چین کے دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے، تائیوان


چین اور تائیوان میں جاری حالیہ کشیدگی اور چینی صدر کے بیان کے بعد تائیوان کی صدر سائی انگ وین نے اتوار کو کہا ہے کہ تائیوان اپنے دفاع کو مستحکم کرتا رہے گا تاکہ کوئی انہیں مجبور نہ کرسکے کہ وہ چین کے بتائے راستے کو قبول کرے جہاں نہ آزادی ہے اور نہ ہی جمہوریت۔

تائیوان کی صدر کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ہفتے کو چین کے صدر شی جن پنگ نے تائیوان کو چین میں ضم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ چینی صدر نے اپنے بیان میں براہ راست طاقت کے استعمال کا ذکر نہیں کیا تھا۔

بیجنگ میں لوگوں کے عظیم ہال میں خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ ہمارہ ہند کے مطابق چینی عوام علیحدگی پسندی کی مخالفت کی ایک “شاندار روایت” رکھتے ہیں۔

انہوں نے 1911 میں آخری بادشاہت کو ختم کرنے والے انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر کہا تھا کہ ”تائیوان کی علیحدگی مادرِ وطن کے دوبارہ اتحاد کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور قومی تجدید کے لیے سب سے خطرناک اور پوشیدہ خطرہ ہے۔”

خیال رہے کہ چین تائیوان کو اپنا ہی صوبہ سمجھتا ہے اور اس کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اسے ایک نہ ایک نہ دن چین میں ضم کر لیا جائے گا کہ چاہے اس کے لیے طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

البتًہ تائیوان خود کو خود مختار ملک سمجھتا ہے اور اپنے دفاع کا عزم ظاہر کرتا رہا ہے۔

شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ”کسی کو بھی قومی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے چینی عوام کے ٹھوس عزم، پختہ ارادے اور مضبوط صلاحیت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔”

انہوں نے کہا کہ ”مادرِ وطن کے اتحاد کا عمل مکمل ہو گا اور یہ لازمی طور پر پورا کیا جائے گا۔”

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں تائیوان پر عسکری اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ وہ بیجنگ کی حکمرانی کو قبول کرے۔

چند روز قبل چینی فضائیہ کے کئی طیاروں نے تائیوان کے ایئر ڈیفنس زون میں پروازیں کی تھیں جس پر امریکہ نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

تائیوان کا کہنا ہے کہ صرف تائیوان کے عوام ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

قومی دن کی ریلی سے خطاب میں تائیوان کی صدر نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ آبنائے تائیوان کے پار کشیدگی میں کمی ہو گی اور تائیوان ‘عجلت میں ردِعمل’ نہیں دے گا۔

البتہ انہوں نے یہ واضح کیا کہ ”اس میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ تائیوان کے عوام دباؤ کے آگے جھک جائیں گے۔”

ان کا کہنا تھا کہ ”ہم اپنے قومی دفاع کو مستحکم کرنا جاری رکھیں گے اور خود اپنا دفاع کرنے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی تائیوان کو مجبور نہ کر سکے کہ وہ اس راستے کو اختیار کرے جو چین نے اس کے لیے تیار کیا ہے۔”

ان کے بقول ”اس کی وجہ یہ ہے چین نے جو راستہ تیار کیا ہے وہ نہ تائیوان کے لیے آزاد اور جمہوری طرزِ زندگی ہے نہ اس کے دو کروڑ 30 لاکھ لوگوں کے لیے خود مختاری ہے۔”

چین نے تائیوان کے لیے ‘ایک ملک دو نظام’ کا خود مختاری کا ماڈل پیش کیا ہے۔ جس سے ملتا جلتا ماڈل وہ ہانگ کانگ میں استعمال کرتا ہے۔ لیکن تائیوان کی تمام بڑی جماعتوں نے اس ماڈل کو خاص طور پر چین کے ہانگ کانگ میں سیکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد مسترد کیا ہے۔

سائی نے چین کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات چیت کی پیش کش کو دوہرایا ہے۔ البتہ بیجنگ کی جانب سے تائیوان کی صدر کی تقریر پر فوری طور پر کوئی ردِ عمل نہیں سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ بیجنگ سائی کے ساتھ معاہدے سے انکاری ہے اور انہیں علیحدگی پسند قرار دیتا ہے جو تائیوان کو ”ایک چین” کا حصہ تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں جب کہ چین تائیوان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔

تائیوان کی صدر نے خبردار کیا کہ تائیوان کی صورتِ حال ‘گزشتہ 72 برسوں کے کسی بھی موقع کے مقابلے زیادہ پیچیدہ ہے’ اور تائیوان کی فضائی دفاعی حدود میں چین کی معمول کی فوجی موجودگی قومی سلامتی اور ہوا بازی کے تحفظ کو متاثر کر رہی ہے۔

Photo Credit : https://feeds.abplive.com/onecms/images/uploaded-images/2021/10/10/fe10dd3d0fc42f3d49c7fdcfc1550951_original.jpg?impolicy=abp_images&imwidth=720

Leave a Reply

Your email address will not be published.