چیئرمین سینیٹ کس کا ہوگا، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلہ متوقع

پاکستان کے سینیٹ انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف ایوان بالا کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ لیکن اب بھی حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اراکین کی تعداد ایوان میں اس سے زیادہ ہے۔

سینیٹ انتخابات کے ہنگامہ خیز نتائج کے بعد اب سیاسی جماعتوں کی نظریں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کی اسلام آباد سے کامیابی کے بعد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلہ ہو گا۔

سینیٹ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد حزبِ اختلاف نے وزیرِ اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

پیپلزپارٹی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے سینیٹ انتخاب کا بڑا معرکہ جیت کر اپ سیٹ کرنے والے سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا انتخاب لڑانے کا عندیہ دیا ہے۔

تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں وفاقی دارالحکومت کی نشست پر یوسف رضا گیلانی نے مشیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی ہے، جسے ایک بڑے اپ سیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر وزیرِ اعظم عمران خان نے موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو دوبارہ بطور چیئرمین سینیٹ امیدوار نامزد کیا ہے۔

تجزیہ کار نصرت جاوید کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف سینیٹ انتخابات میں اپنی متوقع نشستوں سے کم نشستیں حاصل کر پائی اور موجودہ حالات میں حکومت کے لیے اپنی پسند کا چیئرمین سینیٹ منتخب کروانا بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے۔

پاکستانی تجزیہ کار اور ‘پاکستان ٹو ڈے’ کے مدیر عارف نظامی کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس ایوانِ بالا میں چیئرمین منتخب کروانے کے لئے اکثریت موجود نہیں ہے۔

عارف نظامی کہتے ہیں کہ اپوزیشن بظاہر متحد دکھائی دے رہی ہے اور ان کے پاس عددی اکثریت بھی ہے۔

عارف نظامی کے بقول اکثریت رکھنے کے سبب یوسف رضا گیلانی اگر چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جاتے ہیں تو یہ حکومت کے لیے ایک سیٹ بیک ہو گا لیکن ایسا نہیں ہو گا کہ حکومتی امور اور قانون سازی رک جائے گی۔

‘اعتماد ووٹ سے نہیں کارگردگی سے بحال ہو گا’

وزیرِ اعظم عمران خان نے سینیٹ انتخابات میں مشیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی شکست کے بعد قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا تھا۔ وزیرِ اعظم کی سفارش پر صدر عارف علوی نے اعتماد کے ووٹ کے لیے ہفتے کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

سینیٹ انتخابات کے بعد ایوانِ بالا میں پارٹی پوزیشن

گزشتہ روز کے انتخابات میں حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے مجموعی طور پر 18 نئی نشستیں حاصل کی ہیں جب کہ پہلے سے سینیٹ میں موجود آٹھ نشستوں کے ساتھ پی ٹی آئی 26 نشستوں کے ساتھ ایوان بالا کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

حکومتی اتحادی جماعتیں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی 12 نشستیں ہو گئی ہیں جب کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹ میں تین اراکین ہیں۔

مسلم لیگ (ق) اور گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کو سینیٹ کی ایک ایک نشست ملی ہے اس کے علاوہ حکومت کو چار آزاد سینیٹرز کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اور یوں 100 ارکان کے ایوان میں حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 47 ہو گئی ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی 20 نشستوں کے ساتھ ایوانِ بالا کی دوسری بڑی جماعت کے طور پر برقرار ہے۔

مسلم لیگ ن کی ایوان بالا میں 18 نشستیں ہو گئی ہیں اور وہ سینیٹ میں پہلے سے تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام نے تین نشستیں حاصل کیں ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی( مینگل) پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی کی سینیٹ میں دو، دو نشستیں ہیں۔ جب کہ اپوزیشن اتحاد کو دو آزاد ارکان کی حمایت بھی حاصل ہے۔

اس طرح سینیٹ انتخاب 2021 کے بعد اپوزیشن اتحاد کے ارکان کی تعداد 53 ہو گئی ہے اور اسے حکومتی اتحاد پر چھ ارکان کی برتری حاصل ہے۔

Photo Credit : https://i.tribune.com.pk/media/images/1065281-parliament-1457911122/1065281-parliament-1457911122.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: