کابل میں لاپتا صحافی انس ملک محفوظ ہیں، پاکستانی سفارت خانے کی تصدیق

خبریں


کابل میں لاپتا ہونے والے پاکستانی صحافی انس کا ملک سے رابطہ ہو گیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔

صحافی انس ملک افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر رپورٹنگ کے لیے کابل میں موجود تھے جہاں جمعرات کی شام سے ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ انس سے رابطہ نہ ہونے پر صحافتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی تھی۔

تاہم اب کابل میں موجود پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے تصدیق کی ہے کہ ان کا انس ملک سے رابطہ ہو گیا ہے اور وہ بخیریت کابل میں ہی موجود ہیں۔

سفیر نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ان کی انس ملک کے ساتھ ٹیلی فون پر مختصر گفتگو ہوئی ہے اور سفارت خانہ ان کے ساتھ رابطے میں رہے گا۔

واضح رہے کہ انس ملک سے رابط نہ ہونے پر ان کی گرفتاری کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

تین اگست کو انس ملک نے ایک ٹویٹ میں کابل میں لی گئی اپنی ایک تصویر شیئر کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر کوریج کے لیے کابل میں موجود ہیں۔

‘طالبان کے آنے کے بعد افغانستان میں صحافت دُشوار ہو چکی ہے’

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ طالبان کو اقتدار سنبھالے ایک سال مکمل ہونے کو ہے۔ تاہم صحافیوں کو درپیش مشکلات برقرار ہیں۔

 افغانستان میں مقیم آزادی صحافت کی تنظیم کے صدر حجت اللہ مجددی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کا عمل شروع میں بہت زیادہ تھا۔

اُن کے بقول طالبان کے آنے کے بعد صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور اُنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اُنہوں نے مزید بتا یا کہ ان کا شروع دن سے طالبان سے یہی مطالبہ تھا کہ صحافیوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے ایک کمیشن بنایا جائے جہاں ان کو درپیش مشکلات اور صحافتی اصولوں کو مرتب کیا جائے۔لیکن تا حال وہ کمیشن نہیں بن سکا۔

حجت اللہ مجددی کا مزید کہنا تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں کمی واقع ہو گئی تھی تاہم گزشتہ روز پھر سے تین صحافیوں کی گمشدگی کی اطلاعات سامنے آئیں۔لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ان کی رہائی 24 گھنٹوں کے اندر ممکن ہو پائی۔

یاد رہے کہ حالیہ عرصہ میں افغانستان میں صحافیوں کی شکایات کا سلسلہ نہ صرف مقامی صحافیوں تک محدودرہا بلکہ انٹرنیشنل صحافی بھی اس کا شکار ہوئے ہیں۔ حال ہی میں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی صحافی لین اوڈونیل کو طالبان نے افغانستان میں گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے ٹویٹ کے ذریعے اپنی خبروں کو بغیر کسی جامع تحقیق کی بنیاد پر شائع کرنے کی وضاحت کی تھی۔

تاہم رہائی کے بعد لین آوڈونیل نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ طالبان نے ان سے کہا تھا کہ معافی کی ٹویٹ کریں یا پھر جیل جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔

حجت اللہ مجددی ان واقعات کو صحافتی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی صحافی کی خبر سچائی پر مبنی ہو تو اسے اس پر ڈٹے رہنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کے دباؤ میں آ کر پہلے ایک اور پھر دوسرا بیان جاری کیا جائے۔

افغانستان میں مقیم صحافیوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صحافت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ سینئر صحافی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ بے شمار ادارے بند ہو چکے ہیں۔ ایسے میں جو چند ایک صحافی اور ادارے بچے ہیں انہیں آئے روز بیشتر مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر طلوع نیوز زیرک فہیم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں معلومات تک رسائی کے حوالے سے مشکلات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

کابل سے  گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی سے متعلق معاملات پر صحافی خبر دینے سے گھبراتے ہیں۔ کیوں کہ طالبان اس حوالے سے زیادہ حساس ہیں۔

اُن کے بقول صحافیوں کو جائے وقوعہ تک جانے کی اجازت نہیں دی جاتی جس سے حقائق پر مبنی رپورٹنگ دُشوار ہو جاتی ہے۔

زیرک فہیم کا مزید کہنا تھا کہ کبھی کبھار ایسے واقعات کی کوریج کے دوران طالبان کے ساتھ تلخی کی صورت میں کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے اور بعض واقعات کے دوران صحافیوں کو مار پیٹ کے ساتھ گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ اور ان واقعات کا دائرۂ کار صرف کابل تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ دیگر صوبوں میں بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ افغان طالبان ایسے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں، اُن کا یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں صحافیوں کو کام کرنے کی آزادی ہے اور اُنہیں ہراساں نہیں کیا جاتا۔

تصویر کریڈٹ : https://twitter.com/AnasMallick/status/1554864456907341825/photo/1