ڈسکہ ضمنی انتخاب: تحریک انصاف کی درخواست مسترد، دوبارہ الیکشن کرانے کا فیصلہ برقرار

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی انتخاب دوبارہ کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ڈسکہ میں دوبارہ انتخاب کے الیکشن کمیشن کے حکم کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

عدالت نے جمعے کو اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ حلقے میں دوبارہ انتخاب ہو گا اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ انتخاب شفاف اور منصفانہ نہیں تھا۔

کمیشن نے تمام پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا تھا جب کہ حکمراں جماعت کے امیدوار علی اسجد ملہی نے کمیشن کے اس حکم نامے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

جمعے کو سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن ڈسکہ میں مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہا۔ پریزائیڈنگ افسران جس نے بھی غائب کیے اس نے انتخابی عمل کو دھچکا لگایا ہے۔ اگر انتخابی نتائج متاثر ہوں تو دوبارہ پولنگ ہو سکتی ہے۔

‘فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں’

​سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عثمان ڈار نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نون لیگ کی طرح اپنے خلاف آنے والے فیصلوں پر عدالتوں کے خلاف بات نہیں کریں گے۔

اس موقع پر ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں حکمراں جماعت کے امیدوار علی اسجد ملہی کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کا حق وہ رکھتے ہیں اور تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہی ان کی درخواست مسترد ہونے کی وجوہات سامنے آ سکیں گی۔

اسجد ملہی کا مزید کہنا تھا کہ ڈسکہ کے عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ ضمنی انتخاب میں کون جیتا اور کون ہارا۔

عدالتی فیصلے پر مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ڈسکہ کے عوام نے ضمنی انتخاب کے دوران اور بعد میں ووٹ پر پہرا دیا۔ پاکستان کے عوام جاگ چکے ہیں اور اپنا حق پہچانتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم عوام کے مینڈیٹ کو چوری کرنے والوں کے لیے واضح پیغام ہے اور یہ پیغام ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ (ن) پر جمعہ بھاری ہوتا ہے۔

ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں ہوا کیا تھا؟

این اے 75 کے ضمنی انتخاب میں اصل مقابلہ حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی اور حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار کے درمیان تھا۔

یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے رکنِ اسمبلی سید افتخار الحسن شاہ کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔

انیس فروری کو حلقے میں پولنگ کے دوران بدنظمی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے جب کہ فائرنگ کے واقعے میں دو افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔

حلقے میں 20 پریزائیڈنگ افسران کے مبینہ طور پر رات بھر غائب رہنے اور دیگر پولنگ اسٹیشنز میں 30 سے 35 فی صد جب کہ ان 20 پولنگ اسٹیشنز پر 85 فی صد ووٹنگ ٹرن آؤٹ ظاہر ہونے کے بعد دونوں بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے نتیجہ روک لیا تھا۔

لاپتا ہونے والے پریزائیڈنگ افسران سے متعلق کہا گیا تھا کہ وہ دھند کی وجہ سے بروقت نتیجہ جمع نہیں کرا سکے تھے۔

این اے 75 کے ریٹرننگ افسر نے الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہو کر اپنے بیان میں کہا تھا کہ پولنگ کے بعد صبح تین بج کر 37 منٹ تک 337 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج ‘آر ایم ایس’ میں جمع ہو چکے تھے جب کہ 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج نہیں مل رہے تھے۔

ان کے بقول 20 پریزائیڈنگ افسران سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ ایک پریزائیڈنگ افسر کے علاوہ کسی کا فون نہیں مل رہا تھا۔ یہ تمام 20 پولنگ اسٹیشنز 30 سے 40 کلو میٹر کے احاطے میں تھے۔

Photo Credit : https://www.twib.news/wp-content/uploads/2020/05/cropped-twib-good-news-only-you-can-divorce-your-husband-if-he-tries-to-take-your-property-rules-court-in-Pakistan-780×470.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: