ڈسکہ ضمنی انتخاب: پولیس، انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کے افسران دھاندلی کے ذمے دار قرار


الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں دھاندلی سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق حکومتی امیدوار کو جتوانے کے لیے تمام تر حربے استعمال کیے گئے۔ 20 پریزائیڈنگ افسران کے مبینہ اغوا اور انہیں ایک ہی مقام پر رکھ کر نتائج تبدیل کرنے کا معاملہ بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے پکڑا گیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے آٹھ نومبر کو عام کردہ رپورٹ کے مطابق ذمے داران کے خلاف کارروائی کے لیے سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ضمنی انتخاب میں دھاندلی کرنے والوں کے خلاف اقدامات تجویز کرے گی۔

حکومت نے اب تک کمیشن کی رپورٹ پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے اس بارے میں ردِ عمل کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی تو ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ البتہ سابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے دھاندلی کے کسی بھی عمل میں شامل ہونے سے مکمل انکار کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اسے حکومت کے خلاف چارج شیٹ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لے۔

پارٹی صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ڈسکہ میں ووٹ چوری ثابت ہو چکی ہے۔ عوام سے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار چھیننے کی کوشش ہو رہی ہے۔

دھاندلی کس طرح کی گئی؟

الیکشن کمیشن نے 18 فروری 2021 کو ہونے والے ضمنی انتخاب کے دوران دھاندلی اور پولنگ کے بعد پریزائیڈنگ افسران کے ‘غائب’ ہونے پر دو مختلف رپورٹس جاری کی ہیں جن میں سے ایک 39 صفحات پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ ہے جب کہ دوسری 142 صفحات پر مشتمل مکمل انکوائری رپورٹ ہے۔

کمیشن کی رپورٹس کے مطابق ڈسکہ ضمنی انتخاب کے دوران الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور تمام انتظامیہ، پولیس اور محکمۂ تعلیم کے لوگ اس میں ملوث تھے۔

رپورٹ کے مطابق محکمۂ تعلیم کی خاتون افسر کے گھر الیکشن سے قبل اجلاس ہوتے رہے جس میں پولیس اور انتظامیہ کے افسران شریک ہوئے۔ پولیس کے ایک افسر ذوالفقار ورک کو خاص طور پر اس الیکشن کے لیے سمبڑیال کا ڈی ایس پی ہونے کے باوجود ڈسکہ کے ایک ڈی ایس پی کو طبی رخصت دلوا کر اضافی چارج دیا گیا اور اس کے بعد اس نے اپنی خصوصی ٹیم تیار کی جس میں دیگر اضلاع سے پولیس افسران اور اہلکاروں کو ڈسکہ لایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈسکہ میں بعض ایسے پولیس افسران اور اہلکار بھی کام کر رہے تھے جن کی الیکشن ڈیوٹی یہاں نہیں تھی۔

واضح رہے کہ 19 فروری کو سیالکوٹ کے شہر ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی اور مسلم لیگ (ن) کی امیدوار سیدہ نوشین افتخار کے درمیان مقابلہ تھا۔

یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سید افتخار الحسن کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی جس پر ان کی صاحبزادی نوشین الیکشن لڑ رہی تھیں۔

ضمنی انتخاب میں دھاندلی کی شکایات پر الیکشن کمیشن نے انتخاب کالعدم قرار دے دیا تھا جسے علی اسجد ملہی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ تاہم اعلیٰ عدالت نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

بعدازاں 10 اپریل کو ڈسکہ میں دوبارہ ہونے والے ضمنی انتخاب میں سیدہ نوشین ایک لاکھ 11 ہزار 220 ووٹ لے کر کامیاب ہوئی تھیں جب کہ ان کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی 92 ہزار 18 ووٹ حاصل کرسکے تھے۔

پریزائیڈنگ افسران کہاں غائب ہو گئے تھے؟

الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق تمام پریزائیڈنگ افسران تاخیر سے پہنچنے کا ملبہ پولیس پر ڈالتے رہے کہ وہ انہیں لمبے روٹ سے لے کر آئی یا پھر دھند کا بہانہ بنایا گیا۔ لیکن کال ڈیٹا ریکارڈر نے تمام کی لوکیشن زہرہ اسپتال کے نزدیک ایک مقام پر ظاہر کی۔

رپورٹ کے مطابق تمام 20 پریزائیڈنگ افسران اپنے اصل راستوں پر جانے کے بجائے پسرور سیالکوٹ روڈ پر پہنچے۔ سیالکوٹ آنے کے بعد شہاب پورہ اگوکی روڈ پر زہرہ اسپتال کے قریب ایک نامعلوم مشکوک مقام پر سب رکے اور پھر صبح چار بجے ایک ساتھ ریٹرننگ افسر کے دفتر روانہ ہوئے۔ تمام پریزائیڈنگ افسران کا یہ عمل پورے انتخابی عمل کو مشکوک بناتا ہے۔

زہرہ اسپتال کے قریب یہی وہ مقام ہے جہاں تمام افسران موجود تھے لیکن اسے تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے بھی اپنے بیان میں 18 فروری کی شب اپنے گھر میں ہونے کا بیان دیا لیکن ان کے فون کی لوکیشن بھی زہرہ اسپتال کے پاس اس مقام کی آ رہی تھی جہاں دیگر پریزائیڈنگ افسران موجود تھے۔

رپورٹ کے مطابق جب ڈپٹی کمشنر نے اپنا فون اپنے گن مین کے پاس ہونے کا کہا تو وہ اس بات کا کوئی جواب نہ دے سکے کہ اس رات ان کے ڈی سی ہاؤس سے کس نے ان کے موبائل پر کال کی، پھر رات ڈیڑھ بجے اس موبائل نمبر پر ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کیا گارڈ سے 115 سیکنڈ تک بات کرتے رہے؟

رپورٹ میں حتمی فائنڈنگز دیتے ہوئے کہا گیا کہ انتخابات کے لیے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر، ریٹرننگ آفیسر، اور دیگر افسران کے درمیان رابطے کی کمی تھی۔ انتخاب کے روز اور اس سے پہلے جو کچھ ہو رہا تھا اس میں ضلعی انتظامیہ کسی نہ کسی مرحلے پر اس میں شامل تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ پولیس کو اس دن ہونے والے تمام واقعات کا پہلے سے علم تھے اور وہ جانتے بوجھتے یا نیم دلی کے ساتھ اس تمام عمل کا حصہ بنتے رہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسر کی طرف سے ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا گیا جو علاقے میں پرامن انتخاب کے انعقاد میں مدد دیتا اور قتل سمیت فائرنگ کے واقعات کو روکنے کا سبب بنتا۔

محکمۂ تعلیم کے افسران کا کردار

رپورٹ کے مطابق دھاندلی کے عمل میں محکمۂ تعلیم کا عملہ بھی مکمل طور پر شامل تھا جس کی اصل وجوہات یہ افسران ہی بتا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مختلف مراحل میں مالی فوائد دینے اور لینے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا۔

رپورٹ کے آخر میں سفارشات میں محکمۂ تعلیم کے پریزائیڈنگ افسران سمیت سی ای او ایجوکیشن مقبول احمد شاکر، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر اکبر گھمن اور دیگر 17 افسران کے خلاف مزید انکوائری کرانے کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر قمر زمان چوہدری کے بارے میں بتایا گیا کہ اس افسر نے اپنے نائب قاصد کے نام سے ایک موبائل فون سم ایشو کرائی اور اس کے ذریعے تمام سیاست دانوں، پولیس افسران اور دیگر پریزائیڈنگ افسران کو رابطے کرتا رہا، رپورٹ میں اس کے خلاف کریمنل کیس درج کر کے کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک خاتون افسر ڈی ای او فرخندہ سلیم کے گھر میں 17 فروری کو دھاندلی کے مختلف طریقوں پر غور کرنے کے لیے ایک اجلاس ہوا جس میں اسسٹنٹ کمشنر، ڈی ایس پی سمیت فردوس عاشق اعوان بھی شریک ہوئیں۔ اس خاتون افسر کے خلاف بھی کریمنل کیس درج کر کے کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

پریزائیڈنگ افسران کے بیان

اس انکوائری کے دوران پانچ پریزائیڈنگ افسران اپنے ماضی میں دیے گئے بیانات سے مکمل طور پر منحرف ہوگئے اور سیالکوٹ میں تمام پریزائیڈنگ افسران کو لے جائے جانے کو تسلیم کر لیا۔

ایک پریزائیڈنگ افسر شاہد عمران نے بیان دیا کہ انتخاب کے روز رات آٹھ بجے تک نتیجہ مکمل کر لیا گیا تھا جس میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار کو سبقت حاصل تھی۔ اس موقع پر چند پولیس اہلکار آئے اور کہا کہ انہیں ایک رف رزلٹ بنا دیں۔

جس کے بعد ان پولیس اہلکاروں نے ان سے جلدی سے نکلنے کا کہا اور جب وہ اپنی حفاظت پر مامور اہلکاروں کے ساتھ ریٹرننگ افسر کے دفتر کی طرف جارہے تھے تو راستے میں نامعلوم پولیس اہلکاروں نے انہیں روکا اور اس کے بعد شہر میں ہونے والے قتل کے بعد سیکیورٹی صورتِ حال کا بہانہ بنا کر اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔

شاہد عمران کے مطابق انہیں ڈی ایس پی پسرور کے دفتر میں لے جایا گیا، اس سے قبل ان سے موبائل فون لے لیے گئے تھے۔ اس کے بعد انہیں ڈسکہ کے بجائے سیالکوٹ میں لایا گیا اور وہاں ایک فیکٹری میں ان سے پولنگ بیگز لے لیے گئے اور انہیں پہلے سے بھرا ہوا فارم 45 دے کر اس پر دستخط کرنے کو کہا گیا۔

تمام پریزائیڈنگ افسران کے ساتھ یہی سلوک ہوا جس کے بعد صبح چار بجے انہیں ریٹرننگ افسر کے دفتر کی طرف لے جایا گیا۔

پولیس کا دھاندلی میں مرکزی کردار

رپورٹ کے مطابق دھاندلی کے تمام معاملے میں پولیس کا کردار سب سے زیادہ ہے اور دھاندلی میں پولیس مکمل طور پر شامل ہے۔ پولیس افسران کو شہر میں ہونے والی فائرنگ کے حوالے سے بھی علم تھا، ان فائرنگ کے واقعات کے دوران دو شہری ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے پولنگ اسٹیشنز میں تعینات پولنگ کے عملے کو شہری علاقوں میں پولنگ کی رفتار کو کم کرنے کی ہدایت بھی کی تھی کیوں کہ ان علاقوں میں مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بنک زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر پولیس کی جانب سے شام چار بجے ہی پولنگ بند کرا دینے کا کہا گیا۔”

“پریزائیڈنگ افسران کو پولنگ اسٹیشنز سے ریٹرننگ افسر کے دفتر کے بجائے سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں لے جانے کے عمل میں بھی پولیس اہلکار ملوث تھے۔ وہاں ان سے بیگز زبردستی لینے اور پہلے سے بھرے ہوئے فارم 45 بھی انہیں پولیس کی طرف سے ہی دیے گئے۔”

رپورٹ کے مطابق بیشتر پریزائیڈنگ افسران اور دیگر انتخابی عملے کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس کی طرف سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

اس دھاندلی کا ماسٹر مائنڈ سمبڑیال کے ڈی ایس پی ذوالفقار ورک کو قرار دیا جا رہا ہے جنہیں ایک افسر کو طبی بنیاد پر رخصت کے بعد ڈسکہ کا اضافی چارج دیا گیا تھا۔

ذوالفقار ورک پر الزام ہے کہ وہ دھاندلی کے لیے منعقد ہونے والے تمام اجلاسوں میں شریک رہے اور اس کے بعد رات گئے 20 پریزائیڈنگ افسران کے غائب ہونے اور ان سے پولنگ بیگز چھیننے کے عمل کی نگرانی کر رہے تھے۔

جس رات یہ سب کچھ ہوا اس رات ذوالفقار ورک کا موبائل فون بند رہا اور ان کے مطابق وہ گھر پر ہی تھے۔ اتفاق سے ذوالفقار ورک کا گھر بھی اسی فیکٹری کے قریب تھا جہاں تمام پریزائیڈنگ افسران کو لے جایا گیا تھا۔

ذوالفقار ورک پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے دھاندلی کے عمل کے لیے مختلف اضلاع سے پولیس افسران کو اپنی مدد کے لیے بلایا تھا اور یہ افسران دھاندلی کے عمل میں شامل تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن ڈیوٹی میں ان اہلکاروں کا نام شامل نہیں تھا لیکن وہ دھڑلے سے ہر پولنگ اسٹیشن کے اندر جاتے رہے اور بعد میں پریزائیڈنگ افسران کو دھمکانے کا کام بھی کرتے رہے۔

ڈی ایس پی مظہر فرید کے بارے میں بتایا گیا کہ شہر میں فائرنگ کے بعد وہ پولیس کے ایس ایچ اوز کو جائے وقوعہ پر بلاتے رہے لیکن ان میں سے کوئی بھی موقع پر نہ پہنچا جس پر وہ خود وہاں پہنچے اور ملزمان کے حوالے سے معلومات ملنے پر انہیں پکڑنے جا رہے تھے کہ ڈی پی او کی طرف سے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ کو گرفتار کریں۔

مظہرفرید نے اپنے بیان میں بتایا کہ انہیں اگلی صبح بیس پریزائیڈنگ افسران کی بازیابی کا حکم ڈی پی او کی طرف سے ملا اور انہوں نے اپنے ایس ایچ اوز کو اس بارے میں ہدایت کی جس کے بعد انسپکٹر نعمان اور بدر منیر آدھے گھنٹے میں پریزائیڈنگ افسران کو لے کر ریٹرننگ افسر کے دفتر پہنچ گئے تھے۔

مظہر فرید نے اگرچہ خود کو معصوم قرار دیا لیکن وہ بھی ٹیکنالوجی کے باعث بچ نہ سکے کیوں کہ اس رات ان کی موبائل لوکیشن بھی اسی مقام کی آ رہی تھی جہاں تمام پریزائیڈنگ افسران موجود تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان افسران کے ساتھ ان کے لگاتار رابطوں کا ریکارڈ بھی موجود ہے جن پر پریزائیڈنگ افسران کے غائب ہونے اور بیگز چھیننے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔

فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ، الیکشن کمیشن کے افسران، پولیس اور محکمۂ تعلیم کے افسران سمیت سب پر ملی بھگت اور الیکشن میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کی مزید تحقیقات کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

Photo Credit : https://i.aaj.tv/primary/2021/11/618a22a667ac6.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.