چیئرمین نیب کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ ڈیڈلاک برقرار، حکومت کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی مدتِ ملازمت ختم ہونے پر نئے چیئرمین کی تعیناتی یا موجودہ چیئرمین کی توسیع کے معاملے پر حزبِ اختلاف اور حکومت کے درمیان ڈیڈ لاک بدستور برقرار ہے۔ ایسے میں آرڈیننس کے ذریعے موجودہ سربراہ نیب جاوید اقبال کو آئندہ چار سال تک توسیع دینے پر غور بھی کیا جا رہا ہے۔

چیئرمین نیب کی مدتِ ملازمت آٹھ اکتوبر 2021 کو پوری ہو رہی ہے اور آئینی ضرورت کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف کے ساتھ مشاورت کا عمل اب تک شروع نہیں ہو سکا ہے۔ حکومت نے واضح اعلان کیا ہے کہ شہباز شریف کے ساتھ مشاورت نہیں کی جائے گی کیوں کہ ان کے خلاف نیب میں کیسز چل رہے ہیں۔

اس صورتِ حال میں حکومت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے جن میں سے ایک آپشن یہ بھی دیا جا رہا ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر دونوں سے چیئرمین نیب کی تعیناتی کا اختیار لے کر صدرِ مملکت کو تفویض کر دیا جائے۔

اسی طرح اس آپشن پر بھی غور ہو رہا ہے کہ موجودہ چیئرمین نیب کو آرڈیننس کے ذریعے اگلے چیئرمین کی تعیناتی تک کام کرنے کی اجازت دے دی جائے، اس میں مدت کا ذکر نہ کیا جائے اور حکومت اپنی مرضی سے موجودہ چیئرمین نیب کو اس عہدہ پر برقرار رکھے۔

مبصرین اور سینئر وکلا کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے مشاورت کا عمل نہ کرنا افسوسناک ہے۔ قائد حزب اختلاف کی مشاورت کے بغیر موجودہ چیئرمین کو توسیع دینا یا کسی اور کو لگانا خلافِ قانون ہو گا جو سپریم کورٹ کی طرف سے مسترد کیا جا سکتا ہے۔

چیئرمین ​نیب کی تعیناتی کا طریقۂ کار

چیئرمین نیب کو قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں سال 2016 میں کی گئی آئینی ترمیم کے مطابق صدرِ پاکستان تعینات کریں گے۔ وزیرِ اعظم بطور قائدِ ایوان، قائد حزبِ اختلاف سے مشاورت کے بعد چیئرمین نیب کا فیصلہ کریں گے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر یاسین آزاد اس بارے میں کہتے ہیں کہ آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ چیئرمین نیب، چیف الیکشن کمشنر اور اراکین الیکشن کمیشن کے تقرر کے لیے قائد ایوان یعنی وزیرِ اعظم اور قائدِ حزب اختلاف کے درمیان مشاورت ہونا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی تعیناتی نہیں ہو سکتی۔

ان کے بقول، لیکن ایسا کہا جا رہا ہے کہ چیئرمین نیب کو توسیع دی جا رہی ہے یا کوئی آرڈیننس جاری کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی آرڈیننس جاری ہو بھی جاتا ہے تو وہ صرف چار ماہ کے لیے ہی قابلِ استعمال ہوگا، اس کے بعد کیا کیا جائے گا؟

دوسری جانب حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق قائدِ حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی کوئی نام فائنل کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ طور پر آئین میں درج ہے، اس کے علاوہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔

حامد خان کا کہنا تھا حکومت کا یہ مؤقف درست نہیں کہ قائد حزب اختلاف سے نیب کیسز کی وجہ سے مشاورت نہیں کی جا سکتی، آئین میں جب درج ہے کہ مشاورت کے بغیر تعیناتی نہیں ہوسکتی تو اس پر عمل کیا جائے کیوں کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ کیسز کی بنیاد پر آپ مشاورت نہیں کرسکتے، وہ عدالت سے سزا یافتہ نہیں، ابھی کیسز چل رہے ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اس وقت موجودہ وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن میں زیرِ التوا ہے۔ اگر ان کے خلاف کیس چلتے ہوئے وہ چیئرمین الیکشن کمیشن کا تقرر کر سکتے ہیں تو پھر ایسا ہی معاملہ چیئرمین نیب کے تقرر میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے ساتھ بھی ہے۔ ان کے خلاف کیسز چل رہے ہیں اور ابھی کسی کیس کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں ان کے ساتھ مشاورت نہ کرنا غیر آئینی ہو گا۔

ان کے بقول، اگر حکومت نے اس مشاورت کے بغیر کوئی تقرر کیا تو معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا اور مزید مسائل سامنے آئیں گے۔

احمد بلال محبوب نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے وقت بھی ایسے ہی مسائل سامنے آئے تھے۔ موجودہ چیئرمین ای سی پی اور دو اراکین کی تقرری کے لیے بھی وزیرِاعظم نے مشاورت سے انکار کیا لیکن بعد میں انہوں نے خط لکھا اور مشاورت کے بعد سکندر سلطان راجا کے نام پر اتفاق رائے سے منظوری دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم اس سے قبل بھی اعتراضات کرتے رہے ہیں کہ اپوزیشن کے لوگوں پر کیسز ہیں اس وجہ سے ان سے مشاورت نہیں ہوسکتی لیکن آئین میں اپوزیشن لیڈر کے خلاف کیسز کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ صرف اپوزیشن لیڈر لکھا ہے، لہٰذا مشاورت ضروری ہے۔

کیا چیئرمین ​نیب کو توسیع دی جاسکتی ہے؟

چیئرمین نیب کی توسیع سے متعلق پاکستانی ذرائع ابلاغ میں مختلف حکومتی ذرائع سے خبریں آ رہی ہیں۔ حکومتی وزرا بھی اس بارے میں متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ چیئرمین نیب کی توسیع کا معاملہ کابینہ میں زیرِ بحث آیا ہے لیکن اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری سے ایک نیوز کانفرنس میں جب یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر اس بات کا جواب نہیں دے سکتا کہ توسیع ہو رہی ہے یا نہیں۔

اگر آئین اور قانون کے مطابق دیکھا جائے تو نیب ترمیمی آرڈیننس کی شق چھ میں تقرری کا طریقہ تو لکھا ہے لیکن توسیع کے حوالے سے کوئی بات موجود نہیں ہے۔

سینئر وکیل حامد خان کہتے ہیں کہ قانون میں توسیع کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لیکن اگر ایسا کیا جاتا تو یہ اصل قانون کی روح کے خلاف ہو گا۔ حکومت جو بھی کرنا چاہتی ہے آرڈیننس کے ذریعے کرنا چاہتی ہے، آرڈیننس کے ذریعے ایسا ممکن تو ہے لیکن یہ احتساب کے قانون کی روح کے خلاف ہو گا۔

سینئر وکیل یاسین آزاد کہتے ہیں کہ ‘قائد حزب اختلاف کا عہدہ ایک سینئر وزیر کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن اس عہدے کو متنازع بنا کر ان سے مشاورت سے احتراز برتا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن میں دو اراکین کا تقرر جو 45 دن کے اندر ہونا ضروری تھا ڈیڑھ سال تک تعطل کا شکار رہا۔ وجہ صرف اور صرف مشاورت تھی جو حکومت کرنے کو تیار نہ تھی۔’

احمد بلال محبوب کے خیال میں قانون میں توسیع کی کوئی گنجائش نہیں اور اگر ایسی کوئی قانون سازی کی گئی تو وہ بھی عدالت میں چیلنج کی جائے گی کیوں کہ ایسا سب کچھ ایک انفرادی شخص کے لیے کیا جارہا ہے۔ اس پر لازمی سوال اٹھے گا۔

حکومت کن آپشنز پر غور کر رہی ہے؟

حکومت کی طرف سے اگرچہ آرڈیننس کے ذریعے توسیع دینے کی بات کی جارہی ہے لیکن یہ آرڈیننسز کس بنیاد پر اور کیا قانون لے کر آئیں گے اس بارے میں حکومت ابھی تک کام کر رہی ہے۔

نیب کی تقرری میں ایک اہم شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہمارہ ہند کو بتایا کہ حکومت اس وقت مشاورت نہیں کرنا چاہتی۔ اس لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے ، جن میں سے ایک یہ ہے کہ موجودہ چیئرمین کو ایک آرڈیننس کے ذریعے تقرری کا عمل مکمل ہونے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت دی جائے۔ کوئی وقت مقرر نہیں کیا جائے گا اور صرف موجودہ چیئرمین نیب عہدے پر رہ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کا کام جاری رکھنے کے لیے چیئرمین کی موجودگی ضروری ہے۔ کوئی بھی ریفرنس چیئرمین کے دستخط کے بغیر دائر نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے میں حکومت کہہ سکتی ہے کہ ماضی میں مشاورت کا عمل اس وقت کے وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی اور خورشید شاہ کے درمیان ہو چکا ہے۔ لہٰذا مزید مشاورت کی ضرورت نہیں ہے اور ایک ہی شخص ہونے کی وجہ سے مشاورت کا عمل مکمل سمجھتے ہوئے ان کی تعیناتی کو برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ آرڈیننس کی مدت کے درمیان اپوزیشن کو خط لکھا جائے گا اور اگر اپوزیشن اس بارے میں متفق نہ ہوئی تو اس پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر نئی قانون سازی بھی کی جاسکتی ہے۔

اس بارے میں مبصرین مثال دیتے ہیں کہ ماضی میں وفاقی محتسب رہنے والے سلیمان فاروقی ریٹائرمنٹ کے چار سال بعد تک اس عہدہ پر برقرار رہے تھے۔ ان کے علاوہ موجودہ محتسب طاہر شہباز بھی ریٹائر ہونے کے بعد کام کر رہے ہیں۔

ان کے بقول، اس کے علاوہ ایک دوسرا آپشن یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے چیئرمین نیب کی تعیناتی کا اختیار وزیرِاعظم اور اپوزیشن لیڈر دونوں سے لے کر صدرِ مملکت کو دے دیا جائے اور وہ اس بارے میں نئے نام کا تقرر کردیں۔ اس عمل سے اپوزیشن کی تنقید پر حکومت کے پاس واضح جواب ہوگا کہ کیوں کہ وزیراعظم نے بھی اپنا اختیار سرنڈر کردیا ہے لہٰذا اپوزیشن لیڈر کا اختیار ختم ہونے پر تنقید بلا جواز ہے۔

اس تجویز کے بارے میں پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے کہا کہ حکومت کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ وہ آرڈیننس کے ذریعے کوئی بھی قانون سازی کرسکتی ہے لیکن اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

اگر اس تجویز کے مطابق صدر کو اختیار دیا جارہا ہے تو موجودہ پارلیمانی قوانین اور اصولوں کے مطابق صدر وزیراعظم کی سفارش پر ہی کوئی حکم جاری کرسکتے ہیں۔ اگر حکومت نے وزیرِ اعظم سے اختیار لے کر صدر کو دیا تو اس سے ایک مختلف روایت سامنے آئے گی، تاہم ایسا ممکن ہے۔


Photo Credit : https://i.dawn.com/primary/2021/07/60ecf9245cb4e.png

Leave a Reply

Your email address will not be published.