‘پی ٹی وی والے کون ہیں جو مجھے آف ائیر کرتے ہیں’: شعیب اختر


پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اسٹار بالر شعیب اختر اور پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے اینکر نعمان نیاز کے درمیان تنازع طوالت اختیار کر رہا ہے اور تحقیقاتی کمیٹی نے دونوں کو تحقیقات مکمل ہونے تک آف ایئر کر دیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کی تحقیقاتی کمیٹی کے فیصلے پر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ انہیں آف ایئر کرنے کا فیصلہ مضحکۂ خیز ہے کیوں کہ ان کے بقول “پی ٹی وی والے مجھے آف ایئر کرنے والے کون ہوتے ہیں۔”

دوسری جانب پی ٹی وی کا کہنا ہے کہ شعیب اختر اور نعمان نیاز پی ٹی وی کے کنٹریکٹ ملازمین ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی یکطرفہ طور پر کنٹریکٹ ختم کر کے ملازمت ختم نہیں کرسکتا۔ انہیں مستعفی ہونے کے لیے قانونی طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔

پی ٹی وی پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کی خصوصی ٹرانسمیشن کے دوران اینکر نعمان نیاز کی طرف سے شعیب اختر کو لائیو پرواگرام سے چلے جانے کا کہنے والا معاملہ بڑھتا جا رہا ہے۔

اس واقعے پر شعیب اختر کے ساتھ زیادہ تر افراد کی ہمدردیاں ہیں تاہم اسپورٹس اینکر نعمان نیاز نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ کہانی کا ایک رخ ہمیشہ اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

اس معاملے پر پی ٹی وی کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس جمعرات کو ہوا جس میں منیجنگ ڈائریکٹر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں شعیب اختر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا جائزہ لیا گیا اور اس واقعے کی ٹرانسمیشن کی آن ایئر اور آف ایئر تمام ریکارڈنگ دیکھی گئی جب کہ ڈاکٹر نعمان نیاز سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔

اجلاس کے دوران اینکر نعمان نیاز کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا جب کہ شعیب اختر نے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ وہ کسی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے کیوں کہ ان کے بقول جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے لہٰذا ویڈیوز دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں چلنے والی خبروں کے مطابق اینکر نعمان نیاز کو جب ان کی جگہ کسی اور اینکر کو لانے کا کہا گیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ پروگرام خود نہ کرسکا تو کسی اور کو بھی کرنے نہیں دوں گا۔

تحقیقاتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پاکستان ٹیلی ویژن کی طرف سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک انکوائری مکمل نہیں ہو جاتی اور واقعے سے متعلق حقائق واضح نہیں ہوجاتے اس وقت تک دونوں افراد پی ٹی وی کے کسی بھی پروگرام کا حصہ نہیں ہوں گے۔

شعیب اختر نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ “میں نے پی ٹی وی سے 22 کروڑ پاکستانی عوام اور دنیا بھر میں اربوں افراد کے سامنے استعفیٰ دیا تھا۔ کیا پی ٹی وی پاگل ہوگیا ہے؟ یہ مجھے کیسے آف ایئر کرسکتے ہیں۔”

تنازع کہاں سے شروع ہوا تھا؟

نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان منگل کو ہونے والے میچ کے دوران پاکستان ٹیلی ویژن کی براہِ راست نشریات کے دوران شعیب اختر فاسٹ بالر حارث رؤف کی تعریف کر رہے تھے۔ شعیب اختر کی بات کے دوران ہی اینکر نعمان نیاز ان سے کہتے ہیں کہ ”آپ کا رویہ تھوڑا نامناسب ہو رہا ہے اور اگر آپ زیادہ ہوشیار بن رہے ہیں تو آپ جا سکتے ہیں۔ یہ میں آن ایئر کہہ رہا ہوں۔”

نعمان نیاز کی بات پر شعیب اختر تین بار ‘ایکس کیوز می’ کہتے ہیں۔ لیکن اینکر نعمان نیاز ان کی بات سننے کے بجائے پروگرام میں بریک لے لیتے ہیں۔

پروگرام کے وائرل کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شعیب اختر نعمان نیاز کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ صرف ان کی ٹانگ کھینچ رہے تھے اور جو کچھ بھی ہوا وہ پہلے سے طے شدہ تھا۔

شعیب اختر نے اینکر نعمان نیاز کو معذرت کرنے کا کہا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد دورانِ پروگرام شعیب اختر شرکا سے معذرت کرتے ہوئے پی ٹی وی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہیں۔

پروگرام کے میزبان ڈاکٹر نعمان کی کئی حلقوں کی جانب سے مذمت کی گئی جب کہ سوشل میڈیا پر بدھ سے ‘شعیب اختر’ کا نام ٹرینڈ کر رہا ہے جہاں بعض ٹوئٹر صارفین نے نعمان نیاز کی حمایت میں بھی ٹوئٹس کیے۔

ایک ٹوئٹر صارف نے سوال اٹھایا کہ جو کچھ ہوا وہ اصل تھا یا نہیں؟ شعیب اختر توجہ حاصل کرنے کے لیے وزیرِ داخلہ شیخ رشید کی طرح کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

سیاست دانوں، صحافیوں اور عوام کی جانب سے شعیب اختر کی مکمل حمایت اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر شعیب اختر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر انہوں نے پاکستان کے کئی سیاست دانوں اور اداکاروں کے بیانات ری ٹوئٹ بھی کیے ہیں جن میں ان کی حمایت کی گئی تھی۔

جن سیاست دانوں نے شعیب اختر کی حمایت کی اور ان کے موقف کو درست قرار دیا ان میں وفاقی وزیر شبلی فراز، علی محمد خان، گورنر سندھ عمران اسمعیل، علی حیدر زیدی اور کئی مشہور شخصیات شامل ہیں۔

Photo Credit : https://circleofcricket.com/post_image/post_image_8c37388.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.