےکیسربراہایناپوپووانےانتباہکیاہےکہنئےکیسزکیروزانہ تعداد آنےوالےدنوںمیںایکلاکھسےبڑھسکتیہے اور ہمیںغیرمعمولی صورت حال کےلیےتیاررہناچاہیے۔

چینمیںچاندکےنئے سال پرسفریپابندیاں

چینمیںنیاقمری سال ایکایسے موقع پر شروع ہورہاہے جب کئیشہروںمیںکروناوائرستیزیسےپھیلرہاہے۔ چینیحکامنےاحتیاطیتدابیرکے طور پر، پیرسےتعطیلاتکےساتھ سفر کا موسم شروع ہونےکےساتھہیکئیپابندیاںلگادیہیں جن میں سفر پرجانےوالوںسے تقاضا کیاگیاہےکہوہ سفر کےآغازسےکئی روز پہلےحکامکو مطلع کریں۔

چینمیںعالمیوباکینئیجینیاتی قسم بیجنگسمیتکئیبڑےشہروںتکپہنچچکیہے۔ دوسری جانب صورت حال یہہےکہچاندکےنئے سال پر، جو یکمفروریکوہوگا۔ لاکھوںچینیباشندوںاپنےپیاروں اور عزیزوںکےساتھیہتہوارمنانےکےلیے سفر کرتےہیں۔

لویانگ اور جییانگسمیتچینکےکئیشہروںمیںعہدےداروںنے سفر کرنےوالوںسےکہاہےکہوہاپنیآمدسےکم از کمتین دن پہلےاپنیکمیونیٹیز، آجروںیاہوٹلوںکوآگاہکریں۔

جنوب مغربیشہرلولیننےہفتےکے روز اپنےایک اعلان میںکہاکہشہرمیں داخل ہونےسےایک دن قبل مسافروںکواپنی صحت کےبارےمیںایک آن لائن فارم پرکرناہوگا۔

سرمائیاولمپکسمیں عوام کاداخلہنہیںہوگا

چینمیںویکسینلگانےکی شرح اگرچہ 86 اعشاریہ 6 فی صد ہے، لیکنحکامسرمائیاولمپکسکیوجہسےبہت محتاط ہیں اور ہرممکناحتیاطیتدابیراختیارکررہےہیںتاکہکھیلوںکے دوران کسیپریشانیکا سامنا نہکرناپڑے۔

بیجنگمیںچارفروریسےہونےوالےسرمائیاولمپکسکیٹکٹوںکیفروخت شروع کیجارہیہے۔ تاہم، یہٹکٹیں صرف مخصوص لوگوںکوہیدیجائیںگی اور عام لوگوںکوکھیلوںکے مقامات میںداخلےکی اجازت نہیںہوگی۔

آرگنائزیشنکمیٹینےپیرکے روز کہاہےکہیہاحتیاطیاقداماتکروناوائرسکےبڑھتےہوئےکیسزکےپیش نظر کیےجارہےہیں۔

حالیہدنوںمیںبیجنگکےقریب واقع کئیشہروںمیںعالمیوباکےپھیلاؤمیںاضافےکےپیش نظر احتیاطیپابندیاں نافذ کیگئیہیں۔

Photo Credit : https://img.etimg.com/thumb/msid-87960355,width-1200,height-900,imgsize-57920,overlay-economictimes/photo.jpg