کراچی کے ضمنی انتخاب کے لیے خیبر پختونخوا کے سیاسی رہنما سرگرم، معاملہ کیا ہے؟


پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 میں 29 اپریل کو ضمنی انتخاب ہونا ہے۔ لیکن ایک ماہ قبل ہی حلقے میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حلقے میں مدِمقابل دو بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے انتخابی مہم کے لیے خیبر پختونخوا سے اپنی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں کو مدعو کیا ہے۔

این اے 249 کے اس حلقے میں پشتون، ہزارہ اور اردو زبان بولنے والے افراد کی بڑی تعداد مقیم ہے۔ حلقے میں درجنوں کچی آبادیوں میں پختون ووٹ بنک کو اپنے امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے امیدوار ملاقاتیں، دعوتیں اور کارنرز میٹںگز میں مصروف ہیں۔

خیبرپختونخوا سے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وفاقی وزیر امیر مقام اپنی جماعت کے نامزد امیدوار مفتاح اسماعیل کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے 28 مارچ کو حلقے میں واقع اتحاد ٹاؤن کے خیبر چوک میں منعقدہ جلسے سے خطاب میں پشتو زبان میں تقریر کی اور علاقہ مکینوں سے مفتاح اسماعیل کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔

اسی طرح حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید خیبرپختونخوا سے اپنی جماعت کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ دو اپریل کو اسی حلقے میں پارٹی امیدوار امجد آفریدی کی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔

مراد سعید بھی اپنے دورے کے دوران مختلف برادریوں سے ملاقاتیں کر کے انہیں پی ٹی آئی امیدوار کی حمایت کے لیے درخواست کریں گے۔

یاد رہے کہ کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن پر محیط قومی اسمبلی کی یہ نشست پی ٹی آئی کے رکنِ قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے آبی امور فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

سن 2018 کے عام انتخابات میں اس نشست پر فیصل واوڈا اور مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا تھا۔ فیصل واوڈا نے 35 ہزار 344 جب کہ شہباز شریف نے 34 ہزار 626 ووٹ حاصل کیے تھے۔

اس نشست پر تحریکِ لبیک پاکستان کے امیدوار مفتی عابد مبارک 23 ہزار 981 ووٹ حاصل کر کے تیسرے نمبر پر تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے امیدوار اسلم شاہ آفریدی 13534 ووٹ لے کر چوتھے، جماعت اسلامی کے امیدوار متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے 10307 ووٹ لے کر پانچویں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل 7236 ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر تھے۔

مذکورہ نشست پر 29 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسماعیل اور پی ٹی آئی کے امجد آفریدی کے علاوہ ٹی ایل پی، ایم کیو ایم پاکستان، پی پی پی، پاک سرزمین پارٹی، جے یو آئی (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھی اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔

انتخابی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ این اے 249 میں 2018 کے انتخابات کے رجحان کو دیکھتے ہوئے یہی امید کی جا رہی ہے کہ ضمنی انتخاب میں اصل مقابلہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان متوقع ہے۔

واضح رہے کہ کراچی کی پختون اکثریتی آبادیاں اپنے متنوع سیاسی رجحانات کی وجہ سے جانی جاتی ہیں جہاں وفاقی، لسانی اور مذہبی سیاست کرنے والی جماعتوں کے جھنڈے، وال چاکنگ اور دفاتر نظر آتے ہیں۔

ان جماعتوں میں وفاقی سیاست کرنے والی پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی پی ہیں جب کہ پختون قوم پرست سیاست کرنے والی اے این پی اور مذہبی جماعتیں جے یو آئی(ف)، جماعت اسلامی اور کالعدم اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان) شامل ہے۔

ضمنی انتخاب میں کامیابی کے لیے مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی حلقے میں پختون ووٹرز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور اس مقصد کے لیے امیر مقام، مراد سعید اور خیبر پختونخوا کے دیگر سیاسی رہنماؤں کی حلقے میں آمد اور انتخابی مہم میں حصہ لینا بھی انہی کوششوں کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

‘قیادت نے خیبر پختونخوا کے رہنماؤں کو انتخابی مہم میں مدد کی ہدایت کی ہے’

مسلم لیگ (ن) سندھ کے سیکریٹری اطلاعات خواجہ طارق نذیر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ این اے 249 کے حلقے میں بڑی تعداد میں پختون ووٹرز ہیں جسے دیکھتے ہوئے پارٹی قیادت نے خیبر پختونخوا کے رہنماؤں کو انتخابی مہم میں مدد کی ہدایت کی ہے۔

خواجہ طارق کے بقول ان کی جماعت بلدیہ ٹاؤن میں پہلے ہی سے کافی مضبوط ہے اور ماضی میں پارٹی کے مرحوم رہنما میاں اعجاز شفیع قومی اسمبلی کی اس نشست پر کامیاب ہو چکے ہیں جب کہ 2015 کے بلدیاتی انتخابات میں بھی بلدیہ ٹاؤن کی متعدد یونین کونسلز کی چیئرمین شپ بھی مسلم لیگ (ن) کے پاس تھی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ عام انتخابات میں اس نشست پر شہباز شریف نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن انہیں دھاندلی سے ہرایا گیا تھا۔

دوسری طرف این اے 249 سے تحریک انصاف کے امیدوار امجد آفریدی کراچی کے ضلع غربی کے پارٹی صدر ہیں اور وہ ضمنی انتخاب میں کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔

حمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے ، انہوں نے دعوی کیا کہ حلقہ کے عوام کو عمران خان کی پالیسیوں پر اعتماد ہے لہذا وہ مٹی کا تودے گرنے سے کامیاب ہوجائیں گے۔

‘پختون آبادیوں میں سیاسی رجحان تبدیل ہو رہا ہے’

کراچی کی لسانی اور پارلیمانی سیاست کا مطالعہ کرنے والے محقق سرتاج خان اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ماضی میں پختون لسانی جماعتیں خصوصاً عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) عام انتخابات یا دیگر مواقع پر خیبر پختونخوا سے مرکزی قیادت کو کراچی جلسے جلوسوں کے لیے مدعو کرتی تھی۔

ان کے بقول گزشتہ دو دہائیوں میں شہر میں مستقل طور پر آباد پختونوں میں ایک نئی مڈل کلاس ابھری ہے جو لسانی یا قوم پرست سیاست کے بجائے مرکز کی سیاست کرنے میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکز کی سیاست کرنے والی دونوں بڑی جماعتوں نے مقبول پختون رہنماؤں کو حلقے میں انتخابی مہم چلانے کے لیے بھیجا ہے۔

محقق سرتاج خان کا کہنا ہے کہ کراچی میں 2013 میں شروع ہونے والا آپریشن اور 2017 میں ہونے والی قومی و صوبائی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں کے سبب کراچی کے پختونوں میں تشکیل پانے والی مڈل کلاس میں لسانی اور فرقہ وارانہ جماعتوں کے بجائے قومی سیاسی جماعتوں کی حمایت کرنے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔

این اے 249 کے حلقے میں ماضی میں انتخابات کی مانیٹرنگ کرنے والے تجزیہ کار قاضی خضر کہتے ہیں 2018 کے انتخابات میں اس نشست پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اصل مقابلہ تھا اور ضمنی انتخاب میں بھی دونوں جماعتیں یہ نشست جیتنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔

قاضی خضر، حال ہی میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سندھ کے وائس چیئرمین منتخب ہوئے ہیں، نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے سیاسی رہنماؤں کی حلقے میں آمد اور دورے پختون، ہزارہ اور پنجابی ووٹروں کو اپنی جماعتوں کے امیدواروں کی طرف راغب کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں پختون آبادی کا سیاسی رجحان تبدیل ہوتا رہتا ہے اور یہاں ووٹ ڈالنے کے رویے کا خیبر پختونخوا سے گہرا تعلق ہے۔

گزشتہ عام انتخابات میں جہاں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نے بھرپور کامیابی حاصل کی۔ وہیں کراچی کی پختون آبادیوں پر مشتمل قومی و صوبائی حلقوں سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر پہلی مرتبہ متعدد پختون رہنما قومی اور سندھ اسمبلی کے اراکین منتخب ہوئے تھے۔ ان اراکین قومی اسمبلی میں سیف الرحمٰن محسود، عالمیگر خان، کیپٹن (ریٹائرڈ) جمیل، عطا اللہ خان اور فہیم خان شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا کے انتخابات کا کراچی کے پختون علاقوں پر انتخابی اثر

ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں انتخابات کے دوران رونما ہونے والے رجحانات کراچی میں آباد پختون کمیونٹی پر اثرانداز ہونا 2002 کے عام انتخابات سے شروع ہوا تھا۔ جب چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے خیبر پختونخوا سے کامیابی حاصل کی تھی۔

جب خیبر پختونخوا میں متحدہ مجلس عمل نے کامیابی حاصل کی تو کراچی کی پختون آبادیوں سے بھی مذہبی جماعتوں کے اس اتحاد کی رکن جماعتوں جمیعت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے پختون نمائندے کیماڑی، سائٹ، بلدیہ ٹاؤن اور لانڈھی صنعتی ایریا کے حلقوں سے منتخب ہوئے تھے۔

اسی طرح 2008 کے عام انتخابات میں جب اے این پی نے خیبر پختونخوا میں کامیابی حاصل کی تو کراچی کے پختون اکثریتی علاقوں پر مشتمل سندھ اسمبلی کے دو حلقوں سے بھی اسی جماعت کے امیدوار کامیاب قرار پائے۔

جب 2013 میں پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا سے کامیابی حاصل کی تو کراچی کے پختون اکثریتی علاقوں پر مشتمل دو سندھ اسمبلی کے حلقوں میں سے ایک پر پی ٹی آئی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔

محقق سرتاج خان اس کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بڑے پیمانے کی نقل و حرکت اور سوشل میڈیا کے ذریعے رابطوں میں اضافے کے باعث کراچی کے پختون خیبر پختونخوا میں ہونے والے انتخابی رجحانات سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کا اثر 2018 کے انتخابات میں واضح نظر آیا تھا۔

صوبۂ ہزارہ کی تحریک

این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے ایک امیدوار محمد اشرف اس نکتے پر اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں کہ وہ قومی اسمبلی میں پہنچ کر خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کو ایک نئے صوبے یعنی صوبۂ ہزارہ کی تشکیل کے لیے آوازا ٹھائیں گے۔

بلدیہ ٹاؤن کے علاقے رشید آباد میں مقیم کالج استاد ظفر علی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (جونیجو) جیسی غیر معروف سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر انتخابات لڑنے والے محمد اشرف اس نعرے کے ساتھ حلقے میں آباد خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کے متعدد اضلاع سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

حمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے ، ظفر علی کا کہنا ہے کہ ماضی میں ، خیبر پختون خوا سے تحریک کے رہنماؤں بالخصوص بابا حیدر زمان اور سردار یوسف نے بلدیہ ٹاؤن کے ان علاقوں میں ملاقاتیں کیں جہاں ہزارہ ڈویژن تشکیل دیا گیا ہے۔ رہائشی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔

جنوری 2020 میں بھی ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے رشیدآباد ہی سے ایک جلسے میں صوبۂ ہزارہ کی تحریک کو دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے سابق وفاقی وزیر سردار محمد یوسف، جے یو آئی (ف) کے سینیٹر طلحہ محمود، سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

Photo Credit : https://i.tribune.com.pk/media/images/997742-politicalcampaign-1448388267/997742-politicalcampaign-1448388267.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: