چین کا امریکہ اور مغربی ملکوں سے طالبان سے بات چیت کرنے اور پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ

چین نے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کا مؤثرطریقے سے تحفظ کریں اور اس مطالبے کا اعادہ کیا کہ تنازع کے شکار ملک کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں اٹھائی جائیں، تاکہ، بقول اس کے، منڈلاتے ہوئے معاشی بحران کی صورت حال کا مقابلہ کیا جا سکے۔

حکام کے مطابق، چینی وزیر خارجہ وینگ یی نے یہ بات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان راہنماؤں کے ساتھ ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر منگل کے روز کہی ہے۔ طالبان اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ان کے اعلیٰ سطحی وفد میں نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر اور وزیر خارجہ امیر خان متقی شامل تھے۔

اجلاس کے بعد وینگ کے حوالے سے جاری ہونے والے چین کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”چین کو اس بات کی توقع ہے کہ طالبان وسیع النظری اور جامع سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے تمام نسلی گروہوں اور دھڑوں کو متحد رکھیں گے، تاکہ مل کر پر امن تعمیر نو کا کام انجام دیا جاسکے”۔

وینگ نے اس بات پر زور دیا کہ ”وہ (طالبان) خواتین اور بچوں کے مفادات اور حقوق کے مؤثر طریقے سے تحفظ کو یقینی بنائیں گے، اور ایک جدید ملک تعمیر کریں گے، جو عوام کی امنگوں کا آئینہ دار ہو اور بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہو”۔

چین کے اعلیٰ ترین سفارت کار نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی حمایت کریں تاکہ ”انسانی ہمدردی کی نوعیت کے بحران، معاشی افراتفری، دہشت گردی کے خطرات اور حکمرانی کو لاحق مشکلات” پر قابو پانے میں ان کی مدد کی جائے؛ تاکہ ملک کو ترقی کی درست راہ پر گامزن کرنے میں مدد دی جا سکے”۔

وینگ نے مزید کہا کہ ”چین مغربی ممالک، جن کی قیادت امریکہ کرتا ہے، پابندیاں اٹھالیں؛ اور تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ دانشمندی اور عملیت پسندی کا انداز اپنانے میں مدد کے دینے کے لیے افغان طالبان سے بات چیت کریں”۔

طالبان نے اگست میں دوبارہ ملک کا کنٹرول سنبھالا، لیکن انسانی حقوق اوردیگر خدشات کی بنا پر، انھیں افغان مرکزی بینک کے تقریباً 10 ارب ڈالر مالیت کے بیرونی اثاثوں تک رسائی سے محروم کیا گیا، جن میں زیادہ تر رقوم امریکی فیڈرل رزور میں پڑی ہیں۔

ان پابندیوں کی وجہ سے افغانستان کی معیشت کے بدحال ہونے کے اندیشوں نے جنم لیا، جس کے بارے میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ چار عشروں سے زیادہ عرصے کے دوران جاری رہنے والے مہلک تنازعے اور قدرتی بحرانوں کی بنا پر خوراک کی کمی کا بحران پیدا ہوا ہے جو لاکھوں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

اقوام متحدہ کے حکام نے کہا ہے کہ اگر فوری امداد فراہم نہ کی گئی تو اس موسم سرما کے دوران افغانستان دنیا کے سب سے بڑے بحران کی نذر ہو جائے گا، جب اس کی نصف سے زیادہ آبادی، یعنی تقریباً دو کروڑ 30 لاکھ لوگ، خوراک کی سنگین قلت کا شکار ہوں گے۔

منگل کے اس بیان میں برادر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھوں نے وینگ کو اس بات کا یقین دلایا کہ طالبان ”جامع حکومت سازی” کے لیے کوشاں ہیں، اور تمام افغان نسلوں کے لوگوں کی حکومت میں شرکت کو یقینی بنائیں گے، تاکہ آئندہ کی حکمرانی میں سب کو شامل کیا جاسکے۔

برادر کا کہنا ہے کہ افغان طالبان عورتوں اور بچّوں کے حقوق اور مفادات کا خیال رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ان کو کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم نہیں رکھنا چاہتے۔

انہوں نے چین کے وفد کو آگاہ کیا ہے کہ خواتین نے طبی اداروں، ہوائی اڈوں اور دیگر مقامات پر دوبارہ اپنا کام سنبھال لیا ہے، جبکہ کئی صوبوں میں لڑکیوں نے سکول جانا شروع کر دیا ہے۔ برادر نے توقع ظاہر کی ہے کہ بین الاقوامی امداد میں اضافے کے بعد درپیش چیلنجوں سے نمٹا جا سکتا ہے۔

طالبان حکام نے چینی وفد کے ساتھ مذاکرات کو سود مند قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے دو طرفہ سفارتی تعلقات، تجارت اور چین میں افغان طلباء کے لیے مواقع کے امکانات پر بات کی ہے۔

طالبان کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ فریقین نے باہمی تعاون بڑھانے کے سلسلے میں مشترکہ میٹنگ کے انعقاد پر اتفاق کیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ چین نے 60 لاکھ ڈالر کی انسانی ہمدردی کی اضافی امداد کا وعدہ کیا ہے، جس میں ادویات اور خوراک کی ترسیل بھی شامل ہے۔

چین 30 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی امداد کا پہلے ہی وعدہ کر چکا ہے۔ وینگ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین کو امید اور یقین ہے کہ طالبان چین مخالف ‘مشرقی ترکستان اسلامی تحریک’ اور دیگر دہشت گرد گروپوں سے واضح طور پر قطع تعلق کر کے، ان کے خلاف بھرپور کارروائی کریں گے۔

برادر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برادر نے وینگ کو یقین دلایا ہے کہ طالبان چین کے سیکورٹی سے متعلق خدشات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں گے اور چین کے خلاف کسی کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

چین کے صدر شی اور پاکستان کے وزیر اعظم نے منگل کو ایک مشترکہ اپیل میں عالمی برادری سے افغانستان کے لیے فوری انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور اقتصادی امداد کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے دفتر نے بتایا کہ عمران خان نے صدر شی سے فون پر افغانستان کے مسئلے پر بات کی ہے۔

Photo Credit : https://cdn-japantimes.com/wp-content/uploads/2021/08/np_file_108034.jpeg

Leave a Reply

Your email address will not be published.