چین نے ’ہواوے‘ کی اعلیٰ عہدیدار کی رہائی پر کینیڈا کے زیرِ حراست دو شہریوں کو آزاد کر دیا

کینیڈا کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی کمپنی ’ہواوے‘ کے ایگزیکٹو مینگ وانزو کو رہا کرنے کے بعد چین نے دو کینیڈین شہریوں کو آزاد کر دیا ہے۔

تینوں افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہفتے کے روز اپنے اپنے وطن واپس پہنچ جائیں گے۔

یاد رہے کہ 2018 میں کینیڈا کے شہری مائیکل سپاور اور مائیکل کورگ کو چین میں تب گرفتار کیا تھا جب اس سے دو ہفتے قبل ہواوے کی مینگ وانزو کو امریکہ نے تحویل میں لینے کی کینیڈا سے درخواست کی تھی۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک بیان میں ان دو کینیڈین شہریوں کے بارے میں کہا کہ انہوں نے گزشتہ ایک ہزار ایام کے دوران بہادری اور صبر کا مظاہرہ کیا۔

اس سے چند گھنٹوں پہلے مینگ وانزو کا امریکہ کے محکمۂ انصاف کے ساتھ معاہدہ طے پایا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ ہواوے کی خاطر بینکوں کے ساتھ لین دین میں فراڈ کی مرتکب ہوئی تھیں۔

امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹنی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی حکومت عالمی برادری کے ساتھ چین کے اس فیصلے کو خوش آمدید کہتی ہے جس میں انہوں نے کینیڈا کے شہریوں مائیکل سپاور اور مائیکل کوورگ کو ڈھائی برس بعد بلاجواز حراست سے آزاد کیا۔

مائیکل کوورگ کینیڈا کے سابق سفیر ہیں اور وہ برسلز سے تعلق رکھنے والے انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مطابق وہ بین الاقوامی طور پر جنگ کو روکنے اور ایسی پالیسیاں بنانے میں مدد دینے کے لیے بنا ہے جس سے دنیا پہلے سے زیادہ پر امن بن سکے۔

کرائسس گروپ کی عبوری نائب صدر کمفرٹ ایرو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ دن جس کا ہم 1020 ایام سے انتظار کر رہے تھے وہ آگیا ہے۔ مائیکل کوورگ آزاد ہو گئے ہیں۔

Photo Credit : https://img.visiontimes.com/2021/09/GettyImages-11288609161.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.