چین خود کو ترقی یافتہ ملک کہلوانے سے کیوں انکار کر رہا ہے؟

چین خود کو ترقی یافتہ ملک کہلوانے سے کیوں انکار کر رہا ہے؟

اس رپورٹ کا عنوان کوئی مذاق نہیں ہے، تاہم شاید ہمار ےبہت سے قارئین کو یہ ایک دلچپ بلکہ عجیب بات لگے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے چین کو ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے نکال کر ترقی یافتہ ملک بنانے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ لیکن چین نے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور ترقی یافتہ یا ’”امیر”‘ ممالک کی صف میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

اس بارے میں مارچ میں امریکی ایوان نمائندگان کی ووٹنگ بھی متفقہ تھی اور اسی طرح چین کا برہم ردعمل بھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ امریکی قانون سازوں کی جانب سے سرکاری ترقیاتی پیمانے پر چین کی حیثیت کو بڑھانے کی کوشش تھی جس نے بیجنگ کو مشتعل کردیا۔

حیران نہ ہوں بات صرف اتنی ہے کہ خود کو ترقی یافتہ ملک کا درجہ دینے میں دنیا کی اس دوسری سب سے بڑی معیشت کے لیے اہم اقتصادی اور جغرافیائی مسائل داؤ پر ہیں۔

چین گزشتہ چند سالوں سے خود کو ایک بڑی عالمی طاقت قرار دے رہا ہے اور ’’عظیم طاقت کی سفارت کاری‘‘ کو اپنا رہا ہے۔ لیکن یہ ردعمل ’’جیو پولیٹیکل‘‘ پیمانے پر ہے۔

جب بات ڈالر اور سینٹ کی ہو تو، دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت دنیا کے ترقی پذیر ملکوں کے ساتھ شامل رہنے کو ترجیح دیتی ہے۔

27 مارچ کو، امریکی کانگریس کے ایوان زیریں نے متفقہ طور پر ایک بل کی منظوری دی جس میں چین کو اس کے ’’ترقی پذیر ملک‘‘ کی حیثیت سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بل 1107 جس میں امریکی وزیر خارجہ سے عوامی جمہوریہ چین (پی آر سی) سے اس کے ’’ترقی پذیر ملک‘‘ کا درجہ ختم کرنے کے لیے کام کرنے کو کہا گیا تھا،صفر کے مقابلے میں 415 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔

چین کا ردعمل

یہ اب معاملہ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے پاس چلا گیا ہے اور امریکی صدر کے اس پر دستخط کرنا ابھی بہت دور کی بات ہے، لیکن چین کی طرف سے ردعمل تقریباّ فوری تھا۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کے سرکاری روز نامے چائنا ڈیلی نے کہا، ’’یہ اس امریکی پالیسی کی ایک اور مثال ہے جس کا مقصد چین کو روکنا ہے‘‘۔

چائنا ڈیلی کے ردعمل کا لب لباب یہ تھا کہ امریکہ کو آگے بڑھتے ہوئے چین اور ایک ایسی دنیا کے خاتمے کا سامنا ہے، جس کاواحدمحور امریکہ تھا اوراب جس کثیر قطبی دنیا میں چین ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، امریکہ اسے روکنے کے لیے ہر حربےکا استعمال کر رہا ہے۔

یہاں تک کہ ہانگ کانگ کے ایک زیادہ غیر جانبدار وزنامہ ’’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘‘ نے خبردار کیا کہ ایوان کے ووٹ کو ’’ بیجنگ میں واشنگٹن کی طرف سے ملک کی ترقی کو روکنے اور اسے دبانے کی ایک اور چال کے طور پر دیکھا جائے گا‘‘۔

امریکی موقف

ووٹ کے دن ایوان سے خطاب کرتے ہوئے، کیلیفورنیا کی ریپبلکن اور اس اقدام کے اسپانسر ینگ کم نےتوجہ دلائی کہ چین کو ترقی پذیر ملک کی حیثیت کی وجہ سے بین الاقوامی اداروں میں ترجیحی سلوک حاصل ہے۔

کم نے کہا، ’’عوامی جمہوریہ چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے، جس کا عالمی معیشت میں 18.6 فیصد حصہ ہے۔”تاہم، اس کی درجہ بندی ایک ترقی پذیر ملک کے طور پرکی گئی ہے، اور وہ اس حیثیت کو نظام کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور ان ممالک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو واقعی ضرورت مند ہیں‘‘۔

کوئی ملک ’’ترقی یافتہ‘‘ ہے یا ’’ترقی پذیر‘‘ے اس کی پیمائش کرنے کے لیے کوئی عالمی سطح پر متفقہ پیمانہ نہیں ہے۔پچھلی چند دہائیوں کے دوران، ’’ترقی پذیر ملک‘‘ گروپ بندی کے ارد گرد کی اصطلاحات ، بات چیت اور کبھی کبھار اختلاف کی وجہ رہی ہیں، جو ’’کم ترقی یافتہ ممالک (آئی ڈی سی ایس)‘‘ے زیادہ قابل قبول اصطلاح ’’ترقی پذیر ممالک‘‘میں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔

بتاتے چلیں کہ جنوبی ایشیا میں ترقی پذیر ملکوں میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت خطے کے تمام ہی ملک شامل ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں امریکہ کے علاوہ بیشتر ملکوں کا تعلق مغربی یورپ سے ہے، گوگل پر جاکر آپ تمام نام دیکھ سکتے ہیں۔

تصویر کریڈٹ : https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/e/ed/Shanghai_skyline_2018%28cropped%29.jpg